کیا پاکستانی ڈرامے خودکشی کے رجحان کو پروموٹ کررہے ہیں؟

صحافی ثمن صدیقی نے ڈراموں میں خودکشی کے بڑھتے ہوئے واقعات دکھانے پر پیمرا سے نوٹس لینے کا مطالبہ کیا ہے۔

آج مختلف چینلز پر چلنے والے ڈراموں کا اختتام، ڈرامے میں منفی کردار ادا کرنے والے اداکار یا اداکارہ کی خودکشی پر ہورہا ہے۔ پاکستان کی معروف صحافی ثمن صدیقی نے ڈراموں میں خودکشی کے بڑھتے ہوئے واقعات دکھانے پر پیمرا سے نوٹس لینے کا مطالبہ کیا ہے۔

سماجی رابطوں کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر اپنے پیغام میں ثمن صدیقی نے لکھا ہے کہ "ایسے ڈراموں کو نمائش کی اجازت نہیں ہونی چاہیے جن میں خودکشی اور نفرت انگیز انتقام کو دکھایا جاتا ہے۔”

یہ بھی پڑھیے

عمر شریف علاج کے لیے امریکا روانہ، قوم سے دعاؤں کی اپیل

انہوں نے لکھا ہے کہ "کیا پیمرا نے گزشتہ ہفتوں سے دکھائے جانے والوں ڈراموں کا جائزہ لیا ہے جن میں اکثر ڈراموں میں خودکشی کرتےہوئے دکھایا گیا ہے۔؟”

صحافی ثمن صدیقی نے لکھا ہے کہ "پیمرا کی اطلاع کے لیے "ہم کہاں کے سچے تھے” ، "بے رخی” اور "آزمائش” میں خودکشی کو ایک معمول کی کارکردگی کے طور پر دکھایا گیا ہے۔ جو شرم کی بات ہے۔

"ہم کہاں کے سچے تھے” کے 9ویں قسط میں مشال خودکشی کرلیتی ہے مگر اس کا مقصد مہرین سے برے طریقے سے انتقام لینا تھا۔

ٹوئٹر صارف محسن حسن نے ثمن صدیقی کو ٹیگ کرتے ہوئے لکھا ہے کہ ” پیمرا سو رہا ہے۔”

ویک نامی ٹوئٹر صارف نے لکھا ہے کہ "آپ اپنا کام کرتی رہیں ، پیمرا کافی کے مزے لے رہا ہے۔”

بہت سے سوشل میڈیا صارفین نے ثمن صدیقی کے جذبے کو بہت زیادہ سراہا ہے۔

تاہم کچھ صارفین کا کہنا ہے کہ ضروری نہیں کہ ہر ڈرامہ آپ کو خوشی یا غم میں مبتلا کردے۔ ہمیں ڈراموں کو معاشرے کے منفی اور مثبت پہلوؤں کو مد نظررکھتے ہوئے دیکھنا چاہیے۔

Facebook Comments Box