عشنا شاہ نفرت کی سوداگر سوشل میڈیائی افواج کیخلاف پھٹ پڑیں

گسوشل میڈیائی افواج نہ ہوتیں تو عامر لیاقت آج زندہ ہوتے اور دانیہ کی زندگی برباد نہ ہوتی،فیروز خان کو اپنے پرستاروں کو علیزے کوبے عزت کرنے سے روکنا چاہیے،اداکارہ نے  فیروز خان کےساتھ تصویر کھنچوانے کی وجہ بتادی

اداکارہ عشنا شاہ نفرت کی سودا گر سوشل میڈیائی افواج کیخلاف پھٹ پڑیں۔اداکارہ نے عامر لیاقت کی موت اور دانیہ شاہ کی زندگی کی بربادی کا ذمے دار بھی سوشل میڈیائی افواج کو قرار دیدیا۔

اداکارہ نےمسلسل تضحیک کا نشانہ بنائے جانے کو  فیروزخان کے ساتھ تصویر کھنچوانے کی وجہ قرار دیدیا اور فیروز خان سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ اپنے پرستاروں کو سابقہ اہلیہ کی تضحیک سے روکیں۔

یہ بھی پڑھیے

عشنا شاہ مرحوم قوی خان کو نظر انداز کرنے پر ڈرامہ انڈسٹری پر برہم

عشنا شاہ نے ٹرولز سے معافی مانگنے کے بعد انسٹاگرام کو خیرباد کہہ دیا

 

اداکارہ عشنا شاہ نے ملیحہ رحمان کو یوٹیوب چینل پر دیے گئے انٹرویو  میں سوشل میڈیا پر تیزی سے پھیلتی ہوئی نفرت پر کھل کر بات کی ہے۔عشنا شاہ نے نے ایک سوال پر بتایاکہ”فیروز خان کا گھریلوتنازع سامنے آنے سےایک دو  ماہ پہلے  ہی ڈراما سیریل حبس کی شوٹنگ مکمل ہوچکی تھی،میرا اس کے ساتھ کوئی رابطہ نہیں تھا، حتیٰ کہ میں ملک میں موجود بھی نہیں تھی“۔

ڈرامہ سیریل حبس کے سیٹ پر فیروز خان کے ساتھ پہلے سے جاری تلخی اور ایک دوسرے کو انسٹاگرام پر ان فالو کرنے سے متعلق سوال پر عشنا شاہ نے کہاکہ ”میرا اس بات پر پختہ یقین ہے کہ  گرتے ہوئے کو دھکا نہیں دینا چاہیے  ،حبس کے سیٹ پر ہونے والے واقعات کا فیروزخان کی نجی زندگی میں جاری تنازعات سے کوئی تعلق نہیں تھا، ساتھ کام کرنے والوں میں اختلافات ہوتے ہیں اور دوستیاں ختم ہوجاتی ہیں اور ایسا ہی ہوا، مجھے اس سے شکوے شکایات تھے اور اسے مجھ سے تھے، ہم دونوں کا دنیا کو دیکھنے کا بالکل مختلف نقطہ نظر ہے، ہم دونوں دوست تھے، مجھے اسکی کچھ باتوں سے صدمہ پہنچا اور شاید اسے میری باتوں سے پہنچا ہو“۔

انہوں نے کہا کہ” جب فیروز خان کا تنازع سامنے آیا تو ہم لوگ اس وقت رابطے میں بھی نہیں تھے اور لوگوں نے مجھے اس معاملے میں گھسیٹ لیا،مجھے سمجھ نہیں آرہی تھی کہ ایسا کیوں ہے، کیونکہ میں سمجھ نہیں پارہی تھی کہ یہ ہوا کیا ہے تو میرے بارے میں مضامین لکھے جارہے تھےکہ یہ کیوں نہیں بول رہی“۔

