کراچی سرکلر ریلوے کی تعمیر،292 ارب روپے کا منصوبہ منظور
منصوبے کا بنیادی مقصد میٹروپولیٹن سٹی کراچی کو قابل اعتماد، محفوظ اور ماحول دوست پبلک ٹرانسپورٹ فراہم کرنا ہے۔
کیا کراچی کی قسمت بدلے گی، وفاقی حکومت نے کراچی سرکلر ریلوے (کے سی آر) کے لیے 292 ارب روپے کا منصوبہ منظور کرلیا۔
سنٹرل ڈویلپمنٹ ورکنگ پارٹی (سی ڈی ڈبلیو پی) نے 292.38 ارب روپے کی لاگت سے تعمیر ہونے والے کراچی سرکلر ریلوے منصوبے کی باقاعدہ منظوری دے دی ہے۔
یہ بھی پڑھیے
گورنر سندھ کی صدر ایف پی سی سی آئی کو وفاقی وزیر کا درجہ دینے کی تجویز
اتحادی حکومت نے کراچی کے عوام پر ایک مرتبہ پھر بجلی گرادی
منصوبے کی منظوری وفاقی وزیر منصوبہ بندی پروفیسر احسن اقبال کی زیرصدارت سی ڈی ڈبلیو پی کے اجلاس میں دی گئی۔
یہ منصوبہ پاکستان کے سب سے بڑے شہر اور صوبہ سندھ کے دارالحکومت کراچی میں سڑکوں کے نیٹ ورک، پبلک ٹرانسپورٹ/ماس ٹرانزٹ سہولیات کی فراہمی اور ٹریفک مینجمنٹ سمیت ٹرانسپورٹ کے بنیادی ڈھانچے کی بہتری کے لیے شروع کیا گیا ہے۔
کے سی آر کی ایک جدید اربن ریلوے کے طور پر ترقی کراچی میں پبلک ٹرانسپورٹ کی موجودہ سہولیات میں اضافہ کرے گی جو کہ جدید ماس ٹرانزٹ سہولیات کی عدم دستیابی اور بڑی بسوں کی رسد میں کمی کی وجہ سے گزشتہ چند دہائیوں کے دوران بڑھتی ہوئی طلب کو پورا کرنے کے لیے کم پڑگئی ہیں جب کہ شہر بدستور جاری ہے۔
آبادی اور شہری علاقوں میں توسیع
منصوبے کا بنیادی مقصد میٹروپولیٹن سٹی کراچی کو قابل اعتماد، محفوظ اور ماحول دوست پبلک ٹرانسپورٹ فراہم کرنا ہے۔
اس منصوبے میں 43 کلومیٹر کے ڈوئل ٹریک اربن ریل ماس ٹرانزٹ سسٹم کی تعمیر 4 سال کی مدت میں متوقع ہے۔ اس منصوبے سے توقع ہے کہ یومیہ 457,000 مسافروں کو یومیہ سواری میسر آئے گی، جو مستقبل میں 10 لاکھ یومیہ تک پہنچنے کی توقع ہے۔
یہ منصوبہ الیکٹرک ٹرینوں کا استعمال کرے گا اور ہفتے میں 7 دن اور دن میں 17 گھنٹے کام کرے گا۔ منصوبے کے تحت شہر کے گنجان آباد علاقے کو کوریڈور کے ساتھ ساتھ تیس اسٹیشن بنائے جائیں گے۔ منصوبے کے معاشی فوائد گاڑیوں کے چلانے کے اخراجات، ماحولیاتی تحفظ، حادثات اور وقت کی بچت، صنفی مساوات کو فروغ دینے میں شراکت، اور ٹیکس کے پھیلاؤ کے اثرات کے لحاظ سے غیر معمولی ہیں۔









