ٹی آر جی انٹرنیشنل جے ایس بینک، جے ایس گلوبل کے خلاف عدالت پہنچ گیا

ریسورس گروپ انٹرنیشنل لمیٹڈ (ٹی آر جی) نے اپنے سابق ڈاریکٹر ضیا چشتی اور ان کی اہلیہ سارہ جینیفر پوبیرسکن کے خلاف ایک پابند معاہدے کے قواعد و ضوابط کی خلاف ورزی پر قانونی جنگ شروع کردی ہے، سندھ ہائی کورٹ میں دائر کیے گئے مقدمے میں جے ایس بینک لمیٹڈ، جے ایس گلوبل کیپیٹل لمیٹڈ، ڈی جے ایم سیکیورٹیز لمیٹڈ اور دیگر کو بھی فریق بنایا گیا ہے

ریسورس گروپ انٹرنیشنل لمیٹڈ (ٹی آر جی) اپنی سابق ڈاریکٹر ضیا چستی، انکی اہلیہ اور جے ایس بینک لمیٹڈ، جے ایس گلوبل کیپیٹل لمیٹڈ، ڈی جے ایم سیکیورٹیز لمیٹڈ اور دیگر کے خلاف سندھ ہائی کورٹ میں  مقدمہ دائر کردیا ہے ۔

پاکستان اسٹاک ایکسچینج کو لکھے گئے ایک مراسلے میں ریسورس گروپ انٹرنیشنل لمیٹڈ (ٹی آر جی ) نے بتایا کہ سندھ ہائیکورٹ میں جے ایس بینک لمیٹڈ، جے ایس گلوبل کیپیٹل لمیٹڈ، ڈی جے ایم سیکیورٹیز لمیٹڈ اور دیگر کے خلاف مقدمہ دائر کردیا ہے ۔

یہ بھی پڑھیے

ٹی آر جی پاکستان نے جہانگیر صدیقی گروپ کے خلاف قانونی محاذ کھول دیا

ریسورس گروپ انٹرنیشنل لمیٹڈ (ٹی آر جی) کی جانب سے سندھ ہائی کورٹ میں دائر مقدمے میں بینک الحبیب لمیٹڈ، محمد ضیاء اللہ خان چشتی (ضیاء چشتی)، سارہ جینیفر پوبیرسکن (اہلیہ ضیاء چشتی) اور دیگرکو فریق بنایا گیا ہے ۔

ریسورس گروپ انٹرنیشنل لمیٹڈ (ٹی آر جی) کے پاکستان اسٹاک ایکسچینج کو لکھے گئے مراسلے میں کہا گیا ہے کہ ضیا چشتی اور ان کی اہلیہ سارہ جینیفر پوبیرسکن کے خلاف ایک پابند معاہدے کے قواعد و ضوابط کی خلاف ورزی پر قانونی جنگ شروع کردی ہے۔

ٹی آر جی نے سابق ڈائریکٹر ضیا چستی اور ان کی اہلیہ کو قابل اعتراض لین دین کیلئے سہولت فراہم کرنے کے معاملے میں کمرشل بینکس، جے ایس بینک لمیٹڈ، بینک الحبیب لمیٹڈ اور بروکریجز ہاؤسز، ڈی جے ایم سیکیورٹیز جے ایس گلوبل کیپٹل کو بھی شامل کیا ہے ۔

اسٹاک فائلنگ کے مطابق، ٹی آر جی انٹرنیشنل نے جے ایس بینک لمیٹڈ، جے ایس گلوبل کیپیٹل لمیٹڈ، بینک الحبیب لمیٹڈ، ڈی جے ایم سیکیورٹیز لمیٹڈ، محمد ضیاء اللہ خان چشتی (ایس ایچ سی) کراچی میں سندھ ہائیکورٹ میں مقدمہ دائر کیا ہے۔

ٹی آر جی کے سابق ڈاریکٹر ضیا چشتی پر اسٹاک پرچیز ایگریمنٹ  پرعائد پابندی کی خلاف ورزی  کا مقدمہ دائر کیا گیا ہے جو ٹی آر جی پاکستان کے حصص کی براہ راست یا بالواسطہ ملکیت پر کسی بھی قسم کی منتقلی یا بوجھ پر پابندی لگاتا ہے۔

متعلقہ تحاریر