انہوں نے کہاکہ” میں 15 گھنٹے نہیں بولی تو کہا گیا کہ یہ کیوں نہیں بول رہی اور جب میں نے یہ کہاکہ ظاہر ہے میرا دل ہمیشہ عورت کے ساتھ ہوگا چاہے اسکی غلطی ہو یا نہ ہو، کیونکہ ہمیں صدیوں سے دبایا جارہاہے، اگرمیرے بھائی کی بیو ی بھی کچھ کرے گی تو میرا پہلا ردعمل یہی ہوگا کہ اس کو سنا جائے، ہوسکتا ہے کہ وہ غلطی پر ہو لیکن مردوں کے غلطی پر ہونے کی تاریخ بہت طویل ہے،اس لیے میرا جھکاؤ سو فیصد عورت کی طرف ہوگا،جب  میں نے یہ موقف اپنایا تو بھی مجھے تنقید کا نشانہ بنایا گیا اور بلاوجہ کھینچ کر اس تنازع کا حصہ بنایا گیا“۔

انہوں نے کہاکہ” اگر میرے بھائی کی بیوی یہ کہے گی تو میں اس کا ساتھ دوں گا اور جب میں نے علیزہ کا ساتھ دیا تو مجھے دوبارہ ردعمل کا سامنا کرنا پڑا، میرا مطلب ہے کہ میں اس کا حصہ نہیں تھا، مجھے اس میں گھسیٹا گیا تھا، میں آن لائن نہیں جا سکتا تھا اور چیر آف نہیں کر سکتا تھا۔ ڈرامہ جاری ہے، ہم نے اس میں بہت محنت کی“۔

فیروز خان کے ساتھ تصویر کھچوانے کے سوال پر عشنا شاہ نے کہاکہ”   فیروز مجھے کوئی نفع نہیں پہنچا سکتا،ہم ایک دوسرے سے رابطے میں نہیں ہیں، ہم ایک دوسرے کے دوست نہیں ہیں،ہم جم ایک دوسرے کے ساتھ کرتے ہیں کیونکہ وہاں ہمارے باہمی دوست ہیں، ایک غلط فہمی یہ بھی ہے کہ وہ کسی کے حق میں کھڑی ہوئی ہے“۔

انہوں نے کہا کہ”میرے کچھ اصول ہیں جن سے میں پیچھے نہیں ہٹ سکتی،مجھے فیروز سے کچھ نفع نہیں مل سکتا، اسکی وجہ سے میں تنقید کی زد میں رہی ہوں،میرا ماننا یہ ہے کہ ہجومی انصاف اور زیادہ مہلک ہوتا ہے، میں خودغنڈہ گردی کو بھگت چکی ہوں اس لیے میں ہجومی انصاف کے خلاف ہوں،اور جب مجھے معلوم ہوتا ہے کہ میرا کوئی شناسا کسی بھی وجہ سے کسی تاریک گوشے میں جارہا ہے، قطع نظر اس سے کہ میرا اس کے بارے میں کیا نقطہ نظر ہے، یہ میرا فرض بنتا ہے کہ میں بیٹھے رہنے کے بجائے اس کے لیے کچھ کروں اور میں نے اسی وجہ سے ڈاکٹر عامر لیاقت کی مثال دی تھی جنہیں لوگ چٹکی بجاکر بھول گئے ہیں۔

اداکارہ نے کہاکہ” میں عامر لیاقت کے نظریات پر بھی یقین نہیں رکھتی تھی، جو کچھ انہوں نے مرنے سے پہلے کیا میں اس پر یقین نہیں رکھتی تھی لیکن ان کے ساتھ جو غنڈہ گردی کی گئی میں اس کے بھی خلاف ہوں، جب انہیں بدمعاشی کا نشانہ بنایا گیا میں اس وقت کچھ نہیں بولی اور نہ ہی میرے کچھ بولنے کا اس وقت کچھ اثر ہونا تھا لیکن وہ اس وقت ایک انتہائی تاریک گوشے میں تھے اور پھر وہ انتقال کرگئے اور اب وہ کبھی واپس نہیں آسکتے، جو جرائم انہوں نے کیے تھےکیاان کی سزا موت تھی؟ “۔

