ڈالر کے مقابلے میں پاکستانی روپیہ کی قدر میں 4 روپے 70 پیسے ریکارڈ اضافہ

پاکستان اور آئی ایم ایف کے درمیان ممکنہ معاہدہ طے پانے کی خبروں نے انٹربینک اور اوپن مارکیٹ میں ڈالر کے مقابلے میں روپے کی قدر بحال ہونا شروع ہو گئی ہے۔

آئی ایم ایف کے قرضہ پروگرام کی بحالی اور اگلے ہفتے چین سے 2.3 ارب ڈالر حاصل ہونے کی خبروں کے ساتھ ہی جمعرات کو پاکستانی روپے نے امریکی ڈالر کو توڑ کر رکھ دیا اور امریکی ڈالر کے مقابلے میں روپیہ 4 روپے 70 پیسے مضبوط ہو گیا۔

مارکیٹ میں آئی ایم ایف کے ساتھ معاہدہ طے پانے اور چینی امداد کی خبروں نے گزشتہ 9 روز سے روپے کی گرتی ہوئی قدر کو سنبھالا دیا۔

یہ بھی پڑھیے

اسٹیٹ بینک کے زرمبادلہ کے ذخائر میں 74 کروڑ 80 لاکھ ڈالرز کی کمی

وزیراعظم شہباز شریف سابقہ حکومت کے کس منصوبے کے معترف؟

انٹربینک فارن ایکسچینج مارکیٹ میں گزشتہ روز 211 روپے 93 پیسے پر بند ہوا تھا جبکہ آج ایکسچینج ریٹ 4.70 روپے بڑھ کر 207.23 روپے پر ختم ہوا۔

22 جون 2022 کو پاکستانی کرنسی نے 211.93 روپے کی تاریخی بلند ترین سطح کا مشاہدہ کیا۔

فاریکس ڈیلرز ایسوسی ایشنز کا کہنا ہے کہ چینی کنسورشیم بینکوں سے تقریباً 2.3 بلین ڈالر کی متوقع آمد کے نتیجے میں مارکیٹ میں مثبت رجحان دیکھنے میں آیا ، اس کے علاوہ بین الاقوامی منڈی میں تیل کی گرتی ہوئی قیمتوں نے بھی روپے کی قدر کو سنبھالا دیا۔

مارکیٹ نے پاکستان اور انٹرنیشنل مانیٹری فنڈ (آئی ایم ایف) کے درمیان ہونے والے متوقع معاہدے پر بھی مثبت ردعمل ظاہر کیا، کیونکہ حکومت پاکستان نے وفاقی بجٹ کے اہداف پر نظر ثانی کرتے ہوئے آئی ایم ایف کی کئی سخت شرائط پر اتفاق کرلیا ہے۔

اسٹیٹ بینک آف پاکستان (SBP) کا کہنا ہے کہ زرمبادلہ کے ذخائر میں کمی کی وجہ سے روپیہ دباؤ کا شکار ہے۔

مرکزی بینک کے زرمبادلہ کے ذخائر 3 جون 2022 کو 9.226 بلین ڈالر کے مقابلے میں 10 جون 2022 کو ختم ہونے والے ہفتے تک 241 ملین ڈالر کم ہوکر 8.985 بلین ڈالر رہ گئے تھے۔

اسٹیٹ بینک کے زرمبادلہ کے ذخائر کی موجودہ سطح سے ظاہر ہوتا ہے کہ مرکزی بینک کے پاس صرف ایک ماہ کے درآمدی ایسیسٹ رہ گئے ہیں۔

پاکستان کے ادارہ شماریات کے مطابق مئی 2022 کے لیے پاکستان کا درآمدی بل 6.777 بلین ڈالر ریکارڈ کیا گیا۔

اسٹیٹ بینک کے تازہ ترین زرمبادلہ کے ذخائر ظاہر کرتے ہیں کہ یہ تقریباً ڈیڑھ سال کی کم ترین سطح پر آگئے ہیں۔

واضح رہے کہ اس سے قبل 6 دسمبر 2019 کو مرکزی بینک کے پاس زرمبادلہ کے ذخائر 9.233 بلین ڈالر رہ گئے تھے۔

27 اگست 2021 کو ختم ہونے والے ہفتے تک مرکزی بینک کے پاس زرمبادلہ کے ذخائر 20.146 بلین ڈالر سطح پر تھے جو بلند ترین سطح تھی۔ جس کے بعد اسٹیٹ بینک آف کے زرمبادلہ کے ذخائر میں مسلسل کمی دیکھی جارہی ہے۔

27 اگست 2021 کو عروج کو چھونے سے 10 جون 2022 کو ختم ہونے والے ہفتے تک اسٹیٹ بینک کے زرمبادلہ کے ذخائر 11.16 بلین ڈالر کے لگ بھگ رہ گئے تھے۔

بیرونی ادائیگیوں کی مانگ بھی پاکستانی کرنسی پر مسلسل دباؤ ڈال رہی ہے۔ جولائی 2021 سے مئی 2022 کے دوران ملک کا درآمدی بل 44.51 فیصد تیزی سے بڑھ کر 77.29 بلین ڈالر ہو گیا، جبکہ گزشتہ مالی سال کی اسی مدت میں 50 بلین ڈالر تھا۔ اس کے نتیجے میں رواں مالی سال کے پہلے 11 مہینوں کے دوران تجارتی خسارہ 58 فیصد بڑھ کر 43.42 بلین ڈالر تک پہنچ گیا، جبکہ گزشتہ مالی سال کی اسی مدت میں 27.45 بلین ڈالر کا خسارہ تھا۔

متعلقہ تحاریر