پاکستان میں ویکسین نہیں چینی کے لیے قطاریں لگتی ہیں، شہزاد رائے
معروف گلوکار نے کرونا کی صورتحال کو سنجیدگی سے نہ لینے پر لوگوں کو تنقید کا نشانہ بنایا۔
پاکستان کے معروف گلوکار شہزاد رائے نے سماجی رابطوں کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر رمضان المبارک میں چینی کے بحران اور کرونا سے بچاؤ کی ویکسین کے حوالے سے لوگوں کے غیر سنجیدہ رویے پر روشنی ڈالی ہے۔
شہزاد رائے ٹوئٹر پر اکثر و بیشتر سماجی مسائل پر بات کرتے ہیں لیکن اس مرتبہ انہوں نے کرونا سے بچاؤ کی ویکسین کے حوالے سے لوگوں کی لاپرواہی کو تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔ اپنے ٹوئٹر پیغام میں شہزاد رائے نے رمضان المبارک میں چینی کے بحران کو بھی موضوع بحث بنایا ہے۔
معروف گلوکار نے ٹوئٹ میں طنزیہ انداز اپناتے ہوئے لکھا کہ دنیا میں لوگ کرونا کی وباء سے بچاؤ کی ویکسین لگوانے کے لیے قطاروں میں کھڑے ہیں۔ میں نے بھی پاکستان میں شہریوں کو قطاروں میں کھڑا دیکھا ہے لیکن ویکسین کے لیے نہیں بلکہ سستی چینی کے لیے۔ شہزاد رائے نے ٹوئٹ میں اس اہم موضوع کو چھیڑتے ہوئے صارفین سے تبصرے مانگے۔
The world is queuing up to get vaccines . I also see queues in pakistan but they are not for vaccines but to buy subsidised sugar . Any comments
— Shehzad Roy (@ShehzadRoy) April 22, 2021
یہ بھی پڑھیے
شہزاد رائے کا ایک مرتبہ پھر مداحوں کو چیلنج
بلاشبہ رمضان کے اس بابرکت مہینے میں انتظامیہ نے لوگوں کو سستی چینی کے لیے رُلا دیا ہے۔ شہریوں کو سستی چینی کے حصول کے لیے گھنٹوں قطار میں لگنا پڑتا ہے۔ دوسری جانب یہ بات بھی توجہ طلب ہے کہ پاکستان میں کوویڈ 19 کے کیسز میں روز بروز اضافہ دیکھا جارہا ہے۔ حکومت کی جانب سے مختلف شہروں میں دوبارہ لاک ڈاؤن لگانے کی خبریں بھی سامنے آرہی ہیں لیکن شہری وباء کی بگڑتی ہوئی صورتحال پر سنجیدگی کا مظاہرہ نہیں کررہے ہیں۔
شہزاد رائے کی پوسٹ پر بھی چند صارفین نے غیر سنجیدہ رویہ اپناتے ہوئے مذاق اڑانا شروع کردیا۔ ایک صارف نے معروف موسیقار روحیل حیات پر طنز کرتے ہوئے لکھا کہ اس موضوع پر وہ بہتر تبصرہ کرسکتے ہیں کیونکہ انہیں چیزوں کو گھما پھرا کر پیش کرنا بہت اچھے طریقے سے آتا ہے۔
Perhaps @rohailhyatt would like to say something… the guys a genius at spinning things
— Acharya Drone ! (@AcharyaDrone1) April 22, 2021
اس تبصرے کو روحیل حیات نے مضحکہ خیز قرار دیتے ہوئے لکھا کہ ہم کرونا کے خوف سے زیادہ چینی استعمال کرنے کے عادی بن چکے ہیں۔
Hah, funny because I was always a fast bowler!
Well it seems we’re more addicted to sugar than scared of Covid! Simple logic.. see, no spin required 🙏🏻
— Rohail Hyatt (@rohailhyatt) April 22, 2021
چند صارفین نے وباء کے اس مشکل ترین دور میں کرونا سے بچاؤ کی ویکسین لگوانے کو چینی کے حصول سے زیادہ اہم قرار دیا ہے۔









