ہالی ووڈ اداکار یوکرینی شہریوں کے ہمراہ پیدل پولینڈ پہنچ گئے

شان پین دستاویزی فلم کی شوٹنگ کیلیے یوکرین میں تھے، خواتین اور بچوں کو پولینڈ کی سرحد پر کھڑی گاڑیوں میں دیکھا تو احتراماً گاڑی سے اتر گئے۔

ہالی ووڈ اداکار شان پین یوکرین میں ایک دستاویزی فلم کی عکسبندی کیلیے موجود تھے، انہوں نے ہزاروں یوکرینی شہریوں کے ہمراہ پولینڈ کی طرف پیدل سفر کیا۔

61 سالہ اداکار نے منگل کو ٹویٹ کرتے ہوئے اپنی ایک تصویر شیئر کی جس میں وہ کمر پر بستہ لٹکائے اور ہاتھوں میں ہینڈ کیری پکڑے گاڑیوں کی قطار کے سامنے سے گزر رہے ہیں جو کہ پڑوسی ملک میں داخلے کا انتظار کر رہی ہیں۔

شان پین نے کہا کہ وہ اور ان کے دو ساتھیوں نے گاڑی سڑک کے کنارے کھڑی کرکے پولینڈ کی طرف پیدل سفر کیا۔

انہوں نے اس کی وجہ یہ بتائی کہ کیونکہ تمام گاڑیوں میں صرف خواتین اور بچے سفر کر رہے تھے اور بیشتر میں کوئی سامان نہیں تھا، صرف گاڑی ہی ان کی واحد قیمتی چیز تھی۔

اس وجہ سے شان پین ساتھیوں اور سامان سمیت گاڑی سے اتر گئے تاکہ اس بات کو یقینی بنائیں کہ پولینڈ میں داخل ہونے والی یوکرینی گاڑیوں میں بےسروسامان خواتین اور بچے ہیں نا کہ قیمتی اشیا سے لدے پھندے اداکار۔

خبر رساں ایجنسی روئٹرز کے مطابق شان پین یوکرین سے بحفاظت نکل گئے ہیں۔

اسکر ایوارڈ یافتہ اداکار کو جمعرات کے روز کیف میں واقع صدارتی آفس میں پریس بریفنگ کرتے ہوئے دیکھا گیا تھا، اسی روز روس نے یوکرین پر مسلح حملہ کردیا۔

یوکرینی صدر کے آفیشل فیس بک پیج سے پوسٹ لکھی گئی کہ آج شان پین ان افراد میں سے ہیں جو کہ یوکرین میں بیٹھ کر یوکرین کی حمایت کر رہے ہیں۔

پوسٹ میں کہا گیا کہ ہمارا ملک ان کے اس حوصلے اور ایماندری پر ان کا شکرگزار ہے۔

پین نے یوکرین کی نائب وزیراعظم ایرینا اور صحافیوں اور عکسری حکام سے بھی روسی جارحیت کے حوالے سے بات کی۔

وہ پچھلے نومبر میں ایک دستاویزی فلم کی شوٹنگ کیلیے یوکرین آئے تھے۔

یوکرین میں جنگ چھڑنے کے بعد انہوں نے روسی صدر پیوٹن کے اقدامات کی سخت مذمت کی تھی اور کہا کہ اگر پیوٹن نے جارحیت ختم نہ کی تو یہ پوری انسانیت کیلیے سب سے خطرناک غلطی ہوگی۔

متعلقہ تحاریر