’پھانس‘ جنسی تشدد پر بننے والے ڈراموں سے ایک قدم آگے

گذشتہ کئی سالوں سے پاکستان کے انٹرٹینمنٹ ٹیلی ویژن چینلز پر معاشرے کے سنجیدہ مسائل پر ڈرامے بنانے کا رحجان زور پکڑتا جارہا ہے۔ ان مسائل میں خواتین کے حقوق خصوصاً ان پر جنسی تشدد کے موضوع کو ترجیح دی جارہی ہے۔

سال 2016 میں اڈاری، 2018 میں ڈر سی جاتی ہے صلہ اور 2019 میں رسوائی جیسے ڈراموں نے نہ صرف اس مسئلے کو اجاگر کیا ہے بلکہ لوگوں میں اس سے متعلق آگاہی پیدا کرنے میں بھی کامیاب رہے ہیں۔ اسی سلسلے کی ایک کڑی ہم ٹی وی پر چلنے والا ڈرامہ سیریل پھانس ہے جس میں ایک نوجوان لڑکی جنسی تشدد کا نشانہ بننے کے بعد اپنے حق اور انصاف کے لیے اپنے سے کہیں زیادہ طاقتور لوگوں سے نبرد آزما ہے۔

یہ بھی پڑھیے

ڈرامہ سیریل سراب بیماری کے گرد گھومتے وہم کی کہانی

پھانس کے مرکزی کرداروں میں  زارا نورعباس، شہزاد شیخ، سمیع خان اور یشما گل شامل ہیں۔

زیبا (زارانور عباس) ایک متوسط گھرانے کی لڑکی ہے جس کا باپ انتقال کرچکا ہے اور ماں اپنے اور دو بیٹیوں کے اخراجات پورے کرنے کے لیے لوگوں کے گھروں میں کام کاج کرتی ہے۔ مالکوں کے گھر ایک شادی کی تقریب کے دوران زیبا کے ساتھ جنسی تشدد کا واقعہ پیش آتا ہے جس کا الزام وہ گھر کے بیٹے ساحل (شہزاد شیخ) پر لگاتی ہے (جو آٹزم کا مریض بھی ہے) جسے ساحل کا خاندان کسی صورت ماننے کو تیار نہیں ہے۔

اب تک کی اقساط میں زیبا جو نامساعد مالی حالات کے باوجود اپنی تعلیم مکمل کررہی ہے سچ سامنے لانے کے لیے ثابت قدم کھڑی ہے حالانکہ وہ جانتی ہے کہ اس کا مقابلہ ایک دولت مند اور بااثر خاندان سے ہے۔ حق کے لیے لڑنے کے نتیجے میں زیبا کی اپنے تایا زاد بھائی ہاشم (زین افضل) سے منگنی بھی ختم ہوچکی ہے۔ ان حالت کے دوران ہی زیبا پر یہ انکشاف ہوتا ہے کہ وہ حاملہ ہوچکی ہے۔

کیونکہ زیبا ایک باشعور اور باہمت لڑکی ہے اور انصاف حاصل کرنے کے لیے آخر تک لڑنے کا فیصلہ کرچکی ہے اس لیے اپنے حاملہ ہونے کو رسوائی کے بجائے اپنے خلاف ہونے والے ظلم کو ثابت کرنے کے لیے ایک گواہی کے طور پر لے رہی ہے۔ واقعے کے بعد کئی دن تک اسپتال اور پھر مالکوں کے گھر قید میں رہنے کے بعد جنسی تشدد کے تمام ثبوت مٹ چکے ہیں۔

ڈرامے میں صمد (سمیع خان) جو خود بھی ایک متمول گھرانے کا لڑکا ہے زیبا کے لیے ہمدردی اور کہیں کہیں محبت کے جذبات بھی رکھتا ہے، ابھی تک زیبا کے ساتھ کھڑا ہے۔ صمد واقعے کی جگہ پر موجود ہونے کی وجہ سے خود بھی شک کی زد میں ہے جس کی شادی اپنی مہندی والے دن ہی حفصہ (یشما گل) سے ختم ہوچکی ہے۔

ڈرامہ پھانس
@zaranoorabbas.official

کہانی میں یہ تجسس ابھی تک برقرار ہے کہ زیبا کا اصل مجرم کون ہے۔ ساحل جس پر زیبا نے الزام لگایا ہے، ہاشم جو مالکوں کے گھر اس دن ہونے والی تقریب کے دوران زیبا سے ملنے کے لیے اسے بنگلے سے متصل ایک زیر تعمیر مکان میں بلاتا ہے، صمد جو اس رات ہاشم  کو اس پلاٹ سے باہر جاتے ہوئے دیکھتا ہے یا پھر کوئی اور؟

ایک سنجید ہ موضوع پر بنائے جانے کے باوجود پھانس میں تجسس، جذبات اور پاکستانی ڈرامے کے دیگر لوازمات جیسے رقابت، شک اور محبت کو بھی شامل کیا گیا ہے۔ تمام کردار کہانی کے حساب سے اپنی جگہ پر ہیں۔ ناظرین کو بلاوجہ زیادہ کرداروں میں الجھانے کے بجائے ڈرامے کے چند مرکزی کرداروں کے گرد ہی اصل موضوع کو اجاگر کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔

زارانور عباس اپنے پچھلے ڈرامے زیبائش کے مقابلے میں زیادہ پختہ اداکاری کررہی ہیں جبکہ سمیع خان اور یشما گل کے کردار ابھی تک کوئی خاص تاثر نہیں چھوڑ سکے۔ البتہ شہزاد شیخ آٹزم کے مریض کا کردار ادا کرنے کے لیے خصوصی محنت کررہے ہیں۔

نیوز 360 کو دیے گئے ایک انٹرویو میں انہوں نے اس بات کا اظہار بھی کیا کہ ساحل ان کے کیریئر کا اب تک سب سے مختلف نوعیت کا کردار ہے۔ علی طاہر کافی عرصے بعد ڈراموں میں دوبارہ نظر آرہے ہیں۔ وہ پھانس ڈرامے میں ایک مغرور کاروباری شخصیت کا کردار ادا کر رہے ہیں جو یہ سمجھتا ہے کہ دولت اور طاقت سے سب کچھ خریدا جاسکتا ہے۔ ارجمند رحیم، کنزہ ملک، مریم مرزا اور فرح نادر بھی ڈرامے میں ماؤں کے کرداروں میں شامل ہیں۔

پھانس ڈرامے کی کہانی کو ثمینہ اعجاز نے تحریر کیا ہے جبکہ ہدایتکاری کے فرائض احمد کامران نے انجام دیے ہیں۔ مومنہ درید پروڈکشن کے تحت بننے والا یہ سیریل پاکستان میں اب تک جنسی تشدد کے موضوع پر آنے والے ٹیلی ویژن ڈراموں کے مقابلے میں ایک قدم آگے ہے جس میں اس مسئلے کو دیگر سنگین جرائم کی طرح ایک جرم گردانا گیا ہے۔ ڈرامے میں اس بات پر زور دیا گیا ہے کہ جنسی تشدد کا شکار ہونے والی خواتین اسے بدنامی اور رسوائی سمجھے کے بجائے اس کے خلاف آواز اٹھانے والوں میں خود پہل کریں۔

متعلقہ تحاریر