شوہر بچے نہیں ہوتے جو ان کے کام کیے جائیں، نادیہ حسین

معروف ماڈل نے کہا کہ دن بھر کام کرنے والی عورت سے شوہر کی خدمت کی توقع نہ رکھی جائے۔

پاکستان کی معروف ماڈل و اداکارہ نادیہ حسین کہتی ہیں کہ ان کے شوہر کوئی بچے نہیں جو وہ ان کے کام کرتی رہیں، شوہر اپنے تمام کام خود کرسکتے ہیں۔

اے آر وائی نیوز کے پروگرام میں اپنے شوہر کے ہمراہ انٹرویو دیتے ہوئے نادیہ حسین نے بیویوں سے اپنی دیکھ بھال کا مطالبہ کرنے والے شوہروں سے متعلق اپنی رائے واضح کی۔ معروف ماڈل نے کہا کہ جو عورت دن بھر کام کرتی ہے اس سے اپنے شوہر کی خدمت کی توقع رکھنا مناسب نہیں ہے۔

یہ بھی پڑھیے

صدف کنول کے ازدواجی زندگی کے اصولوں نے سوشل میڈیا پر آگ لگادی

میزبان نے کہا کہ ہمارے معاشرے میں ہمیشہ خواتین ہی گھر کے تمام کام کرتی ہیں۔ مہمانوں اور دیگر گھر والوں کا خیال رکھنا اور ان کی تیمارداری کی ذمہ داری بھی خواتین پر ہی ہوتی ہے۔ اس پر نادیہ حسین نے کہا کہ یہ سب غلط ہے اور وہ ان تمام روایات کو تسلیم نہیں کرتیں۔

نادیہ حسین کا کہنا تھا کہ وہ اپنے شوہر کو کھانا یا پانی دے سکتی ہیں لیکن خواتین سے یہ امید نہ رکھی جائے کہ ان کا کام ہی شوہر کا ہر کام کرنا ہے۔ نادیہ حسین نے بتایا کہ وہ اپنے شوہر کے ساتھ ایک جیون ساتھی کی طرح سلوک کرتی ہیں اور وہ بچوں کو بھی فرسودہ روایات سے دور رکھتی ہیں۔

واضح رہے کہ اس سے قبل اداکارہ صدف کنول نے اپنے انٹرویو میں روایتی مشرقی بیوی ہونے کا ثبوت دیتے ہوئے کہا تھا کہ شوہر کے سارے کام کرنا بیوی کی ذمہ داری ہے کیونکہ شوہر کا درجہ بلند ہوتا ہے۔

Facebook Comments Box