امریکی آشیرباد سے پاکستان اور آئی ایم ایف کے درمیان معاہدہ تقریباً طے پاگیا

معاشی تجزیہ کاروں کا جن شرائط پر آئی ایم ایف سے معاہدہ پارہا ہے اس کے نتیجے میں ایک گپت (خفیہ) بجٹ آئے گا جس میں غیراعلانیہ ٹیکسز کی بھرمار ہوگی۔

اور امریکی مدد سے پاک آئی ایم ایف مذاکرات کامیاب ہو گئے، معاہدہ طے پا گیا ، پاکستانیوں کو جلد بڑی خوش خبری ملنے والی ہے۔

پاکستان اور آئی ایم ایف کے درمیان منگل کی رات ہونے ہونے والے آن لائن مذاکرات میں بڑا بریک تھرو ہوگیا۔

آئی ایم ایف نے آئندہ مالی سال کے بجٹ کے لیے حکومت  پاکستان کے معاشی اقدامات سے اتفاق کرلیا ہے۔

یہ بھی پڑھیے

چاول کی 30 لاکھ ٹن اضافی پیداوار کے باوجود حکومت عوام کو ریلیف دینے میں ناکام

مفتاح اسماعیل اور شوکت ترین سامنے کچھ ، پردے کے پیچھے کچھ

نئے مالی سال کے بجٹ اہداف اور حکمت عملی اور اس سلسلے میں کیے جانے بجٹ اقدامات پر آئی ایم ایف راضی ہوگیا ہے۔

ذرائع کے مطابق آئی ایم ایف پاکستان کے بجٹ اہداف سے بھی متفق ہو گیا ہے۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ آئی ایم ایف سے بڑی خوش خبری جلد ملنے والی ہے۔

ذرائع کے مطابق آئی ایم ایف کا قرض پروگرام بحال ہونے کے امکانات روشن ہوگئے ہیں۔

قرض پروگرام بحال ہونے سے پاکستان کو 90 کروڑ سے ایک ارب ڈالر تک ملنے کی راہ ہموار ہوجائے گی۔

معاہدہ کن شرائط پر طے پایا ہے

ترجمان آئی ایم ایف کا کہنا ہے پاکستان اور آئی ایم ایف کے درمیان مذاکرات کا سلسلہ جاری ہے ، تاہم پاکستان کے اگلے بجٹ کے حوالے سے اہم پیش رفت ہو چکی ہے۔

ترجمان کا کہنا ہے اگلے سال کے دوران مائکرواکنامک استحکام بہتر بنانے کی پالیسیز پر مذاکرات جاری ہیں۔

1: ذرائع کے مطابق اگلے سال بجٹ میں ٹیکس وصولیوں کا ہدف 7005 ارب سے بڑھا کر 7450 ارب روپے کرنے پر اتفاق ہوا ہے۔

2: ذرائع کے مطابق کسٹم وصولیوں کا ہدف 950 ارب سے بڑھا کر 1005 ارب روپے کرنے پر اتفاق ہوا ہے۔

3: ذرائع کے مطابق جی ایس ٹی کی مد میں ٹیکس وصولیوں کا ہدف 3008 ارب روپے سے بڑھا کر 3300 ارب روپے کرنے پر اتفاق ہوا ہے۔

4: ذرائع کے مطابق انکم ٹیکس وصولیوں کا ہدف 55 ارب روپے تک بڑھانے پر اتفاق ہوا ہے۔

5: ذرائع کے مطابق آئی ایم ایف نے پیٹرولیم مصنوعات پر فی لیٹر لیوی 50 روپے عائد کرنے کا مطالبہ کیا ہے، جس کے تناظر میں ہر ماہ 5 روپے فی لیٹر لیوی عائد کرنے پر اتفاق ہوا ہے۔

6: ذرائع کے مطابق پاکستان اور آئی ایم ایف کے درمیان فائنل مذاکرات ہوں جوکہ معمول کی کارروائی کے طور پر ہوں گے ، تاہم معاہدہ طے پا چکا ہے۔

معاشی ماہرین کا کہنا ہے پاکستان نے آئی ایم ایف کی کڑی شرائط پر معاہدہ کیا ہے جس کے نتیجے میں ایک گپت (خفیہ) منی بجٹ آئے گا ، جس کے تحت ڈالر کی قیمت 230 روپے تک بڑھے گی ، پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں 280 روپے سے 285 روپے فی لیٹر تک ہو جائیں گی ، بجلی کے فی یونٹ کی قیمت میں 5 سے 7 روپے اضافہ کردیا جائے۔ ٹیکسز کی بھرمار کا تحفہ اس کے علاوہ ہوگا۔

تجزیہ کاروں نے اپنے ذرائع سے خبر دی ہے کہ تین روز قبل وفاقی وزیر خزانہ مفتاح اسماعیل ، سینیٹر شیری رحمان اور وزیر مملکت برائے خزانہ عائشہ غوث پاشا نے امریکی سفیر سے ملاقات کی تھی جس میں مطالبہ کیا گیا تھا کہ امریکی آئی ایم ایف سے ڈیل میں پاکستان کی مدد کرے ، دوسری صورت میں پاکستان دیوالیہ ہو جائے گا۔

متعلقہ تحاریر