پی ایس او نے غیرملکی کمپنی کیخلاف 1.46کروڑ ڈالر کا ثالثی کا مقدمہ جیت لیا

پاکستان اسٹیٹ آئل (پی ایس او) نے گزشتہ چند سالوں کے دوران مائع قدرتی گیس (ایل این جی) کی فراہمی کے دوران  اضافی پورٹ چارجز وصول کرنے والی بین الاقومی  کمپنی  ’گنور انٹرنیشنل بی وی ‘ کے خلاف تقریباً ڈیڑھ کروڑ  ڈالر کا ثالثی کا مقدمہ جیت لیا۔

پاکستان اسٹیٹ آئل اور جنیوا میں قائم گنور نے 2015-16 میں 100 ملین مکعب فٹ یومیہ( ایم ایم سی ایف ڈی) ایل این جی کی فراہمی کے لیے5 سالہ معاہدے پر دستخط کیے تھے۔

یہ بھی پڑھیے

نیلم جہلم سرچارج: حکومت نے عوام کو 5 ارب روپے سے زائد کا چونا لگا دیا

رائڈ ہیلپنگ ایپ اوبر نے کراچی سمیت 5 بڑے شہروں میں سروس بند کردی

معاہدے کے تحت  پی ایس او نے ایل این جی کارگوز  کے ساتھ پورٹ چارجز کی مد میں  بھی گنور کو ادائیگی شروع کردی لیکن مفاہمت کا مطالبہ کرتا رہااور ساڑھے چار سال تک پورٹ چارجز کی مد میں ایل این جی سپلائر کو اضافی ادائیگیاں جاری رکھیں۔

اسی طرح کے چارجز حکومت کے زیر انتظام پاکستان ایل این جی لمیٹڈ (پی ایل ایل) اپنے سپلائرز کو بھی ادا کر رہی تھی۔ گنور معاہدوں کے برخلاف باربار  پی ایل ایل کو ایل این جی کی فراہمی میں ناکام رہا اور  کئی سال سے بجلی کے بحران میں مبتلا پاکستان کے کنٹریکٹ شدہ کارگوز کوبعض مواقع پر پاکستان سے طے شدہ قیمت کے مقابلے میں تین گناہ زائد قیمت پر اسپاٹ مارکیٹ میں فروخت کردیا۔

ذرائع نے بتایا کہ دونوں کمپنیوں کے اندرونی آڈیٹرز اور بورڈ آف ڈائریکٹرز نے زائد ادائیگیوں کی نشاندہی کی اور اصلاح کی خواہش کی۔ پی ایس او کی طرف سے کافی فالو اپ کے بعد گنور نے ادائیگیوں کی مفاہمت کا اشتراک کیا جس سے یہ ظاہر ہوا کہ ایل این جی فراہم کنندہ نے مبینہ طور پر پی ایس او سے تقریباً ایک کروڑ 46 لاکھ ڈالر زائد وصول کیے تھے۔

تفصیلی گفت و شنید اوراعداد و شمار کے تبادلے نے پی ایس او کے موقف کو درست ثابت کیا اور گنور  نے کارگو کی رقم پر نظر ثانی کی  لہٰذاپی ایس او نے آئندہ کارگو کی ادائیگیوں سے گنور کی جانب سے زائد وصول کی گئی متنازع رقم کو روک دیا اور سندھ ہائی کورٹ سے سپلائی میں کسی رکاوٹ یا نظرثانی شدہ چارجز میں تبدیلی کے لیے روک تھام کے احکامات حاصل کرلیے۔

اس کے جواب میں گنور نے حکم امتناع کیلیے لندن ہائی کورٹ سے رجوع کیا اور پی ایس او کو کراچی میں کارروائی سے روک دیا۔ دسمبر 2020 میں سپلائی کے معاہدے کی میعاد ختم ہونے کے فوراً بعد گنور نے پی ایس او کے خلاف لندن کی بین الاقوامی ثالثی عدالت(ایل سی سی آئی اے)  میں مقدمہ کردیا۔

تقریباً 21 ماہ کی کارروائی کے بعد، ایل سی آئی اے نے گزشتہ ہفتے پی ایس او کے حق میں ایک کروڑ 46لاکھ ڈالر اور دیگر قانونی اور ثالثی اخراجات کی ادائیگی کا فیصلہ جاری کردیا ۔ یہ  شاید ثالثی کی واحد کامیابی ہے جو گزشتہ دو دہائیوں میں پاکستانی اداروں کو حاصل ہوئی ہے۔

تقریباً سات سال قبل،پی ایس او نے گنور کے ساتھ 100 ایم ایم سی ایف ڈی کے لیے پانچ سال کے لیے اور قطر پیٹرولیم کے ساتھ 500 ایم ایم سی ایف ڈی کے لیے 15 سال کے لیے طویل مدتی ایل این جی سپلائی کا معاہدہ کیا تھا۔

متعلقہ تحاریر