استاد نصرت فتح علی خان تاریخ انسانی کے 200عظیم گلوکاروں میں شامل

امریکی میگزین رولنگ اسٹون نے استاد نصرت فتح علی خان کو 91ویں نمبر پرجگہ دیتے ہوئے انہیں ’شہنشاہ قوالی‘ کہا اور انہیں قوالی کی سلطنت کا آئیکون قرار دیتے ہوئے صدیوں پر محیط ان کےخاندانی ورثے کی تعریف کی۔

امریکی معروف جریدے رولنگ اسٹون نے لیجنڈری پاکستانی گلوکار استاد نصرت فتح علی خان کو تاریخ انسانی کے 200 عظیم ترین گلوکاروں کی فہرست میں شامل کرلیا۔

رولنگ اسٹون نے استاد نصرت فتح علی خان کو 91ویں نمبر پرجگہ دیتے ہوئے انہیں ’شہنشاہ قوالی‘ کہا اور انہیں قوالی کی سلطنت کا آئیکون قرار دیتے ہوئے صدیوں پر محیط ان کےخاندانی ورثے کی تعریف کی۔

یہ بھی پڑھیے

استاد چاہت فتح علی خان کا سُر اور لَے سے عاری نام نہاد ملی نغمہ جاری

بے سُروں کےبادشاہ چاہت فتح علی خان کی سوشل میڈیا پر دھوم

میگزین کے مطابق استاد نصرت فتح علی خان نے  اپنی بے مثل گائیکی سے پوری دنیا میں لوگوں کے دل جیتے اور خصوصی طور پر 80 کی دہائی میں پیٹر گیبریئل کے’ریئل ورلڈ لیبل‘ کیلئے ان کی ریکارڈنگ اور پرفارمنس نے لوگوں کو بہت متاثر کیا۔

امریکی جریدے کے مطابق نصرت فتح علی خان کے مشہور مداحوں میں شہرہ آفاق گلوکارہ میڈونا بھی شامل تھیں جبکہ ایڈی ویڈر نے ’ڈیڈ مین واکنگ‘ کو ان کے ساتھ مل کر گایا۔

مضمون نگار نے مزید لکھا ہے کہ جیف بکلے نصرت فتح علی خان کو ’میرا ایلوس‘ کہتے تھے اور انہوں نے استاد کے ساتھ بہتر طور پر کام کرنے کیلئے اردو زبان بھی سیکھی۔

عظیم ترین گلوکاروں کی فہرست میں انڈیا کی مشہور گلوکارہ لتا منگیشکر نے بھی جگہ پائی ہے اور رولنگ اسٹون نے ان کو ’پلے بیک گلوکاری کی ملکہ‘ اور ’سروں کی ملکہ‘ قرار دیا ہے۔

مضمون میں لکھا گیا ہے کہ نصرت فتح علی خان1996 میں اپنے انتقال سے ایک سال قبل ایک انٹرویو میں کہا تھاکہ”جب میں گاتا ہوں، تو اپنے دل کی گہرائیوں سے گاتا ہوں“۔

واضح رہے کہ استاد نصرت فتح علی خان اگست 1997 میں صرف 48 سال کی عمر میں جگر کے عارضے میں مبتلا ہوکر انتقال کرگئے تھے۔

متعلقہ تحاریر