پاکستان جی7 گلوبل شیلڈ فنڈ سے مستفید ہونے والے ابتدائی ممالک میں شامل

پیر کو مصر میں کوپ27 سربراہی اجلاس کے موقع پر جی سیون کی جانب سے 200 ملین ڈالر سے زیادہ کی ابتدائی فنڈنگ ​​کے ساتھ اس پروگرام کا آغاز کیا گیا جس کا مقصد موسمیاتی آفات سے نقصان اٹھانے والے ممالک کی مدد کرنا ہے۔

پاکستان کو جی سیون گلوبل شیلڈ اقدام سے فنڈ وصول کرنے والے ابتدائی ممالک میں شامل کیاجائے گا۔

پیر کو مصر میں کوپ27 سربراہی اجلاس کے موقع پر جی سیون کی جانب سے 200 ملین ڈالر سے زیادہ کی ابتدائی فنڈنگ ​​کے ساتھ اس پروگرام کا آغاز کیا گیا جس کا مقصد موسمیاتی آفات سے نقصان اٹھانے والے ممالک کی مدد کرنا ہے۔

یہ بھی پڑھیے

آئی ایم ایف کے دورہ منسوخی کی کیا وجہ بنی؟ ڈار صاحب کی فاش غلطیاں

اکتوبرمیں گزشتہ سال کے مقابلے میں ترسیلات زر میں 15فیصد کمی

یہ پروگرام ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب پاکستان سمیت بہت سے کمزور ممالک گلوبل وارمنگ کے نتیجے میں سیلابوں سے ہونے والے نقصانات کے معاوضے کا مطالبہ کررہے ہیں۔

 یہ پروگرام سیلاب یا خشک سالی کے بعد ایک انشورنس اور ڈیزاسٹر پروٹیکشن فنڈ کے طور پر کام کرے گاجو 58 موسمیاتی کمزور معیشتوں کے وی 20 گروپ کے تعاون سے تیار کیا جا رہا ہے۔

جرمنی نے پاکستان کو 200 ملین ڈالر کی ’گلوبل شیلڈ‘ سے مستفید ہونے والے ابتدائی ممالک میں شامل  کیا ہے جبکہ دیگر ممالک میں بنگلہ دیش، کوسٹاریکا، فجی، گھانا، فلپائن اور سینیگال شامل ہیں۔۔ جرمنی کا کہنا ہے کہ یہ پیکج آنے والے مہینوں میں تیار کیے جائیں گے۔ یاد رہے کہ امریکی صدر جو بائیڈن نے جمعے کو اپنی COP27 تقریر کے دوران  ”گلوبل شیلڈ“ کی حمایت   کااعلان کیا تھا۔

متعلقہ تحاریر