سنگاپور نے متنازع بالی ووڈ فلم ‘کشمیر فائلز’ پر پابندی لگا دی

سنگاپور کی حکومت نے میڈیا کو بیان دیا کہ فلم کی کہانی مختلف برادریوں کے مابین نفرت اور اختلافات کا باعث بن سکتی ہے۔

سنگاپور نے رواں برس مارچ میں ریلیز ہونے والی متنازع اور مسلم نفرت پر مبنی بالی ووڈ فلم ‘دی کشمیر فائلز’ پر پابندی عائد کردی ہے۔

خبر رساں ادارے ‘رائٹرز’ کے مطابق سنگاپور حکومت نے میڈیا کو بیان جاری کیا کہ ‘دی کشمیر فائلز’ کی کہانی مختلف برادریوں کے مابین نفرت اور اختلافات کا باعث بن سکتی ہے، اس وجہ سے فلم پر پابندی عائد کی جارہی ہے۔

بیان میں کہا گیا کہ فلم میں مسلمانوں کو مشتعل کرداروں میں دکھایا گیا اور مقبوضہ کشمیر میں ہندوؤں کے کردار کو نہیں دکھایا گیا۔

سنگاپور کی حکومت کے مطابق فلم کی کہانی ماحول کو متاثر کرسکتی ہے اور مذہبی و سماجی ہم آہنگی متاثر ہوسکتی ہے۔

سنگاپور 55 لاکھ کی آبادی پر مشتمل ملک ہے لیکن وہاں ہندوؤں اور مسلمانوں کی بھی بڑی تعداد موجود ہے۔

سنگاپور حکومت کی طرف سے ‘دی کشمیر فائلز’ پر پابندی عائد ہونے سے پہلے پاکستان سمیت دوسرے ممالک کی جانب سے بھی اس پر تنقید کی گئی تھی۔

مذکورہ فلم پر بھارتی شائقین، اداکاروں اور فلمسازوں نے بھی تنقید کی تھی اور اس کے ریلیز ٹائم پر بھارت میں مسلمانوں کے خلاف نفرت میں اضافہ دیکھا گیا۔

‘دی کشمیر فائلز’ مارچ میں ریلیز ہوئی تھی جس کے خلاف بھارت میں بھی مسلمانوں سمیت روشن خیال ہندوؤں نے مظاہرے کیے تھے۔

فلم میں انوپم کھیر اور متھن چکروتی نے کشمیری پنڈتوں کے کردار ادا کیے ہیں۔

دی کشمیر فائلز کی کہانی 1990 کے دوران مقبوضہ کشمیر میں ہونے والی نسل کشی پر مبنی ہے، حیران کن طور پر صرف ہندو پنڈتوں کی نسل کشی کو دکھایا گیا ہے جبکہ مسلمانوں کی نسل کشی پر کوئی بات نہیں کی گئی۔

فلم میں یہ دکھانے کی کوشش کی گئی ہے کہ کشمیر ہندوؤں کی سرزمین تھی جہاں مسلمانوں نے دہشتگردی کر کے پنڈتوں کی نسل کشی کی اور انہیں ملک چھوڑنے پر مجبور کر دیا۔

متعلقہ تحاریر