پاکستان اور ازبکستان کا مغل بادشاہ بابر پر مشترکہ فلم بنانے کا فیصلہ

وزیراعظم عمران خان کا کہنا ہے کہ ظہیرالدین بابر پر مشترکہ فلم سازی سے دونوں ممالک کے لوگوں کو یکجا کرنے میں مدد ملے گی۔

پاکستان اور ازبکستان کی حکومتوں نے ہندوستان میں مغل سلطنت کی بنیاد رکھنے والے ظہیرالدین بابر کی زندگی پر فلم بنانے کا فیصلہ کیا ہے۔

اس بات کا اعلان وزیراعظم عمران خان نے ازبکستان کے دارالحکومت تاشقند میں ازبک صدر کے ہمراہ پریس کانفرنس کے دوران کیا ہے۔

پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم عمران خان کا کہنا تھا کہ ہماری نئی نسل کو ہمارے شاندار ماضی، تاریخی روابط اور قدیم ثقافت کے بارے میں علم ہونا چاہیے۔ اس لیے ہم نے ابتدائی طور پر برصغیر کے عظیم بادشاہ ظہرالدین بابر کی زندگی پر فلم بنانے کا فیصلہ کیا ہے۔

یہ بھی پڑھیے

پی ٹی وی لائسنس فیس ختم کرنے کا فیصلہ

وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ ظہیرالدین بابر اور اس کی نسل نے ہندوستان پر 300 سال تک حکمرانی کی اور ہندوستان کو دنیا کی سب سے بڑی معاشی طاقت میں تبدیل کردیا تھا۔ عالمی جی ڈی پی میں ہندوستان کا حصہ 24 سے 25 فیصد ہوتا تھا۔

وزیراعظم کا کہنا تھا کہ ظہیرالدین بابر کے دور حکومت میں ہندوستان سپر پاور تھا، اور میں سمجھتا ہوں کہ ہماری نئی نسل کو تاریخ کا معلوم ہونا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ اس طرح کے مشترکہ تجربے دونوں ممالک کے لوگوں کو یکجا کرنے میں اہم کردار ادا کرسکتے ہیں۔

وزیراعظم عمران خان کا کہنا تھا کہ بابر کے بعد مرزا غالب اور عظیم مفکر اور شاعر محمد اقبال کی زندگیوں پر بھی فلمیں بنائیں گے۔

وزیراعظم عمران خان نے ابھی تک صرف ازبکستان کے ساتھ فلم بنانے کے فیصلے کا اعلان کیا ہے تاہم فلم کو کیسے اور کب تک بنایا جائے گا یا کون سے اداکار اس کا حصہ ہوں گے، اس حوالے سے کوئی تفصیل سامنے نہیں آئی۔

ظہیرالدین بابر کی مختصر تاریخ

ہندوستان میں مغل سلطنت کی بنیاد رکھنے والے ظہیرالدین بابر 14 فروری 1483 کو ازبکستان میں پیدا ہوئے تھے۔ ان کے والد عمر شیخ مرزا فرغانہ کے گورنر تھے۔ باہر منگول حکمران تیمور لنگ کی نسل سے تھے۔

ظہیرالدین بابر نے 1496 میں ثمرقند کو فتح کیا تھا۔ 1504 کو کابل کو فتح کیا تھا ، 1526 میں پانی پت کے میدان میں ابراہیم لودھی کو شکست دے کر ہندوستان میں مغلیہ سلطنت کی بنیاد رکھی تھی۔ ظہیرالدین بابر 1530 کو اس جہانی فانی سے کوچ کرگئے تھے۔ جس مغلیہ سلطنت کی بنیاد انہوں نے رکھی تھی اس کا اختتام تقریباً 300 سال بعد بہادر شاہ ظفر پر ختم ہواتھا۔

Facebook Comments Box