ایس ایس جی سی نے کے الیکٹرک کے ساتھ معاہدے کی تفصیلات جاری کردیں

ترجمان کے مطابق 2012 سے سندھ ہائی کورٹ کے حکم کے مطابق بہترین کوششوں کی بنیاد پر کے-الیکٹرک کو گیس فراہم کی جا رہی تھی۔

سوئی سدرن گیس کے ترجمان نے کہا ہے کہ کے-الیکٹرک ساتھ موجودہ گیس سیلز ایگریمنٹ (جی ایس اے) صرف 10 ایم ایم سی ایف ڈی گیس کے لیے ہے، جس پر 1978 میں دستخط کیے گئے تھے۔ اس معاہدے کے تناظر میں ادارہ کے-الیکٹرک کو اس سے زیادہ گیس فراہم کرنے کا پابند نہیں ہے۔

سوئی سدرن ایک گیس یوٹیلیٹی ادارہ ہے جو انتہائی ریگولیٹڈ ضابطوں کے تحت کام کرتا ہے۔

ادارہ حکومتِ پاکستان کی قدرتی گیس کی تقسیم اور انتظامی پالیسی کے مطابق گھریلو اور تجارتی صارفین کو ترجیحی فہرست میں سرفہرست رکھ کر گیس کی فراہمی کرتا ہے۔

یہ بھی پڑھیے

ڈالر کی ذخیرہ اندوزی روکنے کے لیے اسٹیٹ بینک کا راست اقدام

گیس کی پیداوار میں 6 فیصد کمی،ایل این جی کا استعمال33فیصد بڑھ گیا

ترجمان سوئی سدرن گیس کا کہنا ہے کہ گزشتہ تین سالوں کے دوران سوئی سدرن کو قدرتی گیس کی دستیابی میں 26 سے 27 فیصد تک کمی واقع ہوئی ہے جب کہ گھریلو صارفین کی تعداد میں خاطر خواہ اضافہ ہؤا ہے۔

ترجمان کے مطابق 2012 سے سندھ ہائی کورٹ کے حکم کے مطابق بہترین کوششوں کی بنیاد پر کے-الیکٹرک کو گیس فراہم کی جا رہی تھی۔ بعد میں قدرتی گیس کے ذخائر میں نمایاں کمی کی وجہ سے، سوئی سدرن نے 23 اپریل 2018 کے کابینہ کمیٹی برائے توانائی (CCoE) کے فیصلے کے مطابق قدرتی گیس کے ساتھ RLNG  کی فراہمی بھی شروع کر دی۔

ترجمان سوئی سدرن گیس کا کہنا ہے کہ کے-الیکٹرک نے سوئی سدرن کو واجبہ ادا خطیر رقم پر اپنی نادہندگی کو چھپانے کے مضموم مقاصد کے تحت، سوئی سدرن کے خلاف تمام حقائق کو شامل کیے بغیر اسے گیس کی فراہمی میں کمی کرنے پر توہین عدالت کی درخواست دائر کر دی۔

ایس ایس جی سی کے ترجمان کے مطابق سوئی سدرن گیس کمپنی  نے سندھ ہائی کورٹ میں توہین عدالت کی درخواست کا جواب اس بنیاد پر جمع کرایا کہ کے-الیکٹرک سوئی سدرن کا قدرتی گیس کے بلوں کی مد میں 31 اگست 2022 تک 153.02 ارب روپے، اور RLNG کی مد میں 24.54 ارب روپے کا نادہندہ ہے۔

ترجمان کا کہنا ہے کہ کے-الیکٹرک نے سوئی سدرن کے جواب پر عدالت میں اپنا جواب جمع کرایا اور عدالت نے سماعت دو ہفتوں کے لیے ملتوی کر دی۔

سوئی سدرن گیس کمپنی نے  12-11-2021، 28-03-2022، 04-04-2022 اور 29-04-2022 کے اپنے خطوط کے ذریعے کے-الیکٹرک کو مطلع کر دیا تھا کہ مقامی قدرتی گیس کے ذخائر / فراہمی 9 سے 10 فیصد کی سالانہ شرح سے کم ہو رہی ہے جبکہ گھریلو شعبے میں 10 سے 12 فیصد کا سالانہ اضافہ ہے۔ اس لیے ادارہ کے-الیکٹرک کو قدرتی گیس کی فراہمی میں کمی کر رہا ہے۔

ترجمان سوئی سدرن گیس کا کہنا ہے ایک پاور یوٹیلیٹی کے طور پر کے-الیکٹرک کی ذمہ داریوں کو مدنظر رکھتے ہوئے، سوئی سدرن کراچی کے شہریوں کی سہولت اور مفاد میں بہترین کوششوں کی بنیاد پر کے-الیکٹرک کو گیس/ آر ایل این جی فراہم کرنے کی کوشش کر رہا ہے اور یہی وجہ ہے کہ اس نے مئی 2022 کے بعد سے گیس کے  ماہانہ بلوں کی عدم دائیگیوں کے باوجود کے-الیکٹرک کو گیس کی فراہمی منقطع نہیں کی ہے۔

ترجمان سوئی سدرن گیس کے مطابق ادائیگی میں اس ڈیفالٹ کے باوجود، ادارہ کے-الیکٹرک کو گیس فراہم کر رہا ہے لیکن مالیاتی طور پر مستحکم رہنے کے لئے ادارے کی بھی کچھ حدود ہیں۔

اپریل 2018 میں CCOE کی واضح ہدایات کے باوجود اب تک کے-الیکٹرک نے فراہم کی جانے والی گیس کے حجم کے مطابق جی ایس اے پر دستخط نہیں کیے ہیں۔

یہ امر باعثِ تشویش ہے کہ RLNG ایک درآمدی گیس ہے اور اسکی ادائیگیوں میں تاخیر / نادہندگی LNG کی بین الاقوامی سپلائی چین میں رکاوٹ کا باعث بنتا ہے جس سے ملک کی نیک نامی متاثر ہوتی ہے۔

متعلقہ تحاریر