دوسروں کو نصیحت خود میاں فصیحت: ن لیگ سبسڈیز دینے میں دو ہاتھ آگے نکلی

پی ٹی آئی کی حکومت نے یکم مارچ تا 10 اپریل مجموعی طور پر 53 ارب روپے کی سبسڈیز دیں، مسلم لیگ (ن) کی حکومت 11 اپریل تا 15 جون 197 ارب روپے کی سبسڈیز دے چکی

تحریک انصاف کی سابقہ حکومت پر بے جا سبسڈیز کا الزام لگانے والی ن لیگ کی حکومت سبسڈیز دینے میں دو ہاتھ آگے نکلی۔

 اعداد وشمار سے ظاہر ہوتا ہے کہ موجودہ حکومت  نے پچھلی حکومت کے مقابلے میں کئی گنا زیادہ سبسڈی دی۔

یہ بھی پڑھیے

عوام تیل کی دھار سے کٹ مریں ، شہباز حکومت نے ٹھان لی

سی این جی ایسوسی ایشن کی پیٹرول اور ڈیزل سے کم قیمت  پر گیس  فراہم کرنے پیشکش


پاکستان مسلم لیگ  (ن) کی زیر قیادت موجودہ اتحادی حکومت مسلسل یہ الزام لگاتی رہی ہے کہ موجودہ معاشی بحران کی ذمے دار  تحریک انصاف  کی سابقہ حکومت  ہے جس نے موجودہ حکومت کیلیے مشکلات کھڑی کرنے کیلیے بھاری سبسڈیز کی بارودی سرنگیں بچھائیں۔

اعدادوشمار کے مطابق پی ٹی آئی کی حکومت نے یکم مارچ سے 10 اپریل تک مجموعی طور پر 53 ارب روپے کی سبسڈیز دی تھیں جبکہ مسلم لیگ (ن) کی حکومت 11 اپریل سے 15 جون تک 197 ارب روپے کی سبسڈیز دے چکی۔

موجودہ حکومت قومی معیشت کو غیر مستحکم کرنے والی بھاری سبسڈیز کوبروقت ختم نہ کرنے کے اپنے تباہ کن اقدامات کی ذمے داری قبول  کرنے سے انکاری ہے ۔

پاکستان مسلم لیگ ن کی زیرقیادت مخلوط وفاقی حکومت نے تمام شعبوں میں ناکامیوں کا سامنا کرنے کے بعد سابقہ حکومت پرالزام تراشی کا کھیل جاری رکھا ہوا ہے، خاص طور پر معاشی بحران کے خاتمے کے لیے  حکومت کا اناڑی پن بالکل واضح ہوچکا ہے۔

معاشی بحران کے حل کے حوالے سےمسلم لیگ (ن) اور اس کے 12 اتحادیوں کے بلند و بانگ دعوؤں کو ذلت آمیز ناکامیوں کا سامنا کرنا پڑا کیونکہ مخلوط حکومت نے گزشتہ  20 دنوں  میں تین بار پٹرول بم گرائے اور دو ماہ میں بجلی کے نرخ میں نو مرتبہ اضافہ کیا جس سے شہریوں پر شدید مالی اثرات مرتب ہوئے۔

حکومت ان فیصلوں کو ناگزیر قرار دے رہی ہے اور اس بات کی نشاندہی کر رہی ہے کہ عمران خان کی حکومت کے آخری دنوں میں دی گئی غیر ضروری سبسڈیز کے بعد ملک کو جاری معاشی بحران نے متاثر کیا تاہم ماضی کے بیانات  حکمرانوں کے لیے پریشانی کا باعث بنے  ہوئے ہیں جس میں انہوں نے مہنگائی کو کنٹرول نہ کرنے پر سابق وزیراعظم عمران خان سے مستعفی ہونے کا مطالبہ کیا تھا۔

پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں زبردست اضافے کے بعد وزیر خزانہ مفتاح اسماعیل نے دعویٰ کیا تھا کہ آج پٹرول کی قیمت 120 ڈالر فی بیرل ہے جب کہ متحدہ عرب امارات میں پیٹرول کی قیمت ایک ڈالر فی لیٹر اور ڈیزل کی قیمت اس سے بھی زیادہ ہے۔ ماضی میں  سابق وزیر اعظم عمران خان  پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کا موازانہ عالمی سطح کی قیمتوں سے کرتے تھے تو یہی رہنما ان کامذاق اڑاتے تھے۔

متعلقہ تحاریر