ملکی زر مبادلہ کے ذخائر5.5 ارب ڈالر تک گرگئے، اسٹیٹ بینک

زرمبادلہ کے ذخائر 245 ملین ڈالر کی کمی کے بعد 2014 کے بعدنچلی ترین سطح تک گر گئے ہیں، ریاستی بینک کا اعتراف

پاکستان کے زرمبادلہ کے ذخائر 5.58ارب ڈالر تک گرگئے جوکہ اپریل 2014 کے بعد کم ترین سطح ہے۔

مرکزی بینک کے جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق اسٹیٹ بینک آف پاکستان(ایس بی پی) کے پاس موجود زرمبادلہ کے ذخائر میں کمی کا سلسلہ جاری ہے، جو کہ 245 ملین ڈالر کی کمی کے ساتھ 5.58 ڈالر تک پہنچ گئے، جو کہ اپریل 2014 کے بعد کی کم ترین سطح ہے۔

یہ بھی پڑھیے

اسٹاک ایکسچینج میں تیزی کا رجحان اور سونا سستا ہوگیا مگر ڈالر بے قابو رہا

طارق بشیر چیمہ نے مہنگی مرغی کے سوال پر سویابین کے نقصانات گنوانا شروع کردیے

ملک کے پاس کل مائع غیر ملکی ذخائر 11.43 ارب ڈالر رہ گئے ہیں ۔ دریں اثنا، کمرشل بینکوں کے پاس خالص غیر ملکی ذخائر 5.85 ارب  ڈالر رہ گئے ہیں۔ 18 ماہ کے دوران زرمبادلہ کے ذخائر میں 1.3 ارب ڈالر کی کمی ہوئی جو صرف تین ماہ کی  درآمدی اخراجات کے برابر ہے۔2 جولائی 2021 کوکمرشل بینکوں کے پاس موجود ذخائر تقریباً 7.183 ارب  ڈالر تھے۔

اسٹیٹ بینک نے کہاہے کہ 30 دسمبر 2022 کو ختم ہونے والے ہفتے کے دوران، بیرونی قرضوں کی ادائیگی کی وجہ سےاسکے پاس موجود زرمبادلہ کے ذخائر 245 ملین ڈالر کم ہو کر 5,576.5 ملین ڈالر ہو گئے

گزشتہ ہفتے اسٹیٹ بینک کے پاس موجود زرمبادلہ کے ذخائر 294 ملین ڈالر کم ہو کر 5.82 ارب  ڈالر رہ گئے تھے۔ ملک کے پاس موجود کل مائع غیر ملکی ذخائر، بشمول اسٹیٹ بینک کے علاوہ دیگر بینکوں کے پاس موجود خالص ذخائر 11,707.2 ملین ڈالر رہے۔

وزیر خزانہ اسحاق ڈار کے دعوؤں کے باوجود معاشی بحران روز بروز شدت اختیار کرتا جا رہا ہے اور ساتھ ہی پاکستان کے دیوالیہ ہونے کا خطرہ بھی برھ رہا ہے۔

بدھ کو وزیرخزانہ اسحاق ڈار نے دعویٰ کیا کہ سعودی عرب اور چین اس ماہ کے اختتام سے بہت پہلے پاکستان کے زرمبادلہ کے ذخائر کو بڑھانے کے لیے تیار تھے۔

انہوں نے یہ بھی اعلان کیا کہ وفاقی حکومت جلد ہی مالداروں پر فلڈ لیوی اور بینکوں کی غیر ملکی زرمبادلہ کی آمدنی پر ایک اہم گین ٹیکس عائد کرے گی تاکہ آمدنی میں اضافہ ہو سکے۔

اسحاق ڈار نے 5وفاقی وزرا کے ساتھ پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہاکہ  جون کے آخر تک ہمارے زرمبادلہ کے ذخائر اس سے کہیں بہتر ہوں گے جتنا آپ سوچ سکتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ آئی ایم ایف پروگرام کو ہر قیمت پر مکمل کیا جائے گا، چین اور سعودی عرب اپنی حمایت میں اضافہ کریں گے، حکومت سے حکومت (جی ٹو جی) کی سرمایہ کاری مکمل کی جائے گی اور کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ تقریباً 3 ارب ڈالر کم ہو جائے گا۔

وزیرخزانہ  نے ملک کے اپنے غیر ملکی قرضوں میں نادہندہ ہونے کے امکان کے بارے میں سوالات کو بار بار مسترد کرتے ہوئے اصرار کیا کہ اس طرح کی قیاس آرائیاں پی ٹی آئی کی طرف سے کی جا رہی ہیں، جس کا وائٹ پیپر  جھوٹ کا ایک  پلندہ تھا ۔

متعلقہ تحاریر