گلوبل بونڈ انویسٹر عبدالقادر کی حکومت کے گزشتہ چند روز کے معاشی فیصلوں پر تنقید

ارقم کیپیٹل کے ہیڈ آف فکسڈ انکم ایسٹ منیجمنٹ اور گلوبل بونڈ انویسٹر عبدالقادر حسین نے حکومت پاکستان کےگزشتہ چند روز کے دوران کیے گئے معاشی فیصلوں کو شدید تنقید کانشانہ بنا نا ہے۔
گلوبل بونڈ انویسٹر عبدالقادر حسین کا بیان بلوم برگ کے پاکستان میں بیورو چیف فصیح منگی نے شیئر کرتے ہوئے لکھا کہ گزشتہ چند روز کے دوران پاکستان میں جو کچھ ہوا اس پر عالمی بانڈ کے سرمایہ کار کا تبصرہ ملاحظہ کریں۔
یہ بھی پڑھیے
انٹربینک اور اوپن مارکیٹ میں ڈالر کی قیمت میں 3 روپے سے زائد کی کمی
ایک سال میں سوئی ناردرن سسٹم سے ڈیڑھ ارب سے زیادہ کی گیس چوری کی گئی، اوگرا
عبدالقادر حسین نے لکھا کہ مالیاتی منڈیوں سے بات چیت کرنے کا طریقہ: آپ کے مرکزی بینک کے ڈپٹی گورنر ایک بڑی کانفرنس سے خطاب کریں اور سرمایہ کاروں کو یقین دلائیں کہ آپ کے بانڈز/سکوک ڈیفالٹ کی طرف نہیں جا رہے ہیں۔
Comments from a global bond investor on what’s happened in Pakistan 🇵🇰 over the past few days pic.twitter.com/s5R5kssavO
— Faseeh Mangi (@FaseehMangi) September 26, 2022
انہوں نے کہا کہ کچھ دن بعد آپ کے وزیر اعظم کو بلومبرگ کو انٹرویو دیں اور کہیں کہ اگر پاکستان کو قرضوں میں ریلیف نہیں دیا گیا تو”سب برباد ہوجائے گا“۔
انہوں نے مزید کہا کہ ہفتے کے آخر میں آپ کے وزیرخزانہ سامنے آئیں اور واضح کریں کہ وزیر اعظم بانڈز/سکوک سمیت تجارتی قرضوں کے بجائے صرف پیرس کلب اور دو طرفہ قرضوں کا حوالہ دے رہے تھے۔
ان کا کہنا تھا کہ ہفتے کے آخر سے مارکیٹیں کھلنے سے پہلے وزیرخزانہ کو برطرف (یا اس سے زبردستی استعفی ٰ لے لیا گیا) تاکہ کوئی بھی واقعی یہ نہ جان سکے کہ آیا تیسرے مرحلے میں اس کے اقدامات دراصل پالیسی تھے۔
انہوں نے مزید کہا کہ ایک آزمائے ہوئے اور ناکام وزیرخزانہ کو لے آئے جس کی پالیسیاں (خاص طور پر روپے کے حوالے سے) ماضی میں شدید عدم توازن کا باعث بنی ہیں۔ قیدیوں کے پاس پناہ کی چابیاں ہیں! اللہ پاکستان کی مدد کرے۔









