حکومت کے پاس 13 ماہ ہیں شاید میرے پاس نہیں، مفتاح اسماعیل

  جب تک وزیر خزانہ ہوں پاکستان کو دیوالیہ نہیں ہونے دونگا،اب بیرونی دنیا ہماری مدد نہیں کرنا چاہتی،خدا کی قسم پیسے مانگتے ہوئے بہت شرم آتی ہے،سیلاب سے صرف سندھ کے کسان کو ایک ارب ڈالر کا نقصان ہوا،تقریب سے خطاب

وفاقی وزیرخزانہ مفتاح اسماعیل نے اپنی جلد رخصتی کا عندیہ دے دیا۔کہتے ہیں حکومت کے پاس 13 ماہ ہیں  لیکن میرے پاس شاید اتنا وقت نہیں ہے۔

مفتاح اسماعیل نے ملک میں مہنگائی پر ندامت کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ مہنگائی دنیا بھر میں ہے،  تاہم ملک میں مہنگائی میں اضافے پر بہت شرمندہ ہوں۔

یہ بھی پڑھیے

اگست میں پاکستان کا تجارتی خسارہ 27 فیصد کمی کے ساتھ 3.2 ارب ڈالر رہا

ایف بی آر کی تاجروں کو نئی ٹیکس اسکیم پر پیشگی مشاورت کی یقین دہانی

گزشتہ روز کراچی میں انسٹی ٹیوٹ آف بزنس ایڈمنسٹریشن(آئی بی اے ) میں تقریب سے خطاب کرتے ہوئے مفتاح اسماعیل نے کہا کہ   پاکستان میں کوئی ٹیکس دینا نہیں چاہتا،ہمیں ہر فورم پر جاکر قرض مانگنا پڑتا ہے، خدا کی قسم پیسے مانگتے ہوئے بہت شرم آتی ہے۔

مفتاح اسماعیل کا کہنا تھا کہ جب اقتدار میں آئے تو انتہائی خراب صورتحال تھی، ملک آئی ایم ایف سے معاہدہ ختم کرنے کے بعد ڈیفالٹر ہونے جارہا تھا،عالمی بینک قرضہ دینے کے لیے رضامند نہ تھا، ہم نے برسر اقتدار آتے ہی ان سے رابطے کیے، قرضے ناگزیر تھے، تاجروں کو قرضہ دے کر ہی معشیت کو مستحکم کرنے کی کوشش کی جاتی ہے، درآمدات میں اضافہ سے معیشت پر منفی اثرات پڑتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ سابقہ دور حکومت میں آئی ایم ایف اور عالمی بینک سے قرضوں کے حصول میں تاخیر کی گئی، ان اداروں نے کوویڈ 19 میں پاکستان پر اپنے قرضے معاف بھی کیے ۔

مفتاح اسماعیل نے پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کی ذمے داری پر پی ٹی آئی حکومت پر ڈال دی،انہوں نے کہا کہ پٹرولیم کی قیمتیں پی ٹی آئی کی غلطی سے بڑھیں، قیمت گرانے سے ڈیمانڈ بڑھ گئی، حکومت کو سبسڈی کی مد میں اضافی خرچہ اٹھانا پڑا۔

انہوں نے کہا کہ میری ذمے داری ہے جب تک وزیر خزانہ ہوں پاکستان کو دیوالیہ نہیں ہونے دونگا،اب بیرونی دنیا ہماری مدد نہیں کرنا چاہتی،پاکستان کو اپنے وسائل کے مطابق رہنا ہوگا،ہمیں کنولا خود اگانا ہوگا۔

وزیر خزانہ نے کہا کہ ملک میں عوام ٹیکس ادا نہیں کرتے، 52 فی صد ٹیکس بندرگاہوں سے ملا، درآمد شدہ اشیا پر ٹیکس لگانے سے مہنگائی بڑھتی ہے، میرے خاندان سمیت کوئی برآمدات پر توجہ نہیں دیتا، ہم پر تعیش زندگی گزارنے کے عادی ہیں۔

انہوں نے کہا کہ نیب نے سیاسی بنیادوں پر جیل میں ڈالا، ہم نے اسٹیٹ بنک کی پالیسی پر نظر ثانی کی، غیر ملکی زر مبادلہ کو بڑھانے کے لیے اقدامات کیے، برمدات نہ بڑھا سکے تو درآمدات کی حوصلہ شکنی کی۔

مفتاح اسماعیل کا کہنا تھا کہ ،سبسڈی کی مد میں بڑی رقم چلی جاتی ہے، دنیا بھر کی کرنسی امریکی ڈالر کے مقابلے میں کم ہوئی،پاکستانی روپیہ کم ہونا کوئی اچھنبے کی بات نہیں، مارک اپ پانچ فی صد سے بڑھ گیا۔

انہوں نے کہا کہ سیلاب جیسی قدرتی آفات کی تباہ کاریوں سے بھی منفی اثرات مرتب ہوئے ہیں، زرعی پیدوار سیلاب سے بری طرح متاثر ہوئی ہے، کپاس اہم پیدوار ہے لیکن اس کی فصل خراب ہوئی،لائف اسٹاک تباہ ہو کر رہ گئی، صرف سندھ  کسان کوایک  ارب ڈالرز کا نقصان ہوا ہے، سیلاب متاثرین کو 25 ہزار روپے فی خاندان فوری طور پر دیے جارہے ہیں،سیلاب متاثرین کے لیے 28 ارب روپے ٹرانسفر کردییے گئے ہیں،مزید 70 ارب روپے مزید ٹرانسفر کیے جاینگے۔

 ان کا کہنا تھا کہ گیس اور بجلی کے سرکلر ڈیٹ کی منیجمنٹ کرنا ہوگی،حکومت کو نجکاری کے ساتھ خود کاروبار کرنے سے اجتناب برتنا ہوگا، زرعی میدان میں راست اقدامات کو یقینی بنانا ہوگا، معیشت میں گروتھ لانا مشکل نہیں ہے، 2007_08 اس سال 11 عشاریہ سے کرنٹ اکائونٹ ڈیفیسٹ تھا، غریب آدمی کو امیر کریں گے تو اس کی زندگی بہتر بنے گی، امیر آدمی کو امیر بنائیں گے تو امپورٹڈ اشیا بڑھیں گی۔

وزیر خزانہ مفتاح اسماعیل کا کہنا تھا کہ آدھے پاکستانی بچے اسکول نہیں جاتے ،کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ 17اعشاریہ 5ارب ڈالر ہے،مالیاتی خسارہ 5ہزار ارب روپے کا ہے، عمران خان کے دور میں 20 ہزار ارب کا قرض بڑھا، ہم نے ٹارگٹڈ سبسڈیز دی، 3 ماہ کیلئے لگژری آئٹمز پر پابندی لگائی۔

متعلقہ تحاریر