میری کامیابی ثابت کرتی ہے کہ ٹرانس جینڈرز کسی سے کم نہیں، مس ٹرانس

ملکی تاریخ کی پہلی مس ٹرانس شاہرہ رائے  نے  نیوز360  کو  انٹرویو  دیتے  ہوئے  کہا  کہ  انہیں  پاکستان کی پہلی بیوٹی کوئین بننے کی بےحد خوشی ہے۔

نمائندہ  نیوز360 دانیال راٹھور سے  گفتگو  میں شاہرہ رائے نے  کہا  کہ  ان  کی کامیابی  ثابت کرتی ہے کہ ٹرانس جینڈر بھی کسی سے کم نہیں ہیں۔

شاہرہ رائے نے بتایا  کہ  ان  کا  تعلق سیالکوٹ سے ہے  لیکن  وہ لاہور میں پیدا ہوئیں اور دس سال کی عمر میں دبئی چلی گئیں۔ زیادہ تر وقت باہر گزارا اور تعلیم بھی وہیں سے حاصل کی۔ شاہرہ رائے  نے اے لیول کے بعد ماس کمیونیکیشن میں ماسٹرز بھی کیا۔ مس  ٹرانس  کا  اصل  نام ذائشہ بیگ ہے۔  انہوں  نے  بتایا  کہ  انہیں  اس  مقام  تک پہنچانے  میں  ان  کے  بھائی کا  بڑا  کردار  ہے۔

یہ  بھی  پڑھیے

عائشہ اکرم نے پاکستان کو بدنام کرنے کے لیے 14 اگست کا دن چنا، خواجہ ندیم

شاہرہ رائے کا مزید کہنا تھا کہ ان  کی خواہش ہے کہ پاکستان کا نام پوری دنیا میں عزت سے لیا جائے۔ گرین پاسپورٹ کو اس کا اصل  مقام ملے۔  مس  ٹرانس  نے  کہا  کہ  انہیں موقع ملا تو وہ خواتین اور ٹرانس کمیونٹی سمیت اقلیتی برادری  کے لیے ضرور کام کریں گی۔

واضح رہے کہ مس ٹرانس مقابلہ کینیڈا میں ہوا تھا۔ فائنل میں شاہرہ رائے نے 10 شرکاء کو ہرا کر مس پاکستان بیوٹی کوئین کا اعزاز اپنے نام کیا۔

Facebook Comments Box