اجے دیوگن بھگت سنگھ نہیں بن سکے

سکھ سردار نے اجے دیوگن کی گاڑی روک کر اپنا غصہ نکال دیا۔

بالی ووڈ فلمز میں پنجابیوں کے انقلابی رہنما بھگت سنگھ کا کردار نبھانے والے بالی ووڈ اداکار اجے دیوگن نے انڈیا کے کسانوں کی حق تلفی پر آنکھیں بند کررکھی ہیں۔ اسی بات پر ایک سکھ سردار نے اجے دیوگن کی گاڑی روک کر اداکار کو کھری کھری سنادی۔

اجے دیوگن جو ’سن آف سردار‘ اور ’دی لیجنڈ آف بھگت سنگھ‘ جیسی متعدد فلمز میں پنجاب کے بہادر بیٹے اور انقلابی نوجوان کے کرداروں میں نظر آتے ہیں عام زندگی میں سکھ کسانوں کی آواز بننے کے بجائے خاموشی اختیار کیے ہوئے ہیں۔ گذ شتہ روز اجے دیوگن نے سماجی رابطوں کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر پیغام میں لکھا کہ لوگ انڈیا یا انڈین حکومت کی پالیسیز کے خلاف غلط پروپیگنڈے میں نہ پڑیں۔

انڈیا میں نئے زرعی قوانین کے خلاف سکھ کسانوں کا احتجاج جاری ہے اور وہ اس حوالے سے فنکاروں کے عدم تعاون اور حمایت نہ کرنے پر برہم ہیں۔ اجے دیوگن کے ٹوئٹ کے بعد مظاہرین مزید غم و غصے کا شکار ہوگئے ہیں۔

ایک سکھ نوجوان نے اجے دیوگن کی گاڑی کو فلم سٹی کے گیٹ پر روک لیا اور انہیں شدید تنقید کا نشانہ بنایا۔ انڈیا کی ریاست پنجاب کے شہر امرتسر سے تعلق رکھنے والے اجے دیوگن کے متعلق نوجوان کا کہنا تھا کہ اداکار پنجاب مخالف ہیں اور ان میں شرم نام کی کوئی چیز نہیں ہے۔ گاڑی کی فرنٹ سیٹ پر بیٹھے اجے دیوگن نے اپنے خلاف یہ تمام باتیں سن کر نہ تو برہمی کا اظہار کیا نہ ہی گاڑی سے اتر کر سکھ نوجوان کو دلاسہ دیا بلکہ چپ چاپ تمام باتیں سنتے رہے۔

یہ بھی پڑھیے

انڈیا میں کسانوں کے احتجاج پر مشہور شخصیات آمنے سامنے

احتجاج کرنے والے شخص کی شناخت راجدیپ سنگھ کے نام سے ہوئی جس کا تعلق ریاست پنجاب سے ہے۔ اجے دیوگن کے سکیورٹی گارڈ کی درخواست پر سکھ نوجوان کو گرفتار کرلیا گیا ہے۔

واضح رہے کہ معروف امریکی گلوکارہ ریحانہ کے علاوہ بالی ووڈ اداکارہ پریانکا چوپڑا اور دیگر فنکار کسانوں کے حقوق کی پامالی پر آواز بلند کرچکے ہیں جبکہ پنجاب کے اجے دیوگن کی خاموشی نے سکھ مداحوں کو مایوس کردیا ہے۔

متعلقہ تحاریر