زارا نور عباس اپنا نومولود بیٹا کھونے کے بعد کس صدمے سے گزریں؟

اداکارہ نے فریحہ ادریس کے ساتھ پوڈ کاسٹ میں ملک کے نظام صحت میں پائی جانے والی خامیوں پر بھی کھل کر بات کی۔

اداکارہ زارا نور عباس نے معروف اسٹائلسٹ فریحہ ادریس کے ساتھ حالیہ پوڈ کاسٹ میں اپنے پہلے بیٹے اورنگزیب کی پیدائش اور اسکی موت کے بعد خود پر بیتنے والے حالات پر تفصیلی بات کی ہے۔

اداکارہ نے نظام صحت میں پائی جانے والی خامیوں اور زچگی کے دوران اپنے بچے کھو دینے والی ماؤں کیلیے صدمے سے نکلنے کیلیے مناسب  رہنما ئی دستیاب نہ ہونے کا بھی شکوہ کیا۔

یہ بھی پڑھیے

زارا نور عباس کی اپنی ٹیچر کیساتھ کتھک ڈانس  کرنے کی کوشش

زارا نور عباس کی والدہ اور بھائی کیساتھ گانے کی وڈیو وائرل

 

ادکارہ نے اپنےانسٹاگرام اکاؤنٹ پر پوڈ کاسٹ کا ایک کلپ شیئر کرتے ہوئے کیپشن میں لکھا کہ جسے آپ نے ہمیشہ کیلیے کھودیا ہو اس کے بارے میں بات کرنا ہمیشہ ایک مشکل کام ہوتا ہے لیکن اتنی بات چیت اور چند مہینوں بعد میں آخر کار اپنی خوبصورت اور ہمدرد دوست فریحہ ادریس کے ساتھ اپنے دل کی بات کرسکی۔ صحت کی دیکھ بھال کے نظام،صدمے کے بعد ہونے والے نقصانات اورکیسے خواتین خود کو کتنا کم سراہتی ہیں اور   نہیں جانتی ہیں کہ وہ دراصل کتنی بہادر اور مضبوط ہوتی ہیں ۔

انہوں نے مزید لکھا کہ  مجھے امید ہے کہ میں ان خواتین سے کچھ امیدیں حاصل کر سکتی ہوں جومجھ جیسے یا شاید بدترحالات سے گزر رہی ہیں اور ہم مل کر بیداری پیدا کر سکتے ہیں اور ہر ایک کو اپنی کہانی  دوسروں کو سنانے کی ہمت دلاسکتے ہیں ۔

زارا نور عباس نے پوڈ کاسٹ میں فریحہ ادریس کو اپنے پہلے بچے کی پیدائش کے حوالے سے بتایا کہ وہ زچگی کے 22ویں ہفتے میں معمول کے معائنےکیلیے ڈاکٹر کے پاس گئی تھیں  ،اپوائنمنٹ کیلیے انتظار کے بعد جب ڈاکٹر نے ان کا معائنہ کیا تو انہیں بتایا کہ ان کی ولادت اسی  روز کروانا ہوگی۔

اداکارہ نے بتایا کہ وہ اکیلی اسپتال گئی تھیں اور ان کے شوہر(اداکاراسد صدیقی) بھی ان کے ساتھ موجود نہیں تھے۔انہوں نے بتایا کہ ڈاکٹرز نے آپریشن تھیٹر میں لے جاتے وقت ان سے ایک کاغذ پر دستخط کروائے لیکن شدید تکلیف میں مبتلا ہونے کے باعث وہ کاغذ پر درج تحریر پڑھ نہیں سکیں لیکن بعد میں انہیں پتہ چلاکہ اس کاغذ پر لکھا تھا کہ اگر دوران زچگی ان کی موت واقع ہوجائے تو اسپتال اس کا ذمے دار نہیں ہوگا۔

انہوں نے حیرانی کا اظہار کرتے ہوئے کہ آپریشن ٹیبل پر موجود مریض سے کوئی کیسے اس طرح کی تحریر پر دستخط کرواسکتا ہے۔زارا نور عباس نے بتایا کہ انہوں نے ڈاکٹرز کو کہہ دیا تھا کہ اگر ان کے بچے کا انتقال ہوجائے تو انہیں سکون آور ادویہ دیدی جائیں تاکہ وہ صدمے سے نکل سکیں۔انہوں نے بتایا کہ وہ ڈاکٹرز کو بتاچکی تھیں کہ وہ ذہنی تناؤ میں مبتلا رہی ہیں اور ایک سال پہلے تک دوائیں بھی استعمال کی  ہیں لیکن ڈاکٹرز نے انہیں کوئی دوا نہیں دی اور وہ ساری رات اسی صدمے میں جاگتی رہیں اور پھر ان کا صدمہ غصے میں تبدیل ہوگیا۔

زارا نور عباس نے یہ بھی بتایا کہ وقت سے پہلے بچے کی پیدائش ہونے کے بعد اسپتال کے متعلقہ شعبے کے سربراہ ان کا معائنہ کرنے آئے تو انہوں نے صاف صاف کہہ دیا کہ اسطرح کی پیدائش کےبعد 99 فیصد بچے انتقال کرجاتے ہیں ۔

اداکارہ نے اس بات کا بھی شکوہ کیا کہ  ملک میں کمسن اولاد کو کھونے کے صدمے سے گزرنے والی خواتین کی ذہنی صحت کے حوالے سے کوئی نظام موجود نہیں ہے۔

متعلقہ تحاریر