امن چوپڑا کا اسلام مخالف پروگرام ‘تھوک جہاد’ بند ہونا چاہئے

بھارتی میڈیا کا کہنا ہے کہ امن چوپڑا تعصب اور اسلام مخالف پروپیگنڈا سےملک میں صحافت کو مذاق بنا رہے ہیں

بھارتی ٹی وی اینکر امن چوپڑا نے بے بنیاد اور گمراہ کن معلومات کے ساتھ ‘تھوک جہاد’ کے نا م سے ویڈیوز کا ایک سلسلہ تیار کیا جس میں دیکھا یا جارہا ہے کہ مسلمان آپ کے کھانے میں "تھوک "کر ایک جنگ لڑرہے ہیں جس کو وہ مقدس کہتے ہیں۔

بھارتی ویب سائٹ  نیوز 18 نے اپریل 2020  میں ایک اسلام مخالف پروپیگنڈے کا حصہ جعلی خبروں کی جانچ پڑتال پر مبنی ایک مضمون شائع کیا جس میں  حقائق  کا احاطہ کیا گیا تھا ، ڈیڑھ سال بعد  اسی ویب سائٹ کی  کے ذیلی ادارے نیوز 18 انڈیا  نے  اپنے پروگرام میں بعض ایسی ہی  اسلام مخالف جعلی  اور بےبنیاد گمراہ کن   خبروں پر مبنی  ویڈیوز پیش کی تھیں جس کےدفاع کے لئے بھارتی ٹی وی کے  انتہا پسند اینکر امن چوپڑا کی جانب سے تعصب ہو ہوا دینے کےلئے کیا جارہا ہے۔

یہ بھی پڑھیے

بھارتی میڈیا نے ‘حیدر علی’ کو پاکستان کا روہت شرما قرار دےدیا

خطے کی صورتحال پر بھارتی حکومت اور میڈیا بوکھلاہٹ کا شکار

ویب سائٹ نے لکھا ہے کہ اگر آپ امن چوپڑا کے نفرت اور تعصب پھیلانے کے مخصوص  انداز صحافت سے آگاہ نہیں ہیں تو اس شو کو دیکھ کر آپ کو لگے گا کہ یہ شو عوامی سطح  تھوکنے کے کے خلاف  ایک عوامی شعور ی تربیت کا  پروگرام ہےجس میں شہریوں کی ایک مہذب شہری بننے میں ذہن سازی کی جارہی ہے تاہم جو لوگ  ان کے متعصب   ذہینت  سے واقف ہے وہ باآسانی سمجھ سکتے ہیں کہ یہ  "تھوک جہاد” کے نا م سے ہونے والا پروگرام  جو مسلمانوں  کے خلاف ایک گھناؤنی سازش ہے ۔

ویب سائٹ لکھتی ہے کہ   امن چوپڑا کے پروگرام کا نام ( ہم ملک کو نہیں   جھکنے دیں گے )  نام بہت  زبردست ہے لیکن   ایک متعصب  صحافی  نے ملکی  صحافت کو ایک مذاق بنا دیا ہے  ۔ امن چوپڑا نے  اپنے  پروگرام کے ایک ایپی سوڈ  کو نام دیا "کھانےمیں تھوکنا جہاد یا جہالت )  اس نے پورے وقت میں  یہ ثابت کرنے کی کوشش کی ہے کہ کس طرح ہندوستانی مسلمان  مبینہ طورپر کھانے میں تھوک رہے ہیں ، اس پروگرام میں امن چوپڑا نے ا ن تمام شدت پسند اور انتہاپسندوں کو مدعو کیا جو   مسلما مخالف جذبات کےلئے اپنی شہرت رکھتے ہیں۔

Facebook Comments Box