وفاقی بجٹ غیرحقیقی مفروضوں پر مبنی، عمران خان کی حکومت پر تنقید

پی ٹی آئی کے چیئرمین اور سابق وزیراعظم عمران خان نے تنقید کرتے ہوئے کہا کہ وفاقی بجٹ مہنگائی اور معاشی شرح نمو کے حوالے سے غیر حقیقی مفروضوں پر مبنی ہے۔

اسلام آباد: پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے چیئرمین اور سابق وزیراعظم عمران خان نے تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ مالی سال 2022-23 کا وفاقی بجٹ مہنگائی اور معاشی شرح نمو کے حوالے سے غیرحقیقی مفروضوں پر مبنی تھا۔

چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان نے سماجی رابطوں کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر پیغام شیئر کرتے ہوئے لکھا ہے کہ "ہم امپورٹڈ حکومت کی جانب سے پیش کردہ عوام دشمن اور کاروبار دشمن بجٹ کو مسترد کرتے ہیں۔”

یہ بھی پڑھیے

پی ٹی آئی کی مقبولیت نے ن لیگ اور پی پی کو ملکر الیکشن لڑنے پر مجبور کردیا

انہوں نے مزید لکھا ہے کہ "بجٹ میں افراط زر کی شرح 11.5 فیصد ظاہر کی گئی ہے جبکہ معاشی شرح نمو 5 فیصد ظاہر کی گئی جو حقائق کے منافی ہے، پی ایس آئی کے مطابق موجودہ مہنگائی کی شرح 24 فیصد ہے جو بڑھ کر 25 سے 30 فیصد تک پہنچ جائے گی، جو ایک عام آدمی کو تباہ کر کے رکھ دےگی۔”

سابق وزیراعظم عمران خان نے ٹوئٹر پر جاتے ہوئے مزید لکھا ہے کہ "اور دوسری جانب شرح سود بڑھانے کی وجہ سے معاشی ترقی رک جائے گی ، ہماری تمام ترقی پسند ٹیکس اصلاحات اور غریبوں کے حامی پروگرام جیسے کہ صحت کارڈ اور کامیاب پاکستان پروگرام کو بند کیا جارہا ہے۔ یہ ایک غیر تصوراتی، پرانا پاکستان بجٹ ہے جو عوام کے لیے مزید بوجھ اور مشکلات لے کر آئے گا۔”

وفاقی بجٹ برائے مالی سال 2022-23

پاکستان مسلم لیگ نواز (پی ایم ایل این) کی حکومت نے گزشتہ روز قومی اسمبلی میں 9502 ارب روپے کا بجٹ پیش کیا۔ بجٹ کا 58 فیصد دفاع اور قرضوں اور سود کی ادائیگی کے لیے مختص کیا گیا ہے۔ یعنی بجٹ کا صرف 42% پاکستان کی ترقی اور خوشحالی پر خرچ ہو گا۔

آئندہ مالی سال 2022-23 کا بجٹ وزیر خزانہ مفتاح اسماعیل نے پیش کیا جس میں دفاع کے لیے 1523 روپے مختص کیے گئے ہیں جب کہ قرضوں اور سود کی ادائیگی کے لیے 3950 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں۔

اندرونی قرضوں کی ادائیگی کے لیے 3439 ارب روپے اور غیر ملکی قرضوں کی ادائیگی کے لیے 511 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں۔

بجٹ 2022-23 میں دفاع کے لیے 1523 ارب روپے مختص کرنے کی تجویز ہے۔

1523 ارب روپے میں سے پاک فوج کے لیے 724 ارب روپے، پاک فضائیہ کے لیے 323.71 ارب روپے اور پاک بحریہ کے لیے 165 ارب روپے مختص کرنے کی سفارش کی گئی۔

معاشی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ بجٹ کا بڑا حصہ قرضوں اور سود کی ادائیگیوں اور دفاع پر خرچ کیا جائے گا، بقیہ 42 فیصد پاکستانیوں کی ترقی اور خوشحالی کے لیے چھوڑ دیا گیا ہے جو پہلے ہی مہنگائی اور پے در پے بحرانوں کا سامنا کر رہے ہیں۔

ان کا کہنا ہے کہ حکومت نے رمضان پیکج کے لیے 5 ارب روپے اور یوٹیلیٹی اسٹورز کارپوریشن (یو ایس سی) کے لیے 12 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں جس کا مطلب ہے کہ کل 17 ارب روپے 220 ملین شہریوں میں تقسیم کیے جائیں گے اور ہر شہری کو سالانہ 77 روپے کی سبسڈی ملے گی۔

تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام (BISP) کے لیے 293 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں۔

متعلقہ تحاریر