شاہ رخ خان نے لتا کے انتقال پر بین المذاہب ہم آہنگی کی مثال قائم کردی

شاہ رخ خان نے اسلامی عقائد کے مطابق دعا کے لیے ہاتھ اٹھائے جبکہ اُن کی مینیجر  نے ہندو عقائد کے مطابق ہاتھوں کو عقیدت سے جوڑکر انجہانی گلوکارہ کو رخصت کیا

فی زمانہ بین المذاہب ہم آہنگی کی بات کی جائے تو دو طبقے اٹھ کھڑے ہوتے ہیں پہلا جس کے نذدیک ہر بلند آواز یا ہر نئی کوشش کو’ اپنے‘ اسلام کے لئے خطرہ ہی سمجھتے ہیں جن کے خیال میں بین المذاہب ہم آہنگی یا مکالمہ ایک ایسی شاطرانہ اختراع یا ایک ایسا نیا دین گھڑنے کی کوشش ہے جومسلمانوں کو دین اسلام سے دور کے جانے کی منظم سازش ہے۔

دوسرا طبقہ وہ ہے جن کے خیال کے مطابق بین المذاہب ہم آہنگی کا مطلب کبھی بھی ایمان لانا یا غیر مسلموں کے ساتھ ہر اختلاف کا خاتمہ کر کے دوستی کرلینا نہیں ہوتابلکہ ہم آہنگی کے فروغ کی کوششوں کا مطلب اختلاف کے ساتھ جینے کا ہنر سیکھنا ہوتاہے اور ایک د وسرے کو جاننے اور سمجھنے کے بعد مل جل کر رہنے کی کسی سبیل پر اتفاق رائے کرنا ہوتاہے  اپنے مذہب پر چلتے رہنے کے ساتھ ساتھ دوسرے کے مذہب کا احترام کرنا ہوتا ہے۔

گذشتہ اتوار کو ممبئی کے ’شیوا جی پارک‘  میں برصغیر کی لیجنڈری گلوکارہ انجہانی لتا منگیشکر کی آخری رسومات میں شرکت کے لیے جہاں بھارت کے مختلف شعبہ جات سے تعلق رکھنے والی معروف شخصیات موجود تھیں وہیں ’بھارتی فلم انڈسٹری  میں کنگ خان کا لقب پانے والے سپر سٹار شاہ رخ خان بھی موجود تھے۔

یہ بھی پڑھیے

علی ظفر اور سجاد علی کا انجہانی گلوکارہ لتا منگیشکر کو خراج عقیدت

لتا منگیشکر نے شادی کیوں نہیں کی؟

لتا منگیشکر کے جسد خاکی کو آخری دیدار کے لیے  رکھا گیا توکنگ خان بھی اپنی مینیجر کے ساتھ پہنچے  ،سماجی رابطوں کی مختلف ویب سائٹس پر شاہ رخ خان کے  کی تصاویر وائرل ہوئیں جس میں دیکھا جاسکتا ہے کہ  کنگ خان نے لتا منگیشکرکے جسد خاکی کے سرہانے کھڑھے ہوکر اسلامی عقائد کے مطابق دعا کے لیے ہاتھ اٹھائے جبکہ ہند و مذہب سے تعلق رکھنے والی اُن کی مینیجر پوجا ددلانی  نے ہندو عقائد کے مطابق ہاتھوں کو عقیدت سے جوڑکر انجہانی گلوکارہ کو رخصت کیا۔

شاہ رخ خان نے تو نا صرف لتامنگیشکر کے آخری دیدار کے موقع پر دعا کیلیے ہاتھ اٹھاکر بین المذاہب ہم آہنگی کی اعلیٰ مثال قائم کی بلکہ اسلامی طریقہ کار کے مطابق دعائیہ کلمات اداکرنے کے بعد ان کی میت پر پھونک بھی ماری  جسے انکے مداحوں اور بھارتی میڈیا کی جانب سے خوب سراہا جارہا ہے۔

مگربھارتی انتہاپسندوں  نے غم کی اس گھڑی کو بھی اپنی جنونیت کے اظہار  کا ذریعہ بنالیا اور اداکار شاہ رخ خان کی جانب سے  لتاجی کی میت پر ماری گئی پھونک کو تھوک قرار دیدیا اور اب ان کے خلاف اندراج مقدمہ کیلیے  ممبئی پولیس کودرخواست دینے کی اطلاعات بھی سامنے آرہی ہیں۔

متعلقہ تحاریر