برٹنی سپیئرز اپنے والد کے خلاف عدالت پہنچ گئیں

گلوکارہ والد کی جانب سے کی جانے والی سرپرستی کو ختم کرنا چاہتی ہیں۔

امریکی پاپ اسٹار برٹنی سپیئرز نے کہا ہے کہ وہ اپنے والد کی جانب سے کی جانے والی سرپرستی کو ختم کرنا چاہتی ہیں جس کی وجہ سے ان کے 13 سال تکلیف میں گزرے ہیں۔

بین الااقوامی میڈیا کے مطابق برٹنی سپیئرز کے والد جیمی سپیئرز نے 2008 میں ایک عدالتی حکم نامے کے تحت اپنی بیٹی کی زندگی کے معاملات کا کنٹرول سنبھالا تھا۔ لاس اینجلس کی عدالت میں جج کے ساتھ تفصیلات شیئر کرتے ہوئے برٹنی سپیئرز نے کہا کہ میں کنزرویٹر شپ کی وجہ سے صدمے میں مبتلا تھی اور ہر دن روتی رہتی تھی۔ مجھے اپنے فیصلے بھی نہیں لینے دیئے جاتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیے

ایسرا بیلجک پاکستانیوں کی تنقید کی زد میں

اداکارہ نے کہا کہ میرے والد جیمز سپیئرز کی نگرانی ختم کی جائے۔ مجھے ایسا نہیں لگتا کہ میں پوری زندگی ایسے گزار سکتی ہوں۔

ان کا کہنا تھا کہ انہیں ان کی مرضی کے خلاف حمل کی دوائیں اور دیگر ادویات لینے پر مجبور کیا گیا اور شادی کرنے اور اور بچے پیدا کرنے سے بھی روکا گیا ہے۔

گلوکارہ نے انسٹاگرام پر لکھا کہ سوشل میڈیا پر ان کی زندگی اچھی دکھائی دیتی ہے لیکن حقیقت میں اتنی اچھی ہے نہیں۔ اداکارہ نے لکھا کہ میں نے لوگوں سے جھوٹ بولا کہ میں ٹھیک ہوں لیکن حقیقت یہ ہے کہ میں 2 سال سے ٹھیک نہیں ہو۔ مجھے سمجھ نہیں آرہی تھی کہ میں ان حالات کو کیسے بیان کروں۔

 

View this post on Instagram

 

A post shared by Britney Spears (@britneyspears)

واضح رہے کہ ماضی میں فٹ بالر لیونل میسی کو بھی اپنے والد کی وجہ سے مشکلات کا سامنا کرنا پڑا تھا جو تمام مالی معاملات سے نمٹنے کے ذمہ دار تھے۔ جبکہ باکسر عامر خان کے والد پر باکسر کی اہلیہ فریال مخدوم نے بھی اس جوڑے کو توڑنے کی کوشش کرنے کا الزام لگایا تھا۔

متعلقہ تحاریر