او جی ڈی سی ایل کی بڑی کامیابیاں: رواں ماہ تیل و گیس کے تین بڑے ذخائر دریافت

اس دریافت نے نیا راستہ کھولا ہے جس سے ملکی توانائی کی طلب و رسد کے فرق کو کم کرنے میں بہت مدد ملے گی اور او جی ڈی سی ایل کے ہائیڈروکاربن کے ذخائر میں بھی خاطر خواہ اضافہ ہو گا۔

آئل اینڈ گیس ڈویلپمنٹ کمپنی لمیٹڈ (او جی ڈی سی ایل) نے صوبہ سندھ اور پنجاب میں ایکسپلوریٹری کنوؤں سے تیل و گیس کے بھاری ذخائر دریافت کر لیے ہیں۔

اسلام آباد سے جاری اعلامیے کے مطابق آئل اینڈ گیس ڈویلپمنٹ کمپنی لمیٹڈ (او جی ڈی سی ایل) نے ضلع ٹنڈو آلہ یار صوبہ سندھ میں جائنٹ وینچر ایکسپلوریٹری ویل نم ایسٹ سے تیل و گیس کے بھاری ذخائر دریافت کر لئے ہیں۔ او جی ڈی سی ایل اس میں بطور آپریٹر 95 فیصد اور گورنمنٹ ہولڈنگ (پرائیویٹ) لمیٹڈ 5 فیصد کی حصہ دار ہیں۔

یہ بھی پڑھیے

یوٹیلیٹی اسٹورز پر مہنگائی کا سونامی آگیا،  300 سے زائد اشیا کے دام بڑھا دیئے

اسٹیٹ بینک کا زرمبادلہ کے ذخائر ختم ہونے کی افواہوں کا نوٹس

تفیصلات کے مطابق تحقیقی کنواں نم ایسٹ 1 کی کھدائی کا کام گورنمنٹ ہولڈنگ پرائیویٹ لمیٹڈ کے باہمی اشتراک سے او جی ڈی سی ایل کے ماہرین پر انحصار کرتے ہوئے رواں مالی سال21 مارچ  2022کو شروع کیا گیا اور اس کنویں کی کھدائی2573 میٹر تک کی گئی۔

وائر لائن لاگز کے نتائج کی بنیاد پر باسل سینڈ میں ڈرل سٹیم ٹیسٹ 1- کا تجربہ کیا گیا۔ ابتدائی طورپر یہاں سے 32/64 چوک سائز، 1820 پاونڈ فی مربع انچ (پی ایس آئی) اور ویل ہیڈ فلوئنگ پریشر سے 1400 بیرل خام تیل یومیہ اور 5.02 ملین مکعب سٹنیڈرڈ کیوبک فٹ گیس یومیہ کی پیداوار حاصل ہو گی۔

مذکورہ دریافت نم بلاک میں گیارویں دریافت ہے۔ اس مشترکہ منصوبے کی شراکت داری اس عزم کو ظاہر کرتی ہے کہ ہائیڈروکاربن کی صلاحیت سے فائدہ اٹھاتے ہوئے یہاں پر تیل و گیس کی مزید تلاش کے لئے ایک جارحانہ حکمت عملی مرتب کی جائے۔

اس دریافت نے نیا راستہ کھولا ہے جس سے ملکی توانائی کی طلب و رسد کے فرق کو کم کرنے میں بہت مدد ملے گی اور او جی ڈی سی ایل کے ہائیڈروکاربن کے ذخائر میں بھی خاطر خواہ اضافہ ہو گا۔

واضع رہے کہ یہ رواں مالی سال میں پندرویں دریافت ہے۔ جس سے کل پیداوار میں 147 ایم ایم ایس سی ایف ڈی کا اضافہ ہوا ہے اور ملک کی مجموعی پیداوار 3463 ایم ایم ایس سی ایف  ہو جائے گی۔

او جی ڈی سی ایل نے صوبہ پنجاب راجن پور قبائلی علاقہ میں بھی گیس کی ایک مزید دریافت کی ہے۔ او جی ڈی سی ایل، کلچاس ایکسپلوریشن لائسنس 50 فیصد آپریٹر ہونے کے ناطے ماری پٹرولیم کمپنی لمیٹڈ (ایم پی سی ایل) جائنٹ وینچر پارٹنر کے طور پر کنواں کلیری شم 1- سے گیس کے ذخائر دریافت کیے ہیں۔

کنواں کلیری شم 1- کو 31 دسمبر 2021 کو پب فارمیشن، فورٹمنرو/ مغلکوٹ اور پارہ فارمیشنوں کی ہائیڈروکاربن کی صلاحیت کو جانچنے کے لئے کھودا گیا۔ کنویں کی کھدائی 1907 میٹر تک کی گئی۔ وائر لائن لاگز کی بنیاد پر او جی ڈی سی ایل نے بطور آپریٹر کامیابی سے پارہ  فور ٹمنرو  / مغل کوٹ پب اور رانیکوٹ فارمیشنوں میں چار ڈی ایس ٹی ایس (DSTs) کا انعقاد کیا۔

پارہ  فور ٹمنرو  / مغل کوٹ فارمیشن ڈرل اسٹیم ٹیسٹ کے مطابق ابتدائی طورپر یہاں سے 32/64 چوک سائز، 220 پاونڈ فی مربع انچ (پی ایس آئی) اور ویل ہیڈ فلوئنگ پریشر سے 1.24 ملین سٹینڈرڈ کیوبک فٹ گیس یومیہ کی پیداوار حاصل ہو گی۔علاوہ ازیں فور ٹمنرو  / مغل کوٹ فارمیشن ڈی ایس ٹی2-  کے تجزیے کے مطابق  32/64 چوک سائز، 300 پاونڈ فی مربع انچ (پی ایس آئی) اور ویل ہیڈ فلوئنگ پریشر سے  0.489  ملین مکعب سٹنیڈرڈ کیوبک فٹ گیس یومیہ کی پیداوار حاصل ہو گی۔ جبکہ پب سینڈسٹون فارمیشن ڈی ایس ٹی3- کے تجزیے کے مطابق   32/64  چوک سائز،  10-75 پاونڈ فی مربع انچ (پی ایس آئی) سے  0.192  ملین مکعب سٹنیڈرڈ کیوبک فٹ گیس یومیہ اور رانیکوٹ فارمیشن ڈی ایس ٹی4- کے مطابق 32/64″ چوک سائز 100-130پی ایس آئی ویل ہیڈ فلوئنگ پریشر سے 0.16 ملین مکعب سٹنیڈرڈ کیوبک فٹ گیس یومیہ کی پیداوار حاصل ہو گی۔

Facebook Comments Box