آئی ایم ایف کی شرائط کے تحت حکومت کو کیا کچھ کرنا ہوگا؟
حکومت آئندہ برس 23 جنوری تک پٹرول اور 23 اپریل تک ڈیزل پر فی لیٹر 50 روپے پٹرولیم لیوی عائد کر نے کی پابند ہے، صحافی علی خضر کا انکشاف

انگریزی روزنامے بزنس ریکارڈر سے وابستہ سینئر صحافی علی خضر نے انکشاف کیا ہے کہ عالمی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کی شرائط کے تحت حکومت آئندہ برس 23 جنوری تک پٹرول اور 23 اپریل تک ڈیزل پر فی لیٹر 50 روپے پٹرولیم لیوی عائد کرنے کی پابند ہے۔
ایک ٹویٹر تھریڈ میں علی خضر نے لکھا کہ آئی ایم ایف کا زیر التوا جائزہ مکمل ہو گیا ہے اور کہانی شروع ہونے والی ہے۔ اسٹاف لیول ایگریمنٹ ایک وسیع خاکہ تھا لیکن تفصیلی اور سخت شرائط MEFP میں ہیں جن پر عملدرآمد کیلیے حکومت کو ٹیکس لگانے کے لیے ضرورت ہوگی۔
یہ بھی پڑھیے
شہباز حکومت نے پٹرول 100 روپے مہنگا کرنے کے بعد 18.5روپے سستا کردیا
حکومت کو آئی ایم ایف ڈیل کی کامیابی کیلیے لوہے کے چنے چبانا ہونگے
انہوں نے کہا کہ اسٹیٹ بینک آف پاکستان شرح مبادلہ کو ایک مخصوص حدسے زیادہ برقرار رکھنے کے لیے مداخلت نہیں کر سکےگا۔ انہوں نے مزید کہا کہ بورڈ میٹنگ سے قبل دوست ممالک سے 4 ارب ڈالر کے وعدے درکار ہیں۔
IMF pending review is done. The story is about to begin. SLA is the broad required outline but detailed and stringent conditionalities are in MEFP. Implementing those would be taxing for the govt
Such as:
SBP cannot intervene to maintain exchange rate beyond certain level
1/
— Ali khizar (@AliKhizar) July 14, 2022
خضر نے کہا کہ درآمدی پابندی ہٹا دی جائے گی اور بجلی کے نرخوں میں ری بیسنگ کا عمل فوری طور پر شروع کیا جائے گا جبکہ صنعتوں کو بجلی کی مد میں دی جانے والی سبسڈی بھی ختم کردی جائے گی۔
یاد رہے کہ آئی ایم ایف اور پاکستان کے درمیان گزشتہ روز اسٹاف لیول ایگریمنٹ طے پایا تھا جس کے تحت آئی ایم ایف کے بورڈ کی منظوری کے بعد پاکستان کو 1.17 ارب ڈالر ملیں گے۔









