پاکستان افغانستان اور ازبکستان نے ریلوے لائن منصوبے کو حتمی شکل دے دی

یہ ریلوے لائن منصوبہ وسطی ایشیا کو افغانستان کے راستے جنوبی ایشیا سے اور وسطی ایشیا کے ممالک کو پاکستان اور دیگر ممالک کی آبی بندرگاہوں سے ریل کے ذریعے ملائے گا۔

پاک ، افغان ، ازبک ریلوے لائن منصوبے کے حوالے سے کئی اہم امور کو پاکستان افغانستان اور ازبکستان کے حکام نے حتمی شکل دے دی۔ یہ منصوبہ 6 ارب ڈالر کی لاگت سے 5 سال میں مکمل ہوگا، جس سے علاقائی اور دوطرفہ تجارت کو فروغ دینے میں مدد ملے گی۔

ٹرانس افغان ریلوے پراجیکٹ (ترمز-مزار شریف- پشاور ریلوے لائن) پر سہ فریقی ورکنگ گروپ کے آٹھواں اجلاس کے موقع پر افغان ریلوے اتھارٹی کے وفد نے اسلام آباد میں وزارت ریلوے کا دورہ کیا۔

یہ بھی پڑھیے

بینکوں کا استثنیٰ کے باوجود خوردنی تیل کی درآمد کیلیے ایل سیز جاری کرنے سے انکار

جنوری کے پہلے ہفتے میں مہنگائی گزشتہ سال کے نسبت 30 فیصد بڑھ گئی

اجلاس کی صدارت پاکستان کی طرف ایڈیشنل سیکرٹری ریلویز سید مظہر علی شاہ نے کی ، افغانستان سے ڈائریکٹر جنرل الحاج ملا بخت الرحمان شرافت اور ازبکستان کی طرف سے قائم مقام ڈپٹی چیئرمین کمالوف اکمل سید اکاباروچ نے بزریعہ ویڈیو لنک شرکت کی۔

اجلاس میں منصوبے کی اہمیت، ابتدائی تکنیکی جائزوں پر ہونے والی پیش رفت اور فزیبلٹی اسٹڈی کے جلد آغاز کے لیے اگلے اقدامات پر تبادلہ خیال کیا گیا۔

منصوبہ مزار شریف سے موجودہ ریلوے لنک کو پاکستان ریلوے نیٹ ورک سے جوڑ کر پاکستان کو وسطی ایشیائی جمہوریہ سے جوڑے گا۔ اس سے نہ صرف منصوبہ میں شامل ممالک کے درمیان علاقائی اور دوطرفہ تجارت کو آسان بنایا جا سکے گا بلکہ خطے کے عوام کے روابط فروغ پائیں گے۔

ذرائع کے مطابق اس ریلوے لائن کی تعمیر نہ صرف افغانستان بلکہ خطے کے لیے ایک بنیادی ریل نیٹ ورک دستیاب ہوگا۔

یہ ریلوے لائن منصوبہ وسطی ایشیا کو افغانستان کے راستے جنوبی ایشیا سے اور وسطی ایشیا کے ممالک کو پاکستان اور دیگر ممالک کی آبی بندرگاہوں سے ریل کے ذریعے ملائے گا۔

افغانستان واحد ملک ہے جہاں سب سے کم ریلوے لائنیں ہیں، مزار شریف سے کابل اور پھر صوبہ جلال آباد تک افغان ریل نیٹ موجود ہے جہاں سے ریل۔نیٹ ورک کو پاکستانی سرحد کے  اندرطورخم  پشاور کے راستے پاکستان سے منسلک کیا جائے گا۔ یوں افغانستان اور خطے کے دیگر ممالک کو  کراچی، گوادر اور قاسم کی بندرگاہوں تک رسائی مل جائے گی۔

متعلقہ تحاریر