سلمان خان کی فلم پر ہندستانی ثقافتوں کامذاق اڑانے کا الزام
دھوتیوں میں ناچنا اور انہیں لنگی کہنا، حیدرآباد کو 90 کی دہائی کے ایک خوبصورت گاؤں کی طرح پیش کرنا، گانوں میں بے ترتیب تیلگو الفاظ کا استعمال جن کی کوئی اہمیت نہیں ہے، کسی کا بھائی کسی کی جان کی کئی غلطیوں میں سے صرف چند ایک ہیں، بھارتی ناقد

بالی ووڈ کے بھائی جان سلمان خان کو اپنی نئی فلم”کسی کا بھائی کسی کی جان“میں ہندوستانی نقافت کا مذاق اڑانے کے الزامات کا سامنا ہے۔
جنوبی بھارت کی فلم انڈسٹری نے پشپا، کےجی ایف اور آر آرآر کے ذریعے بالی ووڈ پر ایسی دھاک بٹھائی ہے کہ بھارتی ہدایت کار ساؤتھ انڈین فلم بینوں کی توجہ حاصل کرنے کیلیے اپنی ہر فلم میں پین انڈین ثقافت کا ٹچ دینے پر مجبور ہوگئے ہیں۔
یہ بھی پڑھیے
سلمان خان کا عید پر ریلیز ہونے والی فلم کے حوالے سے پرستاروں کے نام پیغام
بابا صدیقی کی افطار پارٹی میں ثنا خان کے شوہر کی ٹرولنگ، سابق اداکارہ کا مفتی انس کا دفاع
بھارتی فلمی ناقد سرسوتی داتر نے انڈین ایکسپریس میں شائع ہونے والے اپنے مضمون میں فلم کسی کا بھائی کسی کی جان میں کی گئی کئی غلطیوں کی جانب نشاندہی کی ہے۔
وہ اپنے مضمون میں لکھتے ہیں کہ”ایک ایسے شخص کے طور پر جو چنئی میں پلا بڑھا ،میں نے بالی ووڈ کی فلمیں دیکھنے میں برسوں گزارے جن میں ’ جنوبی ہندوستانی‘خواتین نے اپنے بالوں میں مضحکہ خیز مقدار میں’گجرا‘پہنا ہوتاتھا، وہ اونچی آواز اور مبالغہ آمیز لہجے میں میں ہندی بولتی تھیں ۔ وہ مزاح کے عنصر کے طور پرہمیشہ معاون یا اس سے بھی نچلے کرداروں میں شامل ہوتیں ،انہیں ایک ایسے متضاد دقیانوسی تصور تک محدود کردیا گیاتھا جس کی کوئی اہمیت یا بصیرت نہیں تھی“۔
انہوں نے لکھاکہ”افسوس کی بات ہے کہ تقریباً تین دہائیوں کے بعد بھی سلمان خان کی نئی فلم’ کسی کا بھائی کسی کی جان ‘میں کچھ بھی نہیں بدلا ہے۔ یالوسبالی ووڈ جنوبی ہندوستان کو عامیانہ انداز میں دکھانے کیلیے اپنی بے شرمی میں کسی بھی حد تک جاسکتا ہے“۔
انہوں نے لکھاکہ”جب سے پشپا نے ریلیز ہوئی ہے اور بالی ووڈ کو بیک وقت اپنے سروں میں سرسراہٹ اور پیروں تلے کھلبلی محصوص ہوئی ہے ہر بالی ووڈ فلم کو پین انڈین رجحان بنانے کی کوششیں کی گئیں۔ اداکاروں اور صنعتوں کے درمیان تعاون کاغذ پر تو ایک شاندار خیال ہے لیکن اگر ان کا مقابلہ مسابقتی طور پر نہیں کیا جاتا ہے، تو یہ ایک لامحدود تباہی کے سوا کچھ نہیں بنتا“۔
انہوں نے مزید لکھا کہ”دھوتیوں میں ناچنا اور انہیں لنگی کہنا، حیدرآباد کو 90 کی دہائی کے ایک خوبصورت گاؤں کی طرح پیش کرنا، گانوں میں بے ترتیب تیلگو الفاظ کا استعمال جن کی کوئی اہمیت نہیں ہے، کسی کا بھائی کسی کی جان کی کئی غلطیوں میں سے صرف چند ایک ہیں“۔