انہوں نے کہاکہ”یہی میرا سوال ہے،کیونکہ جب آپ تنقید کا نشانہ بنتے ہیں تو ایک نہیں ہزار وں تبصرے ہوتے ہیں، ایک پاگل ہجوم ہوتا ہے، ایسا نہیں ہوتا کہ آپ نے ایک چیز لکھ دی اور چلے گئے،وہ ایک چیز ایک تیر بن سکتی ہےاور کسی کی کمر توڑ سکتی ہےاور اگلا شخص ایک انسان ہوتا ہے کیونکہ میں سمجھتی ہوں کہ اگر آپ مجرم ہیں تو ذہنی تشدد سہنے سے جیل جانا بہتر ہےاور یہ کوئی سزا نہیں ہے“۔

انہوں نے کہاکہ” میں ایسے کسی ہجومی انصاف پر یقین نہیں رکھتی جو کسی کونقصان پہنچانے کی وجہ بنے، جب میں سمجھتی ہوں کوئی اس حد تک متاثر ہورہا ہے تو میں اس کے حق میں بولتی ہوں“۔

اداکارہ نے کہا کہ”آپ صرف اس ایک شخص کو تکلیف  نہیں پہنچارہے ہوتے، آپ اسکی ماں،بچوں،بہنوں اور پورے خاندان کو تکلیف پہنچا رہے ہوتے ہیں اور آپ کو اس کا اندازہ تک نہیں ہوتا“۔

اداکارہ نے کہاکہ” اگر آپ کو کسی کو قابل احتساب بنانا ہے، اسکی بات کی مذمت کرنی ہے تو کریں میں اس سے نہیں روک رہی،آپ ایک مرتبہ اسکی مذمت کردیں اور پھر باقی توانائی متاثرہ فریق کی دلجوئی کے لیے استعمال کریں، اسکے ساتھ تعاون کریں،اسکی قانونی اور اخلاقی مدد کریں،اگر آپ کو لگتا ہے کہ کسی کو گالیاں دینے سے آپ  اس کا احتساب کرلیں گے تو آپ ایسا نہیں کرسکتے“۔

انہوں نے کہا کہ ”آپ کسی کو بے عزت کرکے کسی موت مل جائے گی،ذہنی تباہی یا اس کے خاندان کی تباہی مل جائے گی ،اس کی طرف سے معذرت نہیں ملے گی“۔

انسٹاگرام اسٹوری پر فیروز خان کے ساتھ تصویر لگوانے پر ہونے والی تنقید کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ”میں نے اس تصویر کے ساتھ ایک حدیث بھی لگائی تھی کہ رمضان معاف کرنے کا مہینہ ہے، تو معافی کو لیکر ایک اور بہت بڑی غلط فہمی چل پڑی کہ میں نے فیروز خان کو معاف کردیا حالانکہ اس کے تین سیکنڈ بعد میں نے ایک اور اسٹوری لگائی کہ میں  فیروزخان کو معاف کرنے والی کون ہوتی جب اس نے میرے ساتھ کچھ کیا ہی نہیں، میں اسے معاف کرسکتی ہوں جومیرے ساتھ غلط کرےاورمیں اسے معاف کردیتی ہوں“۔

