بلقیس بانو کے ملزمان کی رہائی پربہت شرمندہ اور دنگ ہوں، شبانہ اعظمی

سینئر بھارتی اداکارہ شبانہ اعظمی نے  گجرات کی بلقیس بانو سے اجتماعی عصمت دری کے 11 ملزمان کی رہائی پر ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ وہ بہت شرمندہ ہوئی اور دنگ رہ گئیں۔

ایک نیوز پورٹل سے بات کرتے ہوئے شبانہ نے کہا کہ بلقیس بانو کے لیے ان کے پاس الفاظ نہیں ہیں، سوائے اس کے کہ وہ بہت شرمندہ ہیں۔ اداکارہ نے تعریف کرتے ہوئے کہا کہ اس خاتون نے اتنا بڑا سانحہ جھیلنے کے بعد بھی ہمت نہیں ہاری،وہ سارے راستے لڑتی رہی، اس نے ان لوگوں کو سزا سنائی۔لیکن جیسا کہ اس کے شوہر کا کہنا ہے کہ  جب وہ اپنی زندگی کو یکجا کرنے والی تھی تو  انصاف کا یہ عظیم المیہ ہوگیا۔

یہ بھی پڑھیے

رنبیر کپور اور عالیہ بھٹ کی برہمسترا بالی ووڈ کی مہنگی ترین فلم

عائشہ عمر کا منفرد اعزاز سے نوازنے پر گلف نیوز سے اظہار تشکر

شبانہ اعظمی نے این ڈی ٹی وی سے بات کرتے ہوئے کہاکہ انہوں نے کہاکہ کیا ہمیں اس خاتون کو انصاف دلانے کیلیے  چھتوں پر چڑھ کر شور نہیں مچانا چاہیے تھا؟ اور وہ خواتین جو اس ملک میں خود کو غیر محفوظ محسوس کر رہی ہیں، وہ خواتین جو ہر روز عصمت دری کے خطرے کا سامنا کرتی ہیں ، کیا انہیں تحفظ کا احساس نہیں ہونا چاہیے ۔

شبانہ نے مزید وضاحت کرتے ہوئے کہاکہ یہ انہیں مکمل طور پر حیرت میں ڈال دیتا ہے کیونکہ جب یہ ہوا تو انہیں صرف یہی توقع تھی کہ اس طرح کے غصے کی بارش ہوگی۔

اداکارہ نے انکشاف کیا کہ انہوں نے 2،3 دن انتظار کیا تاہم میڈیا میں یہ خبر  بہت کم نظر آئی اور کسی قسم کی بحث نہیں ہوئی۔ اداکارہ نے کہا کہ وہ دنگ رہ گئیں کہ ایسا ہو سکتا ہے، اب بھی وہ سوچتی ہے کہ جوناانصافی ہوئی ہے اس کی ہولناکی کے بارے میں کافی ناسمجھی پائی جاتی ہے ۔

 شبانہ اعظمی نے مزید کہا کہ رہائی کے بعد مجرموں کو مبارکباد دی گئی اور لڈو تقسیم کیے گئے۔ اداکار نے سوال کیا کہ ہم معاشرے اور خواتین کو کیا پیغام  دے رہے ہیں۔

یاد رہے کہ  2002 کے گجرات فسادات کے دوران بلقیس بانونامی مسلمان خاتون کے ساتھ  اجتماعی عصمت دری  کےمقدمے میں عمر قید پانے والے 11ملزموں کو گزشتہ ماہ بھارت کے 75ویں یوم آزادی کے دن 15سال قید کاٹنے کےبعد معافی قبول کرتے ہوئے سپریم کورٹ کے حکم پر  جیل سے رہا کردیا گیا تھا ۔

متعلقہ تحاریر