شخصیات کے سیاسی کردار پر بات کی جائے تو غدار قرار دیا جاتا ہے، عبداللہ سلطان

اداروں کو بدنام کرنے کی سازش کا الزام لگتا ہے، اینکرپرسن کا فواد چوہدری کی ٹویٹ پر ردعمل

شخصیات کے سیاسی کردار پر بات کرنے پر غدار قرار دیا جاتا ہے، اداروں کو بدنام کرنے کی سازش کا الزام لگتا ہے، ان خیالات کا اظہار نجی ٹی وی کے معروف اینکرپرسن عبداللہ سلطان نے وفاقی وزیر فواد چوہدری کی ٹویٹ پر ردعمل دیتے ہوئے کیا۔

وفاقی وزیر اطلاعات فواد چوہدری نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر لکھا کہ “الیکشن کمیشن کا احترام اپنی جگہ لیکن شخصیات کے سیاسی کردار پر بات کرنا پسند نہیں تو اپنا کنڈکٹ غیرسیاسی رکھیں، شخصیات غلطیوں سے مبرا نہیں، تنقید شخصیات کے کنڈکٹ پر ہوتی ہے ادارے پر نہیں”۔

وفاقی وزیر کی مذکورہ ٹویٹ پر نجی ٹی وی کے معروف اینکرپرسن عبداللہ سلطان نے جواب دیتے ہوئے کہا کہ “یہی بات ہے، لیکن جب کوئی اور شخصیات کے سیاسی کردار کو ہدفِ تنقید بنائے تو اُسے اداروں پر تنقید جان کر غدار اور اداروں کوبدنام کرنےکی سازش قراردیاجاتاہے۔”

الیکشن کمیشن کی جانب سے وفاقی وزرا کوجواب جمع کروانے کیلیے کسی تاریخ کااعلان نہیں کیاگیا۔

یہ بھی پڑھیے

ابصار عالم اور رؤف کلاسرا ٹوئٹر پر مادر پدر آزاد صحافت کرتےہوئے

واضح رہے کہ چند ماہ پہلے اسدطورپرنامعلوم  ملزمان  کےتشددکےبعدان سے اظہاریکجہتی کیلیےاحتجاجی مظاہرہ کیاگیا تھا جہاں صحافی حامدمیرکوایک متنازع تقریر کرنےپراپنی ملازمت سےہاتھ دھوناپڑے۔انہوں نے اپنی تقریرمیں کہاکہ”اسدطورپرالزام لگایا گیاکہ وہ بیرون ملک سیاسی پناہ لینا چاہتا ہے،اسدنےتوسیاسی پناہ نہیں لی،تمہارےباپ  پرویزمشرف نےسیاسی پناہ حاصل کی جوچوہے کی طرح اس ملک کوچھوڑکربھاگ گیا”۔

سابق وزیراعظم نوازشریف نےگزشتہ برس حکومت مخالف اتحاد پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ کے  گوجرانوالہ میں منعقدہ جلسےمیں فوج کے سیاست میں کردارپربات کی تھی۔ انہوں نے اعلیٰ فوجی قیادت پرسیاست میں ملوث ہونےکاشکوہ کیاتھا۔

سربراہ مسلم لیگ (ن) کی تقریرکےبعدملک میں ایک دفعہ پھریہ بات موضوعِ بحث بنی کہ کیاریاستی ادارے براہ راست سیاسی معاملات میں مداخلت کررہے ہیں اور قومی رہنماؤں کےپاس اپنے ان الزامات کے دفاع میں کوئی ثبوت بھی ہیں یایہ بھی صرف سیاسی بیان ہیں۔

Facebook Comments Box