پاکستان میں ویکسین نہیں چینی کے لیے قطاریں لگتی ہیں، شہزاد رائے

معروف گلوکار نے کرونا کی صورتحال کو سنجیدگی سے نہ لینے پر لوگوں کو تنقید کا نشانہ بنایا۔

پاکستان کے معروف گلوکار شہزاد رائے نے سماجی رابطوں کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر رمضان المبارک میں چینی کے بحران اور کرونا سے بچاؤ کی ویکسین کے حوالے سے لوگوں کے غیر سنجیدہ رویے پر روشنی ڈالی ہے۔

شہزاد رائے ٹوئٹر پر اکثر و بیشتر سماجی مسائل پر بات کرتے ہیں لیکن اس مرتبہ انہوں نے کرونا سے بچاؤ کی ویکسین کے حوالے سے لوگوں کی لاپرواہی کو تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔ اپنے ٹوئٹر پیغام میں شہزاد رائے نے رمضان المبارک میں چینی کے بحران کو بھی موضوع بحث بنایا ہے۔

معروف گلوکار نے ٹوئٹ میں طنزیہ انداز اپناتے ہوئے لکھا کہ دنیا میں لوگ کرونا کی وباء سے بچاؤ کی ویکسین لگوانے کے لیے قطاروں میں کھڑے ہیں۔ میں نے بھی پاکستان میں شہریوں کو قطاروں میں کھڑا دیکھا ہے لیکن ویکسین کے لیے نہیں بلکہ سستی چینی کے لیے۔ شہزاد رائے نے ٹوئٹ میں اس اہم موضوع کو چھیڑتے ہوئے صارفین سے تبصرے مانگے۔

یہ بھی پڑھیے

شہزاد رائے کا ایک مرتبہ پھر مداحوں کو چیلنج

بلاشبہ رمضان کے اس بابرکت مہینے میں انتظامیہ نے لوگوں کو سستی چینی کے لیے رُلا دیا ہے۔ شہریوں کو سستی چینی کے حصول کے لیے گھنٹوں قطار میں لگنا پڑتا ہے۔ دوسری جانب یہ بات بھی توجہ طلب ہے کہ پاکستان میں کوویڈ 19 کے کیسز میں روز بروز اضافہ دیکھا جارہا ہے۔ حکومت کی جانب سے مختلف شہروں میں دوبارہ لاک ڈاؤن لگانے کی خبریں بھی سامنے آرہی ہیں لیکن شہری وباء کی بگڑتی ہوئی صورتحال پر سنجیدگی کا مظاہرہ نہیں کررہے ہیں۔

شہزاد رائے کی پوسٹ پر بھی چند صارفین نے غیر سنجیدہ رویہ اپناتے ہوئے مذاق اڑانا شروع کردیا۔ ایک صارف نے معروف موسیقار روحیل حیات پر طنز کرتے ہوئے لکھا کہ اس موضوع پر وہ بہتر تبصرہ کرسکتے ہیں کیونکہ انہیں چیزوں کو گھما پھرا کر پیش کرنا بہت اچھے طریقے سے آتا ہے۔

اس تبصرے کو روحیل حیات نے مضحکہ خیز قرار دیتے ہوئے لکھا کہ ہم کرونا کے خوف سے زیادہ چینی استعمال کرنے کے عادی بن چکے ہیں۔

چند صارفین نے وباء کے اس مشکل ترین دور میں کرونا سے بچاؤ کی ویکسین لگوانے کو چینی کے حصول سے زیادہ اہم قرار دیا ہے۔

متعلقہ تحاریر