اکشے کمار کو سرکاری اشتہار میں جہیز کی ترغیب دینے پر تنقید کاسامنا

روڈ سیفٹی اور گاڑیوں کے ایئربیگز سے متعلق سرکاری اشتہار میں اکشے کمار کو دلہن کے باپ کو جہیز میں صرف 2 ایئربیگز والی گاڑی دینے پر کوستے ہوئے دکھایا گیا ہے۔

بالی ووڈ سپر اسٹار اکشے کمار ابھی اپنی فلموں کی ناکامی کی پریشانی سے نہیں نکل پائے ہیں کہ انہیں نئی مشکل نے آگھیرا ہے۔

روڈ سیفٹی اور گاڑیوں کے ایئربیگز سے متعلق سرکاری اشتہار میں جہیز جیسی لعنت کی ترغیب دینا اکشے کمار کے گلے پڑگیا اور انہیں سوشل میڈیاشدید تنقید کاسامنا ہے۔

یہ بھی پڑھیے

کیا فلم ”رام سیتو “اکشے کمار کی ناکامیوں کے سفر کو بریک لگاپائے گی؟

اکشے کمار نے کپل شرما کو فلموں کی ناکامی کاذمے دار قرار دیدیا

مودی سرکار کے وزیرٹرانسپورٹ نتن گدکاری کی جانب سے ٹوئٹر پر شیئر کیے جانے والے اشتہار میں اکشے کمار بیٹی کو جہیز میں دی گئی صرف  2 ایئربیگز والی گاڑی میں رخصت کرنے والے باپ کو  ڈرا تے ہوئے دکھائے گئے ہیں کہ راستے میں کسی حادثے کی صورت میں اسکی بیٹی اور داماد گاڑی کے پچھلے حصے میں ایئربیگ نہ ہونے پر حادثے کا شکار ہوسکتے ہیں ۔

برطانوی نشریاتی ادارے کے مطابق کچھ صارفین نے روڈ سیفٹی سے متعلق آگاہی پیدا کرنے پر اشتہار کو سراہا ہے تاہم صارفین کی بڑی تعداد  نے اشتہار کو جہیز کی ترغیب دلانے کا ذریعہ قرار دیا ہے کیونکہ اشتہار میں دکھایا گیا ہے کہ باپ اپنی بیٹی کو جہیز میں گاڑی دیتا ہے ۔

جنوبی ایشیا میں شادی کے موقع پر جہیز دینے اور لینے کی روایت صدیوں سے چلی آرہی ہے جس میں شادی کے موقع دلہن کے گھر والے دلہے کے گھر والوں کو تحفے کی شکل میں  نقدی،گاڑی، کپڑے اور زیورات دیتے ہیں۔

بھارت میں یہ رسم اب قابل دست اندازی جرم قرار دی جاچکی ہے تاہم  یہ رسم اب بھی جاری و ساری ہے اور جہیز نہ لانے والی خواتین کو گھریلو تشدد یہاں تک کے موت کا سامنا بھی کرنا پڑجاتا ہے۔گزشتہ سال کی گئی ایک تحقیق کے مطابق بھارت میں 95 فیصد شادیوں  میں جہیز ادا کیا جاتا ہے حالانکہ اس رسم پر 1961 سے پابندی عائد ہے۔

اکشے کمار کا یہ اشتہار گزشتہ ہفتے ٹوئٹر پر شیئر کیا گیا تھا اور اب تک اسے 10 لاکھ سے زائد مرتبہ دیکھاجاچکاہے۔اشتہار میں دکھایا گیا ہے کہ ایک دلہن بھیگتی آنکھوں کے ساتھ سسکیاں بھرتے ہوئے اپنے دلہا کے ساتھ نئی گاڑی میں رخصت ہورہی ہے اور اسکے والدین اور رشتیدار گھر کی دہلیز پر کھڑے رو رہے ہیں۔

ایسےمیں اکشے کمار پولیس افسر کی وردی میں    سامنے آتےہیں اور دلہن کے غمزدہ والد کے کان میں سرگروشی کرتے ہیں کہ ایسی گاڑی میں بیٹی کو رخصت کروگے تو رونا تو آئے گا۔

لڑکی کا باپ جھینپتے ہوئےکہتا ہے کہ کیا کمی ہے اس گاڑی میں؟آٹومیٹک ہے،سن روف ہے، امپورٹڈ میوزک سسٹم ہے اور 2 نہیں پورے 6  اسپیکرز ہیں۔اس پر اکشے کمار کہتے ہیں کہ ارے لیکن ایئربیگز تو صرف 2 ہیں نا،6 کیوں نہیں ہیں؟ایکسیڈنٹ ہوا تو صرف آگے دو ایئربیگز کھلیں اور پیچھے بیٹی اور داماد میوزک سنتے سنتے ٹاٹا بائے بائے ہوجائیں گے۔اکشے کمار کی بات سنتے ہی دلہا دلہن گاڑی سے باہر آجاتے ہیں اور پھر 6 ایئربیگ والی گاڑی میں رخصت ہوجاتے ہیں۔

کئی سوشل میڈیا صارفین کا خیال ہے کہ اس اشتہار سے غلط پیغام جارہا ہے اور یہ روڈ سیفٹی سے متعلق اقدامات کی ترغیب دینے کے بجائے جہیز کی لعنت کے فروغ کا سبب بن رہا ہے۔

ایک صارف نے لکھا کہ یہ اشتہار جہیز کو فروغ دے رہا ہے۔ایک اور صارف نے لکھا”یہ اشتہار بکواس ہے ، یہ اپنا مقصد کھوچکا ہے، کیا یہ شادی اور  دلہن کے بارے میں ہے یا جہیز میں 6 ایئر بیگ والی گاڑی  دینے کے بارے میں ہے؟ یہ کیا ہے؟ کیا یہ  کسی اور طریسے روڈ سیفٹی کا پیغام نہیں دے سکتے تھے؟“

یہ مہم ہندوستانی ارب پتی سائرس مستری کی رواں ماہ 5 ستمبر کو ٹریفک حادثے میں ہونے والی موت کے بعد شروع ہوئی ہے۔ کچھ رپورٹس میں بتایا گیا ہے کہ اس نے اپنی کار کی پچھلی سیٹ پر سیٹ بیلٹ نہیں باندھی ہوئی تھی۔

ہرسال بھارت کی سڑکوں پرحادثات کے نتیجے میں لاکھوں اموات ہوتی ہیں۔سرکاری اعداد و شمار کے مطابق 2021 میں فی گھنٹہ 18 افراد کے حساب سے  ٹریفک حادثات میں ڈیڑھ لاکھ  سے زائد بھارتی شہری لقمہ اجل بنے تھے۔

بھارتی وزیر ٹرانسپورٹ کو بھی یہ اشتہار شیئر کرنا مہنگا پڑگیا۔ کئی صارفین نے وزیرٹرانسپورٹ کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ روڈ سیفٹی کیلیے صرف ایئربیگز ہی نہیں ٹوٹ پھوٹ اور گڑھوں سے پاک سڑکیں بھی ضروری ہیں۔

متعلقہ تحاریر