25 اور 26 مارچ کا دن پاکستانی فن و ثقافت کے لیے بھاری گزرا
معروف ڈرامہ نگار حسینہ معین اور پاکستان ٹیلی ویژن کی پہلی نیوز کاسٹر کنول نصیر انتقال کر گئیں ہیں جبکہ میوزک بینڈ ’اسٹرنگز‘ بھی ٹوٹ گیا ہے۔

25 اور 26 مارچ پاکستانی فن و ثقافت کے لیے کافی بھاری دن گزرے ہیں۔ جمعرات کے روز پاکستان ٹیلی ویژن کی پہلی خاتون نیوز کاسٹر کنول نصیر انتقال کر گئیں تھیں۔ جمعرات کی شام ہی یہ خبر سامنے آئی کہ 33 سال قبل بننے والا معروف پاکستانی میوزیکل بینڈ ’اسٹرنگز‘ ٹوٹ گیا ہے۔ جبکہ جمعہ کی صبح کو یہ افسوسناک خبر آگئی ہے کہ پاکستان کی معروف مصنفہ اور ڈرامہ نگار حسینہ معین انتقال کر گئیں ہیں۔
ڈرامہ نویس اور مکالمہ نگار حسینہ معین انتقال کرگئیں
20 نومبر 1941ء کو انڈیا کے شہر کانپور میں پیدا ہونے والی پاکستان کی معروف ڈرامہ نویس اور مکالمہ نگار حسینہ معین 79 برس کی عمر میں حرکت قلب بند ہونے سے انتقال کر گئی ہیں۔
حسینہ معین نے اپنی ابتدائی تعلیم کانپور سے حاصل کی تھی جبکہ جامعہ کراچی سے 1963ء میں تاریخ میں ماسٹرز کی ڈگری حاصل کی تھی۔

مقبول ترین ڈرامہ نویس کا اعزاز حاصل کرنے والی حسینہ معین نے پاکستان کے سرکاری ٹیلی ویژن (پی ٹی وی) کے لیے متعدد یادگار ڈرامے لکھے جن میں شہزوری، زیر زبر پیش، انکل عرفی، ان کہی، تنہایاں، دھوپ کنارے، دھند، آہٹ، کہر، پڑوسی، آنسو، بندش اور آئینہ بھی شامل ہیں۔
حسینہ معین کی لکھی ہوئی پاکستانی فلموں میں پہلی فلم ’یہاں سے وہاں تک‘ تھی جس میں وحید مراد نے مرکزی کردار نبھایا تھا۔ گذشتہ ہفتے ایک سعودی ویب چینل کو انٹرویو دیتے ہوئے ڈرامہ نگار حسینہ معین نے کہا تھا کہ ’ڈرامہ آرٹ سے نکل کر نوٹنکی بن چکا ہے۔‘
پاکستانی میوزیکل بینڈ اسٹرنگز ٹوٹ گیا
پاکستانی فن و ثقافت کی پہچان اور 33 سال قبل جنم لینے والا معروف میوزیکل بینڈ ’اسٹرنگز‘ ختم ہوگیا ہے۔ اس بات کا اعلان اسٹرنگز کے بانی رکن اور گٹارسٹ بلال مقصود نے سوشل میڈیا پر اپنی ایک پوسٹ میں کیا ہے۔
View this post on Instagram
بلال مقصود کا کہنا ہے کہ ’میں اور ساتھی گلوکار فیصل کپاڈیہ نے 33 سال تک بہترین وقت گزارا ہے۔ اس طرح کام کرنے کے بہت کم مواقع ملتے ہیں۔ ہم اپنے مداحوں کے انتہائی شکر گزار ہیں تاہم امید ہے کہ وہ اس فیصلے کی بھی قدر کریں گے۔‘
یہ بھی پڑھیے
گلوکار شہزاد رائے کا آبادی پر قابو پانے کی اہمیت پر زور
بلال مقصود نے کہا کہ ’ہمارے درمیان ایک نا ٹوٹنے والا تعلق بن گیا ہے جو ہمیشہ قائم رہے گا چاہے زندگی کا سفر ہمیں کہیں بھی لے جائے۔‘
خیال رہے کہ بلال مقصود اور فیصل کپاڈیہ نے اپنے دیگر 2 دوستوں کے ساتھ مل کر 1988ء میں اسٹرنگز بینڈ تشکیل دیا تھا۔ 2011 میں اسٹرنگز کے ایک نغمے نے کافی شہرت حاصل کی تھی جس کے بول تھے ’جب روٹی سستی ہوگی اور مہنگی ہوگی جان وہ دن بھی آئے گا۔‘ پاکستان میں تو روٹی سستی نہیں ہوئی اور جان مہنگی نہیں ہوئی مگر اس نغمے کو تخلیق کرنے والا میوزک بینڈ اسٹرنگز ختم ہوگیا۔
معروف نیوز کاسٹر کنول نصیر انتقال کرگئیں
25 مارچ پاکستانی فن و ثقافت کے لیے تکلیف دہ دن تھا جب پاکستان ٹیلی ویژن کی پہلی نیوز اینکر اور میزبان کنول نصیر انتقال کر گئیں۔

کنول نصیر کو چند روز قبل دل کی تکلیف کے باعث اسپتال منتقل کیا گیا تھا جہاں وہ جمعرات کو انتقال کرگئیں۔ کنول نصیر کو ان کی خدمات کے پیش نظر مختلف اہم ایوارڈز سے بھی نوازا گیا تھا۔
کنول نصیر معروف براڈکاسٹر موہنی حمید کی صاحبزادی تھیں۔ 26 نومبر 1964ء کو جب پاکستان ٹیلی ویژن کا قیام عمل میں آیا تھا تو پی ٹی وی سے پہلا اعلان کنول نصیر نے کیا تھا۔ 17 سال کی عمر میں اپنے کیریئر کا آغاز کرنے والی کنول نصیر پاکستان ٹیلی ویژن سے نشر ہونے والے پہلے ڈرامے کی ہیروئن بھی تھیں۔









