علاقائی زبانوں میں فلمیں بننا بہت ضروری ہے، فواد خان
اردو نے اپنے پاؤں اس طرح جمالیے ہیں کہ علاقائی زبانوں میں کچھ بنتا ہی نہیں ،پنجاب کی دھرتی کی اتنی کہانیاں ہیں، ان پر فلمیں بننی چاہئیں، سپر اسٹار

ایکشن سے بھرپور پنجابی فلم دی لیجنڈ آف مولاجٹ کے ذریعے بڑی اسکرین پر واپس آنے والے پاکستانی سپر اسٹار فواد خان نے علاقائی زبانوں میں فلمیں بنانے کو ناگزیر قرار دیدیا۔
فواد خان کی نئی فلم دی لیجنڈ آف مولاجٹ آئندہ ہفتے 13 اکتوبر پاکستان بھر میں ریلیز ہونے جارہی ہے۔
یہ بھی پڑھیے
دی لیجنڈ آف مولا جٹ کے ٹریلر نے پذیرائی کا نیا ریکارڈ بناڈالا
دی لیجنڈ آف مولاجٹ کا ٹریلیر بھارتی فلمساز اور ناقدین کو بھی پسند آگیا
روزنامہ نوائے وقت کو دیے گئے انٹرویو کے دوران مزید پنجابی فلموں میں کام کرنے سے متعلق سوال پر فواد خان نے کہا کہ” مجھے لگتا ہے اور میں نے پہلے بھی یہ بات کہی ہے کہ علاقائی زبانوں میں فلمیں بننا بہت ضروری ہے۔اردو تو ہماری مادری زبان بن چکی ہے اور ہمیشہ رہی ہے لیکن اس نے اپنے پاؤں اس طرح جمالیے ہیں کہ علاقائی زبانوں میں کچھ بنتا ہی نہیں ،پنجاب کی دھرتی کی اتنی کہانیاں ہیں، ان پر فلمیں بننی چاہئیں، ان کہانیوں پر اردو میں بھی فلمیں بن سکتی ہیں لیکن اگر پنجابی زبان میں فلمیں بنیں گی تو زیادہ اچھا رہے گا“۔
Fawad khan .
complete interview
👇🏼https://t.co/bftVyt4AAd pic.twitter.com/ZDwjBATaz6
— Ambreen Fatima (@AmbreenFatimaAA) October 4, 2022
ایک سوال کے جواب میں فواد خان نے پنجابی زبان سمجھ میں نہ آنے کا اعتراف کرتے ہوئے کہاکہ” میری یادداشت بہت کمزور ہے جو میں نے فلم میں الفاظ بولے تھے ،وہ اب بھول چکا ہوں گا،یقیناً فلم دیکھوں گا اور اپنے ڈائیلاگ سنوں گا تو پھر سے ان کے مطلب پوچھوں گا۔مجھے پنجابی بالکل بھی بولنی نہیں آتی،میرے گھر میں بھی کبھی پنجابی بولنے والا ماحول نہیں رہا“۔
مولاجٹ کے کردار کیلیے تیاری سے متعلق سوال پر فواد خان نےقہقہ لگاتے ہوئے کہاکہ ”مولاجٹ تو مجھے لگتا ہے کہ ایک شہزادے کا درجہ مل چکا ہے اور شہزادہ کس طرح چلتا پھرتا ہے ،اس کیلیے کوئی تیاری کرنی ہوتی ہے؟ انہوں نے کہاکہ یہ تو مذاق کی بات ہے لیکن مولاجٹ کے کردار کو کرنے کیلیے میری ریسرچ خاصی محدود تھی“۔
انہوں نے کہاکہ ”مولاجٹ پرانی فلم تھی ، میں نے ساری فلم دیکھی بھی نہیں تھی صرف چند مناظر دیکھ رکھے تھے اور پنجابی چونکہ بولنی نہیں آتی تھی اس لیے کچھ سمجھ بھی نہیں آتی تھی“۔
انہوں نے کہاکہ” کہانی کے حساب سے دیکھیں تو مولاجٹ مختلف دور کی فلم ہے اور دا لیجنڈ آف مولاجٹ آج کے دور کی فلم ہے، جس طرح سے سلطان راہی نے مولاجٹ کے کردار کو کیا تھا اس کو اسطرح کرنا میرے لیے ناممکن تھا، یہی وجہ ہے کہ میں نے اس کردار کو کرنے کیلیے جگاڑ لگائی“۔انہوں نے اعتراف کیا کہ سلطان راہی کے کریڈٹ پر جتنا بہترین کام ہے وہ اس کے قریب بھی نہیں پہنچ سکتے،انہوں نے مولا کے کردارکو جدید دور کے مطابق ڈیولپ کیا ہے۔









