88 فیصد کاروباری اداروں نے ملک کی سمت کو غلط قرار دیدیا، گیلپ سروے
رواں سال کی ابتدا کے مقابلے میں ملک کی سمت کو غلط سمجھنے والے کاروباری اداروں کی تعداد میں 32 فیصد اضافہ ہوا ہے، کاروباری اداروں کی 80 سے 90فیصد اکثریت نے ملک کے مستقبل سے مایوسی کا اظہار کیا ہے، گیلپ

ملک میں کشیدہ سیاسی صورتحال اور غیریقینی نے کاروباری طبقے کے اعتماد کو بری طرح متاثر کیا ہے۔ گیلپ سروے میں کاروباری اداروں کی بھاری اکثریت نے ملک کی سمت کو غلط قرار دیدیا۔
گیلپ اینڈ گیلانی پاکستان کے حالیہ سروے میں ملک کے کاروباری طبقے میں پائے جانے والے خدشات کی تشویشناک صورتحال سامنے آئی ہے۔
یہ بھی پڑھیے
سیاسی عدم استحکام کے باعث کاروباری شعبہ شدید مایوسی کاشکار ہے،گیلپ سروے
63فیصد عوام کا ملک میں فوری انتخابات کا مطالبہ، آئی پی او آر سروے
حالیہ سروے گیلپ انٹر نیشنل سے منسلک گیلپ اور گیلانی پاکستان کی مدد سے کیا گیا۔ یہ سروے پاکستان کے چاروں صوبوں کی دیہی و شہری آبادی کے مینوفیکچرنگ ، تجارتی اور سروسز فراہم کرنے والے شعبوں کے 754 کاروباری اداروں سے 19 ستمبر 2022سے 14 اکتوبر 2022 کے دوران بذریعہ فون انٹرویو کیاگیا ۔
گیلپ اینڈ گیلانی پاکستان کی جانب سے کرائے گئے ایک سروے کے مطابق پاکستانی کاروباری اداروں کی88 فیصد اکثریت سمجھتی ہے کہ ملک’غلط سمت‘جا رہا ہے۔
پاکستان کے کاروباری اداروں کی بڑی تعداد (88%) کا خیال ہے کہ آج کل ملک غلط سمت میں جا رہا ہے۔ سال کے آغاز میں کی جانے والی ویو کی نسبت کاروباری اداروں میں 32% کی زائد شرح نے اس رائے کا اظہار کیا کہ آج کل ملک غلط سمت میں جارہا ہے.
مزید جانیئے:https://t.co/r94ZzI3uPA pic.twitter.com/HnkPHq0vkx
— Gallup Pakistan (@GallupPak) November 10, 2022
سروے کے نتائج واضح کررہے کہ رواں سال کی ابتدا کے مقابلے میں ملک کی سمت کو غلط سمجھنے والے کاروباری اداروں کی تعداد میں 32 فیصد اضافہ ہوا ہے۔
گیلپ اینڈ گیلانی پاکستان کے سروے میں ملک بھر سے کاروباری اداروں کے قومی سطح کے نمائندہ نمونے سے سوال پوچھا گیا کہ ملک کی سمت کے بارے میں آپ کی کیا رائے ہے؟ کیا ہم صحیح سمت میں جا رہے ہیں یا غلط؟
اس سوال کے جواب میں تشویشناک طور پر صرف 12 فیصد کاروباری اداروں نے کہا کہ ملک بہتر سمت جارہا ہے جبکہ 88 فیصد کی بھاری اکثریت نے قرار دیا کہ ملک غلط سمت میں جا رہا ہے۔سروے میں تمام اقسام کے کاروباری اداروں کی تقریباً 80 سے 90 فیصد شرح نے ملک کے مستقبل سے مایوسی کااظہار کیا ہے۔

سروے میں مصنوعات ساز اداروں کی 88 فیصد اکثریت نے ملک کی سمت کو غلط جبکہ 13فیصد نے درست قرار دیا ، خدمات کے شعبے سے منسلک 89 فیصداداروں نے ملک کی سمت کو غلط جبکہ 11فیصد نے درست قرار دیا۔
اسی طرح بیک وقت مصنوعات سازی اور خدمات سے منسلک 78فیصداداروں نے ملک کی سمت کو غلط جبکہ 22فیصد نے درست قرار دیا جبکہ تجارتی اداروں کی 87فیصد اکثریت نے ملک کی سمت کو غلط اور13فیصد نے درست قرار دیا ۔

یاد رہے کہ اس سے قبل گیلپ بزنس کانفیڈنس انڈیکس کے لیے 2022 کی آخری سہ ماہی میں کیے گئے گیلپ پاکستان کے سروے میں 65 فیصد کاروباری مالکان نے اس خیال کا اظہار کیا تھا کہ ان کے کاروبار کو خراب حالات کا سامنا ہے۔









