بینکوں کا استثنیٰ کے باوجود خوردنی تیل کی درآمد کیلیے ایل سیز جاری کرنے سے انکار

ایل سیز کو بغیر کسی رکاوٹ کے کھولنا ناگزیر ہے ، اس حوالے سے اسٹیٹ بینک کے 27 دسمبر کو جاری کردہ حکم نامے کے مطابق ترجیح دی جانی چاہیے کیونکہ خام مال کی عدم دستیابی کھانا پکانے کے تیل/گھی کی قیمتوں میں اضافے اور قلت کا باعث بن سکتی ہے، شیخ عبدالرزاق

مرکزی بینک سے پیشگی اجازت کی شرط سے استثنیٰ  کے باوجود تجارتی بینکوں نے خوردنی تیل کی درآمد کے لیے لیٹر آف کریڈٹ (ایل سیز) کھولنے سے انکار کردیا۔

خوردنی تیل کے درآمد کنندگان اور گھی مینوفیکچررز کو غیر سرکاری طور پر مطلع کیا گیا ہے کہ ان کے لیٹر آف کریڈٹ(ایل سیز) انٹربینک ایکسچینج ریٹ پر نہیں کھولے جا سکتے تاہم  بینک ایسے درآمد کنندگان کے لیے بخوشی کاروبار کیلیے تیار ہیں جو    ایک ڈالر کے مقابلے میں 250 روپے اور اس سے زیادہ شرح مبادلہ پر ایل  سیز کھولنے پر آمادہ ہیں ۔

یہ بھی پڑھیے

جنوری کے پہلے ہفتے میں مہنگائی گزشتہ سال کے نسبت 30 فیصد بڑھ گئی

20 کلو آٹے کا تھیلا 700 روپے مہنگا، وفاقی اور صوبائی حکومتیں خاموش تماشائی

پاکستان ونساپتی مینوفیکچررز ایسوسی ایشن (پی وی ایم اے) کے چیئرمین شیخ عبدالرزاق نے اسٹیٹ بینک آف پاکستان (ایس بی پی) کے گورنر کو لکھے گئے خط میں کہا ہے کہ کمرشل بینک خوردنی تیل کے درآمد کنندگان اور مینوفیکچررز کو آگاہ کر رہے ہیں کہ فوری طور پر خوردنی تیل  کو ضروری اشیا کی فہرست سے خارج کر دیا گیا ہے اور اس وجہ سے ایل سیز کھولنے کی درخواستوں کو مسترد کر دیا گیا ہے۔

انہوں نے مزید بتایا کہ لیٹر آف کریڈٹ کو بغیر کسی رکاوٹ کے کھولنا ناگزیر ہے ، اسےاسٹیٹ بینک کے 27 دسمبر کو جاری کردہ حکم نامے کے مطابق ترجیح دی جانی چاہیے،کیونکہ خام مال (خوردنی تیل) کی عدم دستیابی کھانا پکانے کے تیل/گھی کی قیمتوں میں اضافے اور قلت کا باعث بن سکتی ہے۔

پاکستان سالانہ 4.5 ملین میٹرک ٹن سے زیادہ کی قومی ضرورت کو پورا کرنے کے لیے اپنی خوردنی تیل کی طلب کا 90 فیصد درآمد کرتا ہے۔ موجودہ ملکی ذخائر صرف تین سے چار ہفتوں کی طلب کو پورا کرنے کے لیے کافی ہیں۔ تاہم ایل سیز کھولنے میں رکاوٹ ہموار سپلائی لائن میں خلل ڈال سکتی ہے اور اس کے نتیجے میں مارکیٹ میں خلل پڑ سکتا ہے۔

متعلقہ تحاریر