سیاسی عدم استحکام نے ٹیکنالوجی ایکسپورٹ کا بھٹہ بٹھادیا

رواں سال کے آغاز میں ٹیکنالوجی ایکسپورٹ کا تخمینہ 3ارب ڈالر لگایا گیا تھا، مارچ 212.3 ملین ڈالر کی بلند ترین سطح پر پہنچنے کے بعد ٹیکنالوجی ایکسپورٹ دوبارہ اس سطح پر نہیں پہنچ سکیں، مئی 2020 کے بعد رواں سال ستمبر میں پہلا موقع تھا جب آئی ٹی کی برآمدات میں ایک سال کے عرصے میں کمی واقع ہوئی، روزنامہ ڈان کی رپورٹ

رواں سال اپریل میں پاکستان تحریک انصاف کی حکومت کے خاتمے کے بعد ملک میں آنے والے سیاسی عدم استحکام نے  ٹیکنالوجی ایکسپورٹ کا بھٹہ بٹھادیا۔

انگریزی روزنامہ ڈان میں شائع ہونے والے مطاہر خان کی رپورٹ میں اعداد و شمار کی مدد سے صورتحال کا باریک بینی سے جائزہ لیا گیا ہے۔

یہ بھی پڑھیے

پیاز لہسن اور ادرک کے کنٹینرز پھنس گئے، کمرشل بینکوں کا مالی وارنٹی دینے سے انکار

اکتوبر میں وفاقی قرضوں کا حجم 50.15 کھرب روپے تک پہنچ گیا

مطاہر خان لکھتے ہیں کہ رواں سال کے آغاز میں  پاکستان مالی سال 2022کے لیے 3 ارب  ڈالر مالیت کی ٹیکنالوجی سروسز کی برآمدات کو چھورہا تھا۔ موجودہ وزیر آئی ٹی نے یہاں تک دعویٰ کیا کہ ہم اس سے آگے نکل جائیں گےاور اس وقت ترقی کی رفتار  کودیکھتے ہوئے  اس دعوے پر  شک کرنے کی کوئی وجہ بھی  نہیں تھی۔سمندر پار پاکستانیوں کے بعد  ملک میں زرمبادلہ کی آمد کی تمام امیدیں بنیادی طور پر اسی ایک شعبے سے وابستہ تھیں   ۔

لیکن پھر ٹیکنالوجی کے شعبے میں شرح نمو کم ہونا شروع ہو گئی۔ مارچ میں 212.3 ملین ڈالر کی بلندی تک پہنچنے کے بعد پاکستان کی ٹیلی کام، کمیونیکیشن اور انفارمیشن سروسز کی برآمدات7 ماہ میں دوبارہ اس سطح پر نہیں پہنچ سکیں۔ اسی پیرائے میں بات کی جائے  اس سے پہلے  ہماری ٹیکنالوجی ایکسپورٹ  ہر 3،4 ماہ بعد نئی بلندی کو چھوجاتی تھیں اور اس ضمن میں سب سے بڑی بہتری 2020 کی پہلی ششماہی میں دیکھنے میں آئی تھی۔

یہ معاملہ اب سیاسی رنگ اختیار کرچکا ہے کیونکہ پاکستان تحریک انصاف کے حامی  اپریل میں حکومت کی تبدیلی اور اس کے نتیجے  میں پیدا ہونے والی سیاسی بے یقینی کو اس سست روی کا ذمے دار ٹھہراتے ہیں ۔

دوسری طرف حکمران جماعت کے ہمدرد اسے خصوصیت کے بجائے ایک خامی کے طور پر دیکھتے ہیں۔ خوش قسمتی سے  یہ وہ جگہ ہے جہاں اعداد و شمار ہمیں کچھ سیاق و سباق دے سکتےہیں  یا شاید ہمیں اس سے بھی زیادہ الجھا سکتے ہیں ، یہ  اس پر منحصر ہے کہ آپ ان اعداد و شمار کو کس طرح دیکھتے ہیں۔

مثالی کے طور پر مالی سال2016 کی پہلی سہ ماہی کے بعد مالی سال 2023 کی پہلی سہ ماہی میں پہلی مرتبہ ٹیلی کام برآمدات میں گزشتہ سال کے مقابلے میں کمی واقع ہوئی۔ جولائی سے ستمبرکے دوران پاکستان کی اس شعبے سے حاصل ہونے والی آمدنی 633 ملین ڈالر رہی جو کہ گزشتہ چار سہ ماہیوں سے کم ہے۔ آخری بار ایسا کچھ مالی سال 2014 اور 2015 کےدوران ہوا تھا۔

مزید برآں پی ٹی آئی کے حکومت سے ہٹائے جانے کے بعد  اپریل اور اکتوبر کے درمیان ہر ماہ اوسطاً سال بہ سال نمو صرف 9.56 فیصد رہی ہے۔ 2021 کی اسی مدت میں  متعلقہ اعداد و شمار 48.83 فیصد تھے۔ دریں اثنا مئی 2020 کے بعد رواں سال ستمبر میں پہلا موقع تھا جب آئی ٹی کی برآمدات میں ایک سال کے عرصے میں  کمی واقع ہوئی۔ اگرجولائی 2006 کے بعد سے اعداد وشمار پر نظر ڈالی جائے تو 196میں سے صرف 21 ماہ یہ رجحان دیکھا گیا ہے لہٰذا یہ پہلے (پی ٹی آئی ) کیمپ کے دعووں کو کچھ قابل اعتبار بناتا ہے ۔

