رواں مالی سال کی پہلے دو کی معاشی رپورٹ نے حکومت کو آئینہ دکھا دیا

وزارت خزانہ کی رپورٹ کے مطابق جولائی تا اگست غیر ملکی سرمایہ کاری میں 26.1 فیصد کمی ہوئی۔

رواں مالی سال کے پہلے دو ماہ کی معاشی کارکردگی حکومت کو آئینہ دکھانے لگی، خسارہ بڑھ گیا، مہنگائی 27 فیصد سے زیادہ  رہی۔

وزارت خزانہ کی رپورٹ میں حکومت کی ناقص رپورٹ کے اعداد و شمار نظر آنے لگے ، رواں مالی سال کے دو ماہ میں جولائی تا اگست  ترسیلات زر ، بیرونی سرمایہ کاری ، نان ٹیکس آمدنی اور مالی ذخائر میں ریکارڈ کمی دیکھی گئی۔

یہ بھی پڑھیے

سکھر اسمال ٹریڈرز ایسوسی ایشن نے ایف بی آر کو ٹیکس تجاویز پیش کردیں

حبیب بینک لمیٹڈ کو دہشتگردوں کی مالی معاونت پر امریکا میں مقدمے کا سامنا

وزارت خزانہ کی معاشی کارکردگی رپورٹ کے مطابق جولائی تا اگست مہنگائی کی شرح 26.1 فیصد رہی ، اگست 2022 میں مہنگائی کی شرح 27.3 فیصد رہی، اگست 2021 میں مہنگائی کے بڑھنے کی شرح 8.4 فیصد رہی۔

رپورٹ کے مطابق جولائی 2022 میں بڑی صنعتیں زبوں حالی کا شکار رہی اور جون کی نسبت جولائی بڑی صنعتوں کی شرح پیداوار 16.5 فیصد کم ہو گئی۔

ملک میں اس دوران گاڑیوں کی پیداوار 26.6 فیصد کم ہوگئی اور گاڑیوں کی فروخت میں 49.8 فیصد کمی آئی۔

اگست 2022 میں سیمنٹ کی پیداوار میں 24 فیصد کمی ہوئی۔

رپورٹ کے مطابق گزشتہ سال کے مقابلے میں رواں مالی سال کے دو ماہ میں برآمدات میں 11.3 فیصد کا اضافہ ہوا۔

رپورٹ کے مطابق گزشتہ سال کے مقابلے میں رواں مالی سال کے دو ماہ میں درآمدات میں 2.1 فیصد کی کمی ریکارڈ کی گئی۔

بیرونی سرمایہ کاری میں رواں مالی کے دو ماہ میں  87.8 فیصد کی کمی ہوئی۔ رواں مالی سال میں نان ٹیکس آمدنی میں 13 فیصد کی کمی ہوئی۔

رپورٹ کے مطابق ایک سال میں اسٹیٹ بینک کے مالی ذخائر 19 ارب 22 کروڑ ڈالر سے کم ہو کر 7 ارب 88 کروڑ ڈالر رہ گئے۔

وزارت خزانہ کی رپورٹ کے مطابق جولائی تا اگست غیر ملکی سرمایہ کاری میں 26.1 فیصد کمی ہوئی۔

رپورٹ کے مطابق  جولائی تا اگست سمندر پار پاکستانیوں کی ترسیلات زر 3.2 فیصد کم رہیں۔

جولائی تا اگست 2022 میں کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ 1.9 فیصد رہا جبکہ  گزشتہ سال جولائی تا اگست کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ 2.4 فیصد تھا۔

متعلقہ تحاریر