فلم اسٹارز ہی اصل اسٹار ہیں، ڈرامےوالوں کو اسٹار نہیں سمجھتی، اداکارہ میرا

بھارت میں پرفارمنگ آرٹس کے لوگوں کی پوجا کی جاتی ہے،پاکستان میں اسکا نام و نشان نہیں،ایکٹر نہ ہوتی تو ڈکٹیٹر ہوتی،اداکارہ کا انٹرو

پاکستان فلم انڈسٹری کی معروف اداکارہ میرا نے کہا ہے کہ فلم کے اسٹارز ہی اصل اسٹارز ہیں، ڈرامےوالوں کو اسٹار نہیں سمجھتی، انہیں ڈکٹیٹ مت کریں، انہیں مت سکھائیں،آپ ان سے سیکھیں، ان کی عزت کریں اور ان کے تابع رہیں۔

اداکارہ کا کہنا ہے کہ بھارت میں پرفارمنگ آرٹس کے لوگوں کی پوجا کی جاتی ہے،پاکستان میں اسکا نام و نشان نہیں،ایکٹر نہ ہوتی تو ڈکٹیٹر ہوتی۔

یہ بھی پڑھیے

شادی زندگی کا خوبصورت تعلق ہے لیکن اسے زندگی نہیں بنالینا چاہیے، سجل علی

بچوں سے ملاقات نہ ہوسکی، اداکار فیروز خان کا ہار ماننے سے انکار

معروف کامیڈین اور گلوکارعلی آفتاب سعید کو انٹرویودیتے ہوئے میرا   خلاف معمول کافی فلسفیانہ گفتگو کرتے ہوئے نظرآئیں۔

پاکستان اور بھارت کی فلم انڈسٹری میں فرق سے متعلق سوال پر انہوں نے کہا کہ”سب سے بڑا فرق تو یہ ہے کہ وہاں فلمیں زیادہ بنتی ہیں،پروفیشنل ازم زیادہ ہے،یہ بات تو اپنی جگہ ہے لیکن  سب سے مختصر اور سب سے بڑی بات جو پاکستان میں کسی کو سمجھ نہیں آتی وہ یہ ہے کہ  وہاں پرفارمنگ آرٹس کے لوگوں کی پوجا کی جاتی ہے، ان کو عزت کی نگاہ سے دیکھاجاتا ہے، لوگ ان کی عزت کرتے ہیں اور پاکستان میں اس کا نام و نشا ن بھی نہیں ملتا“۔

میزبان علی آفتاب سعید نے سوال کیا کہ انڈیا کی فنکارائیں اپنی ثقافت سے بہت زیادہ جڑی رہتی ہیں، اپنی گفتگومیں ہندی کے بھاری بھاری الفاظ استعمال کرتی ہیں لیکن آپ کی گفتگو میں انگریزی کا استعمال زیادہ    ہوتا ہے،اسکی کیا وجہ ہے؟

میرا نے کہا کہ”میں سب سے پہلے اردوفنکارہ ہوں، پاکستان سے میرا  تعلق ہے،میں پاکستانی ہوں اور مجھے پاکستانی ہونے پر فخر ہے، میں اردو بولنے والی ہوں،مجھے اپنی اردو زبان پر فخر ہے،میں اردوکی کتابیں پڑھتی ہوں، میں پنجابی سیکھ رہی ہوں، میں سمجھتی ہوں کہ اتنی فلموں میں کام کرنے کے باوجود میری پنجابی ٹھیک نہیں ہے،میں نے پشتو فلمیں کی ہیں، تو اگر میں کوئی زبان سیکھ رہی ہوں تو سیکھتی رہوں گی،اگرآپ مجھ سے اردو میں سوال کریں گے تو میں اردو میں جواب دوں گی اور اگر آپ مجھ سے انگریزی میں سوال کریں گے تو میں انگریزی میں جواب دوں گی۔

انہوں نے کہاکہ وہ پاکستان اور امریکا کا سفیر بننا پسند کریں گی،پرفارمنگ آرٹس کے لوگوں کیلیے وہ سیاست میں آئیں گی لیکن اس کے علاوہ ان کا سیاست میں آنے کا کوئی ارادہ نہیں لیکن   کیونکہ پرفارمنگ آرٹس کےلوگوں کو وہ   پاکستان میں مرتے ہوئے دیکھ رہی ہیں، نہ پرفارمنگ آرٹس کے لوگوں کی قدر ہے نہ قیمت ہے، یہ لوگ بہت معصوم ہوتے ہیں،ان کوپیسے کمانا نہیں آتے، انہیں سونا بنانا نہیں آتا، انہیں محلات بنانا نہیں آتے،ان کیلیے ضرورسیاست میں آئیں گی۔

انہوں نے کہاکہ اگر وہ ایکٹر نہ ہوتیں تو ڈکٹیٹر ہوتیں، کسی کمپنی کی سی ای او یا ڈائریکٹر ہوتیں۔انہوں نے کہا کہ جو لباس پہن کر وہ پراعتماد محسوس کرتی ہیں اسی کو اپنا فیشن تصور کرتی ہیں،اعتماد ہی آپ کا لباس ہوتا ہے، جو کپڑے آپ کی شخصیت سے مطابقت رکھتے ہوں اور جنہیںن پہناآپ کیلیے آسان ہوایسے کپڑے پہننے چاہئیں۔انہوں نے کہاکہ”میرے لیے وہی فیشن ہے، جس میں آپ پرسکون رہیں، آپ کی ذہنی حالت پرسکون رہے،آپ کو ذہنی دباؤنہ ملے“۔

اداکارہ میرا نے کہاکہ”فلم کے اسٹارز ہی اصل اسٹارز ہیں،آپ ان سے مقابلہ نہیں کرسکتے، آپ ان سےسیکھیں،ان کی عزت کریں،انہیں ڈکٹیٹ مت کریں، انہیں مت سکھائیں،آپ ان سے سیکھیں، ان کی عزت کریں اور ان کے تابع رہیں“۔

انہوں نے کہاکہ ٹیلی وژن ایک مختلف میڈیم ہے، ٹی وی کے لوگ اسٹارز نہیں ہیں، میں انہیں اسٹارز نہیں سمجھتی، وہ اداکار ہیں جو کام کرتے ہیں لیکن فلم کے لوگوں کے پاس بہت علم ہے اور انہیں سب کچھ آتا ہے، فلم بنانے والے ہی اصل اسٹارز ہیں۔

انڈسٹری میں دوستوں سے متعلق سوال پر میرا نے کہاکہ ”جب آپ کسی انڈسٹری ،کسی ملک یا کسی مقصدکیلیے کام کرتے ہیں تو آپ کا مقصد آپ کا دوست ہوتا ہے اور اس مقصد کیلیے کام کرنے والے آپ کے دوست ہوتے ہیں“۔

اگلی فلم سے متعلق سوال پر انہوں نے کہاکہ”میری اگلی فلم انشااللہ اسی سال آئے گی، میں نے کام سے خود وقفہ لیا ہے، ورنہ میرے پاس بھارت سے بہت پیشکشیں تھیں، کراچی کے بہت سے ہدایت کاروں نے مجھ سے رابطہ کیا تھا لیکن مجھے وقفے کی ضرورت تھی اس لیے خود وقفہ لیا“۔

متعلقہ تحاریر