پھانس کی کہانی کی نور مقدم قتل کیس سے اتفاقیہ مماثلت

ڈرامے میں والدین کو اپنے بیٹوں کی بچپن سے اچھی تربیت کرنے کا درس دیا گیا ہے۔

ڈرامہ سیریل پھانس کی آخری قسط گزشتہ روز نشر کی گئی جوکہ نور مقدم قتل کیس سے مماثلت رکھتی تھی۔ عدالت میں بولے گئے ڈائیلاگز نے معاشرے کی تلخ حقیقت کو بیان کردیا۔

پچھلے کئی سالوں سے مختلف ٹی وی چینلز پر معاشرے کے سنجیدہ مسائل پر ڈرامے بنانے کا رحجان زور پکڑتا جارہا ہے۔ ان مسائل میں خواتین کے حقوق خصوصاً ان پر جنسی تشدد کے موضوع کو ترجیح دی جارہی ہے۔

ڈرامہ سیریل پھانس کی کہانی زیبا نامی لڑکی کے گرد گھومتی ہے جوکہ گھروں میں کام کرنے والی ملازمہ کی بیٹی ہے۔ زارا نور نے اپنا کردار بخوبی نبھایا ہے۔ دوسری جانب شہزاد شیخ ساحل نامی لڑکے کے کردار میں دکھائی دیئے جوکہ بچپن میں اپنے امیر والدین کے درمیان ہونے والے جھگڑوں کے باعث پریشان ہوتا ہے اور توجہ حاصل کرنے کے لیے ذہنی طور پر معذور ہونے کا ناٹک کرتا ہے لیکن جوانی کی دہلیز پار کرنے پر اس کا اصل چہرا زیبا اور ساحل کی والدہ کے سامنے آجاتا ہے جوکہ نہایت بھیانک ہوتا ہے۔ زیبا کے ساتھ زیادتی کرنے والے ساحل کی اصلیت جب اس کے باپ کو معلوم ہوتی ہے تو وہ اس کے گناہ چھپانے کے لیے ہر ممکن کوشش کرتا ہے اور عدالت میں بھی اسے پاگل ثابت کرنے کے لیے ایڑھی چوٹی کا زور لگادیتا ہے لیکن آخرکار سچ سب کے سامنے آ جاتا ہے۔

یہ بھی پڑھیے

پھانس میں شہزاد شیخ کی اداکاری کے چرچے

پھانس کی آخری قسط میں عدالت کے سین میں بولے گئے ڈائیلاگز قابل تعریف ہیں جن میں والدین کو اپنے بیٹوں کی بچپن سے اچھی تربیت کرنے اور ان کی غلطیوں پر پردہ ڈالنے کے بجائے انہیں وقت پر ہی سزا دینے کا درس دیا گیا ہے۔

پھانس کی آخری قسط کے ڈائیلاگز کو سن کر ایسا لگتا ہے جیسے وہ کہیں نہ کہیں نور مقدم قتل کیس کے ملزم ظاہر جعفر کے والدین کو سنائے جارہے ہوں۔

سابق سفارتکار شوکت مقدم کی بیٹی نور مقدم کو پچھلے دنوں اسلام آباد میں قتل کردیا گیا۔ ملزم کو عدالت میں پاگل ثابت کیا جارہا ہے لیکن شوکت مقدم کا کہنا ہے کہ ملزم پاگل نہیں ہے، وہ اسلحے کے ساتھ پکڑا گیا اور اپنی کمپنی کا ڈائریکٹر بھی رہ چکا ہے۔

Facebook Comments Box