گیس مہنگی ہو گی، حکومت آئی ایم ایف کے سامنے ڈھیر

نیوز 360 کو ملنے والی دستاویزات کے مطابق گیس مہنگی کرنے کے لیے حکومت نے 6 مختلف سلیب ترتیب دیے ہیں۔

حکومت عالمی مالیاتی ادارے (آئی ایم ایف) کے سامنے گھٹنے ٹیکنے کو تیار ہو گئی ہے۔ گیس کے بلوں پر سبسڈی کا بڑا حصہ ختم ہو سکتا ہے۔ وفاقی حکومت کی جانب سے گھریلو صارفین کے لیے گیس کے ریٹ کم از کم  35 فی صد تک  بڑھانے کی تیاریاں زور و شور سے جاری ہیں۔

حکومت پاکستان سے آئی ایم ایف نے ڈو مور کا مطالبہ کر دیا ہے۔ حکومت نے آئی ایم ایف کی شرائط پر سنجیدگی سے تیاریاں شروع کردی ہیں اور نومبر 2021 سے گھریلو صارفین کے لیے گیس کے بل میں 262 سے 9128 روپے کا اضافہ کیا جا رہا ہے۔

یہ بھی پڑھیے

اسٹیٹ بینک کی طرف سے درآمدی بل پر قابو پانے کے لیے دو اقدامات

کابینہ  کے سامنے بہت جلد یہ تجویز پیش کی جائے گی کہ نومبر 2021 سے فروری 2022 تک گیس کے گھریلو صارفین کے لیے گیس کی سبسڈی محدود کی جائے گی اور گیس کے بلوں میں اضافہ کیا جائے گا۔ حکومت پاکستان اور آئی ایم ایف کے درمیان مذاکرات اکتوبر 2021 کے وسط میں ہونا ہیں اور حکومت پاکستان کو اس سلسلے میں آئی ایم ایف کو رام کرنے کے لیے سبسڈی کا حجم کم کرنا ہے۔

نیوز 360 کو ملنے والی دستاویزات کے مطابق گھریلو صارفین کے لیے گیس مہنگی کرنے کی تیاریاں اور اس سلسلے میں گیس کے گھریلو صارفین کے لیے کل 6 مختلف سلیب ہیں جن میں سے پہلے 2 سلیب میں اضافہ نہیں ہوگا جبکہ آخری 4 سلیب کے لیے گیس کے ریٹ بڑھ جائیں گے۔ حکومت پاکستان کی تیاری ہے کہ کابینہ کی منظوری کے ساتھ ہی یکم نومبر سے گھریلو صارفین کے لیے گیس مہنگی کردی جائے اور مجموعی طور پر گھریلو صارفین کے لیے گیس بل 262 سے 9125 روپے مہنگے ہو سکتے ہیں۔

دستاویز کے مطابق پہلے 2 سلیب والے گھریلو صارفین کے لیے گیس مہنگی نہیں ہوگی، اور یوں پہلے سلیب میں ماہانہ 0.5 ہیکٹو میٹر کیوب استعمال پر ریٹ میں اضافہ نہیں ہوگا اور اس کا ریٹ 121 روپے فی ایم ایم بی ٹی یو ہی رہے گا۔

دوسرے سلیب میں ماہانہ ایک ہیکٹو میٹر کیوبک استعمال پر ریٹ میں اضافہ نہیں ہوگا اور اس سلیب کے صارفین کے لیے گیس کا ریٹ 300 روپے فی ایم ایم بی ٹی یو ہی رہے گا۔

تیسرے سلیب میں ماہانہ 2 ہیکٹو میٹر کیوبک پر ریٹ 553 کی بجائے 683 کرنے کی تجویز ہے یوں اس سلیب کے لیے گیس کا بل 3733 کی بجائے 4295 روپے کرنے کی تیاری ہے۔

چوتھے سلیب میں ماہانہ 3 ہیکٹو میٹر کیوبک کا ریٹ 738 کی بجائے 1000 روپے کرنے کی تجویز ہے اور اس سلیب کے لیے گیس کا بل 8016 کی بجائے 10272 روپے کیا جاسکتا ہے۔

پانچویں سلیب میں ماہانہ 4 ہیکٹو میٹر کیوبک کا ریٹ 1107 کی بجائے 1500 روپے کرنے کی تجویز ہے اور اس طرح اس سلیب کے لیے گیس کا بل 14400 کی بجائے 19495 روپے کرنے کی تجویز ہے۔

چھٹے اور آخری سلیب میں  ماہانہ 4 ایچ ایم سے زائد پر ریٹ 1460 کی بجائے 2000 روپے کرنے کی تجویز ہے یوں ایسے گھریلو صارفین جو ماہانہ 4 ایچ ایم سے زائد گیس کا استعمال کرتے ہیں ان کا بل 25494 کی بجائے 34622 روپے کرنے کی تجویز ہے۔

Facebook Comments Box