فیشن برانڈ پر منٹو کا نام استعمال کرکے ناقص کپڑے مہنگے داموں بیچنے کا الزام
معروف فیشن برانڈ منٹو کا نام اورتحریریں استعمال کرکے ناقص کپڑے مہنگے داموں فروخت کررہی ہے اور مصنف کے لواحقین کو کسی قسم کی رائلٹی بھی ادا نہیں کررہی، سوشل میڈیا صارفین کا الزام

معروف فیشن برانڈ پر انقلابی خیالات کے مالک غریب پرور مصنف سعادت حسن منٹو کا نام استعمال کرکے ناقص معیار کے ملبوسات مہنگے داموں فروخت کرنے کا الزام عائد کردیا گیا۔
سوشل میڈیا صارف نے الزام عائد کیا ہے کہ معروف فیشن برانڈ منٹو کا نام اورتحریریں استعمال کرکے ناقص کپڑے مہنگے داموں فروخت کررہی ہے اور مصنف کے لواحقین کو کسی قسم کی رائلٹی بھی ادا نہیں کررہی۔
یہ بھی پڑھیے
گلوکارہ ماہا علی کاظمی کا علی نور پر کوک اسٹوڈیو میں جنسی ہراسانی کا الزام
امر خان کو کوئچیلا میں پنجاب کی صحیح نمائندگی دیکھ کر ٹھنڈ پڑگئی
احسن زوار نامی صارف نے اپنے ٹوئٹ میں لکھاکہ” یہ برانڈ منٹو جسے میری بیوی چاہتی ہے کہ میں آزماؤں۔ سعادت حسن منٹو کے نام پر مہنگے کپڑے بیچ رہا ہے،اس کے ڈیلیوری باکسز میں منٹو کے اقوال سے مزین کارڈ بھی موجودہوتے ہیں لیکن انہیں یا ان کے خاندان کو رائلٹی کی مد میں کچھ ادا نہیں کیا جاتا ، ان فراڈیوں سے کچھ نہیں خریدوں گا “۔
So this brand Manto which my wife wants me to try; they sell expensive clothes under the name of Sadaat Hasan Manto with his quotes card inside their delivery box and pay zero royalty to the man or his family. Nahe khareedonga inn fraudiyon say kuch
— Ahsan (@ahsanzawar) April 19, 2023
مونا حسین نامی صارف نے احسن زوار کے ٹوئٹ پر تبصرے میں لکھاکہ”میرے پاس منٹو کے 2 اسکارف ہیں جو بطور تحفہ ملے تھے،ان میں سے ایک پر اقبال کی شاعری درج ہے،اس لیے وہ نامور ادیبوں اور شاعروں کی تخلیقی صلاحیتوں کے ذریعے ناقص معیار کی چیزیں بیچ رہے ہیں اور پیسے بٹور رہے ہیں۔ کوئی اندازہ نہیں کہ آیا انہوں نے کاپی رائٹ کاحامل مواد استعمال کرنے کے لیے ایک بار کی فیس ادا کی ہے “۔
Don’t think the work is copyrighted as it used since forever. Junoon made millions from Iqbal and knowing a bit on Manto if he was alive he might have let his work be used for his as he wanted literature free for all but certainly not his name for such a thing
— Ahsan (@ahsanzawar) April 20, 2023
زوار حسین نے کہاکہ”ان ادبی شہ پاروں کے حقوق محفوظ نہیں ، یہ ہمیشہ سے استعمال ہورہے ہیں، جنون نے اقبال سے کروڑوں کمائے اور منٹو کے بارے میں جہاں تک میرا خیال ہے کہ اگر وہ زندہ ہوتے تو شاید اپنے کام کو استعمال کرنے دیتے کیونکہ وہ سب کے لیے مفت ادب چاہتے تھے لیکن یقیناً انکا نام ایسی چیز کے لیے نہیں تھا “۔









