اداکارہ ایوا گرین نے ناکام فلم کے 10لاکھ ڈالر معاوضے کا مقدمہ جیت لیا

ہالی ووڈ اداکارہ کو موسمیاتی تبدیلی کے موضوع پر مبنی فلم میں مرکزی کردار میں کاسٹ کیا گیا تھا، پروڈکشن کمپنی کی جانب سے عکس بندی سے قبل ہی فلم بند کرنے پر اداکارہ نے لندن ہائیکورٹ سے رجوع کیا تھا۔

ہالی ووڈ اداکارہ ایوا گرین نے جمعے کو لندن ہائیکورٹ میں فلم ساز وں اور سرمایہ کاروں کے خلاف  ناکام فلم کے معاوضے کی ادائیگی کا مقدمہ جیت لیا۔

 جیمز بانڈ سیریز کی فلم”کیسینو رائل “ میں ڈینیئل کریگ کے مدمقابل اداکاری کرنے والی فرانسیسی اداکارہ  کو   فلم” اے پیٹریاٹ“میں سپاہی کے مرکزی کردار کاسٹ کیا گیا تھا تاہم یہ فلم منصوبہ بندی کے دوران ہی بند کردی گئی تھی۔

اداکارہ نے اپنے خدمات لینے کےعوض  وائٹ لینٹرن فلمز اور ایس ایم سی اسپیشلٹی فنانس پرفیس کی مد میں 10 لاکھ ڈالر کی ادائیگی کیلیے مقدمہ دائر کیا تھا۔

یہ بھی پڑھیے

کم کارڈیشین ‘امریکن ہارر اسٹوری’ میں مرکزی کردار میں جلوہ گر ہونگی

شرمین عبید چنائے اسٹار وارز سیریزکی پہلی خاتون اور غیر سفید فام ہدایت کار منتخب

برطانوی خبررساں ادارے رائٹرز کے مطابق   لندن ہائیکورٹ کے   جج مائیکل گرین نے اپنے تحریری فیصلے میں کہا کہ ایوا گرین  ایک  ملین ڈالر کی فیس کی ادائیگی کی حقدار ہیں۔

پروڈکشن کمپنی نے اداکارہ  کے خلاف معاہدے کی خلاف ورزی پر ایک جوابی دعویٰ دائرکیا تھا  اور 2019کے آخر میں عکسبندی سے قبل ہی بند ہوجانے والی سائنس فکشن فلم کی ناکامی کا ذمہ دار ٹھہراتے ہوئے کہا تھا کہ اس نے کبھی معاہدے پرپیش قدمی کا ارادہ نہیں کیاتھا ۔

42 سالہ ایوا گرین جنوری میں عدالت میں پیش ہوئیں اور کہا کہ وہ اس بات پر فکر مند   ہیں کہ پروڈکشن ٹیم فلم کو کاٹ رہی ہے اور ان  کی اسٹنٹ ٹریننگ کو چار ہفتوں سے کم کر کے پانچ دن کر دیا گیا ہے۔

وائٹ لینٹرن کے وکلا نے اداکارہ  ،جو اس فلم کی ایک ایگزیکٹو پروڈیوسر بھی  تھیں ،پر عملے سے بدتمیزی  کے علاوہ  عملے۔  مقامات اور آلات کے بارے میں غیر معقول مطالبات  کرنے کا الزام بھی عائد کیا تھا۔تاہم جج نے اداکارہ کی کچھ ناخوشگوار باتوں کو فلم کے حوالے سے ان کے اندیشوں اور تشویش کا نتیجہ قرار دیتے ہوئے ان پر عائد کردہ الزامات کو مسترد کردیا تھا۔

ایوا گرین نے ایک بیان میں کہا  کہ”میں اس خوبصورت فلم کے دفاع کے لئے دانتوں اور ناخنوں سے لڑی جس سے مجھے پیار تھا “۔اداکارہ نے  موضوع کو فلم کی وجہ انتخاب قرار دیتے ہوئے کہا کہ”یہ فلم موسمیاتی تبدیلی کے موضوع پر تھی جو مجھے بہت عزیز ہے ،اس میں  متنبہ کیا گیا تھا کہ اگر ہم  نے اس مسئلے کو حل نہیں کیا تو یہ   وسائل کی جنگوں اور بڑے پیمانے پر نقل مکانی  کاموجب بنے گا“۔اداکارہ نے کہا کہ”میں اپنے موقف پر ڈٹی رہی  اور اس بار انصاف کی فتح ہوئی“۔

متعلقہ تحاریر