نیٹ فلکس پر پاکستانی کنٹینٹ کیوں نہیں، حکومت نے نوٹس لے لیا

فواد چوہدری کے مطابق نیٹ فلکس کو کچھ تناسب سے پاکستانی کنٹینٹ لازمی چلانا ہوگا۔

حکومت نے آن لائن اسٹریمنگ سروس نیٹ فلکس کی پاکستان سے سالانہ 250 ملین ڈالرز سے زائد آمدن کے باوجود پاکستان کا کوئی ڈرامہ یا پروگرام نشر نہ کرنے کا نوٹس لے لیا ہے۔ وفاقی وزیر فواد چوہدری نے کہا ہے کہ نیٹ فلکس کو ہر صورت پاکستان کا مقامی کنٹینٹ دکھانا ہوگا۔

نیٹ فلکس نے دنیا بھر کی طرح پاکستان میں بھی تیزی سے مقبولیت حاصل کی ہے۔ کرونا وائرس کے باعث لگنے والے لاک ڈاؤن میں لوگوں نے گھروں میں رہ کر آن لائن سٹریمنگ سروسز پر اپنا من پسند مواد دیکھا جن میں نیٹ فلکس سرفہرست تھا۔ ایک رپورٹ کے مطابق پاکستان میں آن لائن سٹریمنگ سروسز میں یوٹیوب کے بعد نیٹ فلیکس کا نمبر آتا ہے۔

رپورٹ کے مطابق آن لائن اسٹریمنگ سروس نیٹ فلکس کی پاکستان سے سالانہ آمدنی 250 ملین ڈالرز سے تجاوز کر گئی ہے لیکن اس کے باجود نیٹ فلکس پر پاکستانی کنٹینٹ نشر نہیں ہورہا۔

یہ بھی پڑھیے

سینما اور تھیٹرز کا نیٹ فلکس کو زور کا جھٹکا

نیوز 360 سے گفتگو کرتے ہوئے وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات فواد چوہدری نے کہا ہے کہ نیٹ فلکس کے حوالے سے حکومت نے پانچ ملکوں کے قوانین کا جائزہ لیا ہے جس میں بھارت، برطانیہ، آسٹریلیا، سنگاپوراورملائیشیا شامل ہے۔ ان ممالک میں نیٹ فلکس پر 30 فیصد مقامی مواد دکھانا ضروری ہے۔

وفاقی وزیر فواد چوہدری کا کہنا تھا کہ نیٹ فلکس پاکستان سے سالانہ 250 ملین ڈالرز کماتا ہے مگر وہ ڈارمے سمیت کوئی پاکستانی پروگرام نشر نہیں کرتا۔ وفاقی وزیر نے بتایا کہ انہوں نے نیٹ فلکس کی انتظامیہ کو بتادیا ہے کہ انہیں کچھ تناسب سے پاکستانی کنٹینٹ لازمی چلانا ہوگا۔

Facebook Comments Box