شرمین عبید کو کرونا میں خواتین پر گھریلو تشدد نامنظور

آسکر ایوارڈ یافتہ ہدایتکارہ نے اینیمیٹڈ فلم سیریز سیانی سہیلیاں کی آخری کہانی سوشل میڈیا پر جاری کردی۔

آسکر ایوارڈ یافتہ پاکستانی ہدایتکارہ شرمین عبید نے خواتین پر گھریلو تشدد کے خلاف شعور اجاگر کرنے کا بیڑا اٹھالیا۔ سوشل میڈیا پر اینیمیٹڈ فلم سیریز سیانی سہیلیاں کی آخری کہانی “کرونا میں خواتین پر گھریلو تشدد نہ قابل قبول ” جاری کردی۔

شرمین عبید ویسے تو مختلف سماجی مسائل پر ڈاکیومنٹریز اور شاٹ فلمز بناتی ہیں، اس مرتبہ انہوں نے خواتین پر کیے جانے والے گھریلو تشدد کے موضوع پر اینیمیٹڈ فلم بنائی ہے۔ جس کی آخری کہانی “کرونا میں خواتین پر گھریلو تشدد نہ قابل قبول ” انسٹاگرام پر جاری کردی۔

یہ بھی پڑھیے

کہیں اقلیتوں کو خراج عقیدت تو کہیں مندر میں آگ

فلم میں گھر کا ماحول دکھاتے ہوئے یہ پیغام دیا گیا ہے کہ گھر کا ماحول اچھا رکھنے کی ذمہ داری صرف خواتین کی نہیں بلکہ سب کی ہے۔ گھر کے مرد، عورتیں اور بچے سب مل کر ہی کرونا کے اس کڑے وقت میں گھر کا ماحول  پرجوش اور خوش نما رکھ سکتے ہیں۔

فلم میں بتایا گیا ہے کہ کرونا وبا کے دوران پاکستان سمیت دنیا بھر میں خواتین پر گھریلو تشدد میں اضافہ ہوگیا ہے اور بہت سی خواتین کو مالی، جسمانی، ذہنی اور جنسی تشدد کا سامنا کرنا پڑا ہے۔ مردوں کو یہ بتانے کی ضرورت ہے کہ خواتین پر کسی بھی قسم کا تشدد انسانی حقوق کی خلاف ورزی اور قانوناً جرم ہے۔ کسی ذہنی دباؤ کا بہانہ بنا کرخواتین پر تشدد نہیں کیا جاسکتا۔

فلم میں پیغام دیا گیا ہے کہ گھریلو تشدد بھی معاشرے کا ایک وائرس ہی ہے اورایک دوسرے کا خیال رکھ کر اس وائرس کو شکست دی جا سکتی ہے۔

Facebook Comments Box