پاکستانی کرنسی گراوٹ کا شکار: اوپن مارکیٹ میں ڈالر 4 روپے مہنگا ہوگیا
امریکی کرنسی ڈالر کے مقابلے میں مسلسل مضبوط ہوتا روپیہ گزشتہ 2 روز سے دباؤ کا شکار ہے، کاروباری ہفتے کے آخری روز اوپن مارکیٹ میں ڈالر 4 روپے مہنگا ہوکر 226 روپے کا ہوگیا تاہم انٹربینک میں 5 پیسے کا معمولی اضافہ دیکھا گیا

امریکی کرنسی ڈالر کے مقابلے میں مسلسل مضبوط ہوتا روپیہ گزشتہ 2 روز سے دباؤ کا شکار ہے۔ کاروباری ہفتے کے آخری روز انٹربینک اور اوپن مارکیٹ میں ڈالر کی قدر میں اضافے کا رجحان رہا ۔
امریکی کرنسی ڈالر کا مسلسل 14 روز تک دباؤ میں رکھنے والی پاکستانی کرنسی گزشتہ 2 روز سے خود دباؤ کا سامنا کر رہی ہے ۔ گزشتہ روز انٹر بینک میں ڈالر 9 پیسے جبکہ آج 5 پیسے مہنگا ہوگیا ہے ۔
یہ بھی پڑھیے
شہباز حکومت کے 6 ماہ میں زرمبادلہ کے ذخائر تین سال کی کم ترین سطح پرآگئے
اسٹیٹ بینک کے اعداد و شمار کے مطابق آج انٹر بینک میں ڈالر کی قدر میں اعشاریہ صفر 2فیصد اضافہ ہوا۔ 5 پیسے سے اضافے سے انٹربینک میں ایک ڈالر 218 روپے 43 پیسے کی سطح پر آگیا ہے ۔
Interbank closing #ExchangeRate for todayhttps://t.co/so7HOyEuNx pic.twitter.com/SQZ382PpBW
— SBP (@StateBank_Pak) October 14, 2022
اوپن مارکیٹ میں بھی ڈالر نے پاکستانی روپے کو سخت مشکل میں ڈالے رکھا۔ فاریکس ایسوسی ایشن کے مطابق آج اوپن مارکیٹ میں ڈالر 4 روپے مہنگا ہوکر 226 روپے کا ہوگیا ہے ۔
معاشی ماہرین کا کہنا ہے کہ اوپن مارکیٹ میں ڈالر کی قدر میں اضافے کی وجوہات افغانستان اسمگلنگ ہے۔ ماہرین کے مطابق پشاور میں ایک ڈالر 233 روپے جبکہ افغانستان میں 238 روپے کا ہے ۔
ماہرین کے مطابق افغانستان سے ملحقہ علاقوں سے ڈالر کی اسمگلنگ کی جارہی ہے جس کی وجہ سے ڈالر کی قدر میں اضافہ ہوتا جارہا ہے ۔ اس پر قابو پانا انتہائی ضروری ہوگیا ہے ۔
معاشی ماہرین نے حکومت و قانون نافذ کرنے والے اداروں سے ڈالر کی اسمگلنگ میں ملوث افراد کے خلاف قانونی کارروائی کا مطالبہ بھی کیا ہے ۔









