پاکستان میں موبلٹی اسٹارٹ اپس قریب المرگ ہوگئے
سویئل اور ایئرلفٹ کی مکمل اور اُبر کی جزوی بندش کے بعد کریم کی آمدنی میں بھی خاطر خواہ کمی واقع ہوئی ہے،سواریوں کی تعداد 23 کروڑ 60 سے گھٹ کر 6 کروڑ 30 لاکھ تک پہنچ گئیں۔

پاکستان میں سستی اور معیاری سفری سہولت فراہم کرنے والے موبلٹی اسٹارٹ اپس قریب المرگ ہوگئے۔
سویئل اور ایئرلفٹ کی مکمل اور اُبر کی جزوی بندش کے بعد کریم کی آمدنی میں بھی خاطر خواہ کمی واقع ہوئی ہے۔
یہ بھی پڑھیے
پاکستان کی سیمی فائنل میں رسائی ، کریم نے بھارتی کمپنی کا حساب برابر کردیا
حمزہ شہباز کی ایوان وزیراعلیٰ سے روانگی پر کریم کی طنزیہ شرارت
پاکستان میں موبلٹی اسٹارٹ اپس کے شعبے میں آنے والے زوال کا اگلا شکار کریم بننے جارہی ہے۔ ٹیکنالوجی کے شعبے کا ڈیٹا مرتب کرنے والی پاکستانی کمپنی ڈیٹا دربار کے مطابق 2015 سے 2019 کے دوران کریم کی سواریاں 23کروڑ 60 لاکھ تھیں جو 2020 سے 2022 کے دوران کم ہوکر 6کروڑ 30 لاکھ سالانہ ہوگئی ہیں۔
Everyone says that @CareemPAK is finsihed but do you know how bad things are for them?
Take this. In 2015-2019, they did over *236M* trips in Pakistan of which 100M+ came in 2019 alone. Since then, the company has managed barely 63M trips.
Details: https://t.co/VhXS8WT3cN pic.twitter.com/A2tD9ajwLw
— Mutaher Khan (@MutaherKhan) January 10, 2023
ڈیٹا دربار کے مطابق کریم تکنیکی طور پر پاکستانی کمپنی نہیں ہے لیکن اس نے مقامی ٹیک ایکو سسٹم کو اس طریقے سے بدل دیا ہے جس کا انتظام اس کے بعد سے کوئی نہیں کرسکا ہے۔
اپنے عروج پر،رائیڈ ہیلنگ کمپنی ماہانہ 80 لاکھ سے زیادہ ٹرپس کر رہی تھی اور اس نے کھانے کی ڈیلیوری، انٹرسٹی بسیں، وغیرہ جیسی دیگر خدمات شروع متعارف کروائی تھیں تاہم 2020 کے بعد سے، کمپنی اپنے خول میں سکڑتی جارہی ہے ۔
بلاشبہ کرونا وبا نے تیزی سے سواریوں کے حجم کو متاثر کیا کیونکہ اپریل 2020 میں سواریوں کی تعداد 9500 تک گر گئی لیکن یہ واحد وجہ نہیں تھی ۔اُبر کی جانب سے کریم کو خریدے جانے کے بعد ، کمپنی کے پروں (پیسوں) کو تراش دیا گیا اور کریم اب گاہکوں کے حصول کیلیے پاگلوں کی طرح خرچ نہیں کر سکتی۔
ڈیٹا دربار کے مطابق کمپنی کی خراب صورتحال کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ 2015سے2019 کے دوران کمپنی کے پاس23 کروڑ 60 لاکھ سواریاں آئیں، 2019 میں 10 کروڑ سے زائد سواریاں آئیں تاہم 2020 سے نومبر 2022 کے دوران کمپنی کے پاس آنے والی سواریوں کی تعداد سُکڑ کر 6کروڑ 30 لاکھ تک رہ گئی۔
کریم کو اپنے کپتانوں کی گرتی ہوئی تعداد کی وجہ سے اپنی خدمات برقرار رکھنے میں جدوجہد کا سامنا ہےاور اِن ڈرائیور اسے سخت مسابقت کا سامنا ہے ۔ اسی اثنا میں کمپنی دیگر اداروں کی طرح پاکستان کی دگرگوں معاشی صورتحال سے متاثرہوئی ہے ۔
مثال کے طور پر، 2018 کے بعد سے کار اور ایندھن دونوں کی قیمتوں میں کافی اضافہ ہوا ہے جبکہ ڈالر کی قدر میں کمی ہوئی ہے جس سے ذرائع آمدو رفت کو چلانے کے لیے خاص طور پر مشکل شعبہ بنا دیا گیا ہے۔
پچھلے سال، کمپنی نے 25 ملین ڈالر کی سرمایہ کاری کے منصوبوں کا اعلان کیا اور کپتان کی مراعات میں اضافہ کیا لیکن کمپنی کو طلب اور رسد کے فرق کے باعث مدمقابل تک پہنچنے میں مشکلات کاسامنا ہے ۔