تاہم کیا ہم واقعی یہ کہہ رہے ہیں کہ پاکستان کی منافع بخش ٹیک کمپنیوں  نے   اچانک صرف اس لیے  فروخت  کم کردی ہیں کہ حکومت  تبدیل ہوگئی ہے؟ اگر ہم ٹیلی کام کی برآمدات میں ماہانہ سال بہ سال تبدیلی پر نظر ڈالیں تو یہ دراصل اپریل 2021 میں عدم اعتماد کے ووٹ سے ایک سال قبل عروج پر تھی۔ مجھے غلط مت سمجھیں، اس کے بعد بھی صحت مندنمو کا سلسلہ جاری تھا  لیکن یہ واضح طور پرتنزلی کاشکار تھااور رواں  سال  جنوری تک 15.71فیصد تک پہنچ گیا تھا۔

یہ اب بھی اس بات کا جواز نہیں ہے کہ اپریل کے بعد چار مہینے (سات میں سے) بشمول ستمبر    ایسے آئے جب آئی ٹی کی آمدنی میں سال بہ سال تبدیلی 10 فیصد سے کم تھی ۔ یہ آخری بار اکتوبر 2016 اور فروری 2017 کے درمیان ہوا اور اس وقت بھی  مسلم لیگ ن کی حکومت  تھی۔

حکمران جماعت کی برآمدات دشمن تاریخ کو دیکھتے ہوئے  اس امر کو قابل فہم سمجھا جاسکتا ہے ۔ پھر اس میں کرنسی مارکیٹ کے اتار چڑھاؤ کو شامل کریں جو ہم نے پچھلے چند مہینوں میں دیکھا ہے۔ یہ کوئی تعجب کی بات نہیں ہے کہ ٹیک کمپنیاں محتاط ہیں اور شاید رقم ملک میں واپس لانے میں بھی ہچکچاہٹ کا شکار ہیں۔ ملک کے لیے، ظاہر ہےاس سے برا کوئی برا وقت نہیں ہو سکتا۔

کوئی یہ بحث کر سکتا ہے کہ ترقی کو ایک موقع پر کم ہونا پڑا، خاص طور پر جب سے عالمی معیشت نے گیئرز تبدیل کر دیے ہیں۔ بہر حال، یہ کرونا وبا تھی  جس نے اداروں کے زیادہ ڈیجیٹل اخراجات کی بدولت  ہمارے (اور دوسروں کے) ٹیکنالوجی منصوبوں کو بڑا فروغ دیا  ۔ یہ بلندی اب ختم ہو چکی ہے کیونکہ دنیا ریکارڈ بلند افراط زر کے ساتھ ساتھ مارکیٹ میں اصلاحات کی وجہ سے کساد بازاری کی طرف بڑھ رہی ہے۔ کمپنیاں قدرتی طور پر لاگت میں کمی کے اقدامات کر رہی ہیں۔

لیکن اس استدلال میں کچھ مسائل ہیں۔ اول یہ کہ پاکستان نے کبھی بھی بڑے میدان میں زیادہ اثر محسوس کرنے کی حکمت عملی نہیں اپنائی۔ پڑوسی ملک بھارت کے برعکس، ہماری کمپنیاں واقعی 100 ملین ڈالر یا اس سے زیادہ کے بڑے معاہدوں کے لیے بولی نہیں لگا رہی تھیں۔ مثال کے طور پر، ہمارا سب سے بڑا آئی ٹی ایکسپورٹر ،سسٹمز لمیٹڈ، 2022 میں پہلی بار  100 ملین  ڈالرسے تجاوز کرے گا (جس میں سے تقریباً 20 فیصد مقامی مارکیٹ سے آتا ہے)۔

اس لیے کسی بھی سست روی سے ہمیں پریشان نہیں ہونا چاہیے کیونکہ دنیا بھر کے کارپوریٹ چھوٹے منصوبوں کو آؤٹ سورس کرتے رہیں گے، جوکہ  ہم بہرحال کرتے ہیں۔ دوم، پاکستان اب بھی 2.6 ارب ڈالر کی کافی کم بنیاد پر ہے، جہاں دہرے ہندسوں کی ترقی پہنچ کے اندر ہے۔ اگر انڈیا اپنی آئی ٹی خدمات (ہارڈ ویئر کو چھوڑ کر) پچھلے سال 150ارب ڈالر سےزائد کی بنیاد سے 17فیصد تک بڑھانے میں کامیاب ہوا، اس کی کوئی وجہ نہیں ہے کہ ہماری ترقی پہلے ہی کم ہونا شروع ہو جائے۔

حیرت کی بات یہ ہے کہ آئی ٹی سروسز میں بڑی پاکستانی کمپنیاں اب بھی  بھرتیاں کررہی ہیں ، گوکہ ان بھرتیوں کی پچھلے سال کی طرح جارحانہ رفتار نہیں ہے ۔ بہت سے لوگ دراصل بیرون ملک اپنے سیلز دفاتر کو بڑھا رہے ہیں۔جس سے یہ نتیجہ اخذ کیاجاسکتا ہے کہ برآمدی آمدن میں کسی قسم کی سست روی کاروبار کی کمی کی وجہ سے نہیں بلکہ شاید سیاسی غیر یقینی کا نتیجہ ہے۔

اگر ایسا ہے تو حکومت کو واقعی خواب غفلت سے بیدار ہونا چاہیے اور مارکیٹ میں اعتماد پیدا کرنا چاہیے بجائے اس کے کہ وہ وہی پرانی باتیں جاری رکھے جو ہمیں 2018 میں معاشی بحران کی طرف لے گئی تھیں۔

متعلقہ تحاریر