فیروز خان کے ساتھ دوبارہ کام کرنے کے سوال پر اداکارہ نے کہاکہ”فیروز نے خود کہا ہے کہ انصاف کو سامنے آنے دیں، کیس ختم ہونے کا انتظار کرلیں تو دیکھ لیں گےاور جہاں تک میرے خدشات کی بات ہے تو ایک تبدیلی کی بہت زیادہ ضرورت ہے جوکہ میں دیکھنا چاہتی ہوں  کہ اگرمیں نے کسی کو انٹرنیٹ پر بدمعاشی کا نشانہ بنانے کیخلاف آواز اٹھائی ہے جو ایسی ہی آواز اس شخص کے مخالف فریق کیلیے بھی اٹھانی چاہیے کیونکہ علیزے بھی ایک بچی ہے جوکہ فیروز کے بچوں کی ماں ہے اور بہت کم عمر ہے، فیروز کے پرستار اسے بہت بری طرح ہراساں کررہے ہیں، حالانکہ فیروز نے اس کےبارے میں کچھ نہیں بولا کیونکہ وہ اس کے بچوں کی ماں  ہے جوکہ اچھی بات ہے  لیکن میرا خیال ہے کہ اسے اپنے پرستاروں کو بھی علیزے کو بے عزت کرنے سے روکنا چاہیے کیونکہ اگر وہ اس کے پرستار ہیں تو انہیں علیزہ کو بےعزت نہیں کرنا چاہیے کیونکہ وہ اس کے بچوں کی ماں ہے“۔

انہوں نے کہاکہ سوشل میڈیا ئی افواج   کی طرف سے نفرت کا یہ سلسلہ بند ہونا چاہیے، مجھے نہیں پتہ کہ یہ افواج  کیوں بن گئی ہیں، وہاں والے یہاں والوں کو اور وہاں والےیہاں والوں کو گالیاں دے رہے ہیں، ان (فیروز خان) کی ماؤں بہنوں  کو ہراساں کیا جارہا ہے،انکی ذہنی صحت متاثر ہورہی ہے، وہاں اکیلی ماں(علیزے) کو بے عزت کرہے ہیں“۔

عشنا شاہ نے کہا کہ” اگریہ سوشل میڈیائی افواج نہ ہوتی توآج عامر لیاقت بھی زندہ ہوتےاور دانیہ  کی زندگی بھی برباد نہ ہوئی ہوتی کیونکہ شروع تو یہیں سے ہوا نا کہ عامر لیاقت کے پرستاروں کو اس  (دانیہ) کی طرف بھیجے گئےجوکہ ایک کم عمر لڑکی تھی جسے شدید نفرت اور گالیاں مل رہی تھیں اسکے جواب میں اس لڑکی نے ایک ناقابل فہم اور گری ہوئی حرکت کی کہ کسی کی وڈیوز لیک کردیں اور وہ وڈیوز اسی سوشل میڈیا  میں گھومتی رہیں اور انسان کا بہت برا زوال آیااور وہ مرگئے “۔

اداکارہ نے کہا کہ” اس سب کی وجہ سوشل میڈیائی افواج ہیں اور وہ لوگ ہیں جو بغیر سوچے سمجھے نفرت پیادے بن گئے ہیں،اگر ہم یہ سب چیزیں ہٹادیں تو لوگوں کی زندگی اس سے بہت بہتر ہوں،لیکن یہ پیادے بننے والے کچھ بھی کرنے سے پہلے اگر ایک مرتبہ یہ سوچ لیں کہ کیا میری یہ بات ضرور ی ہے، اگر یہ بات متعلقہ فرد تک پہنچ جائے توکیا وہ انسان متاثر ہوگا، مثبت تنقید تو ٹھیک ہے اسے مجھ سمیت ہر کوئی خوش آمدید کہے گا لیکن اتنی نفرت ، اتنا غصہ کیوں ہے؟ “۔

 عشنا شاہ نے کہا کہ”یہ افواج کسی کو نہیں بخشتیں،اگر کسی ادکارہ نے سگریٹ پی لی ہےتو اس کی اخلاقیات کو تباہ کررہے ہیں،کسی نے بھارتی طرز کا لباس پہن لیا تو آپ نے اسے ریاست کا دشمن اور مودی بنادیا، کسی نے گانا اچھا نہیں گایا تو آپ اسکے خاندان کی دھجیاں اڑا رہےہیں“۔

متعلقہ تحاریر