پاکستان میں میڈیا،حکومتوں اور اداروں پر چندسیٹھ غلبہ حاصل کررہے ہیں، فواد چوہدری

سیٹھوں کا یہ گروپ میڈیا کو کنٹرول اور سنسر کرنے کے لیے اپنے دوسرے کاروباروں کا  استعمال کر رہا ہے، فواد چوہدری کا بھارتی میڈیا سے متعلق رپورٹ پرتبصرہ

پاکستان تحریک انصاف کے رہنما فواد چوہدری نے دعویٰ کیا کہ پاکستان میں  سیٹھوں کا ایک گروپ میڈیا ہاؤسز، حکومتوں اور طاقتور اداروں پر غلبہ حاصل کررہا ہے اور  میڈیا کو کنٹرول  اور سنسر کرنے کے لیے اپنے دوسرے کاروباروں کا  استعمال کر رہا ہے ۔

ان خیالات کااظہار فواد چوہدری نے بھارتی میڈیا کی ایک رپورٹ پر تبصرہ کرتے ہوئے کیا۔ جس میں کہا گیا ہے کہ” جنوری 2016 تک مکیش امبانی، مہندرا  ناہاتا اور ابھے اوسوال کا پانچ میڈیا  اداروں این ڈی ٹی وی،نیوز نیشن،انڈیا ٹی وی ، نیوز24 اور نیٹ ورک 18 پر 20 سے 70 فیصد سے زیادہ کنٹرول تھا۔ یہ اس ملک میں اظہار رائے کی آزادی کے لیے تشویش کا باعث ہے ۔“

یہ بھی پڑھیے

نواز، شہباز اور زرداری اپنی آدھی دولت ملک میں لے آئیں قرضے کی ضرورت نہیں پڑے، عمران خان

چیئرمین پی ٹی آئی کی تیسری ٹیلی تھون: 1389 کروڑ روپے موصول

فواد چوہدری نے اس ٹوئٹ پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان میں صورتحال اس  سے بھی زیادہ خراب ہےجہاں   سیٹھوں کا ایک گروپ میڈیا ہاؤسز،   حکومتوں اور طاقتور اداروں پر غلبہ حاصل کررہا ہے اور  میڈیا کو کنٹرول  اور سنسر کرنے کے لیے اپنے دوسرے کاروباروں کا  استعمال کر رہا ہے۔

2016 کی رپورٹ میں انکشاف کیا گیا تھاکہ وزارت کارپوریٹ امور میں کمپنیوں کے رجسٹرار کے پاس فائلنگ سے یہ بات سامنے آئی ہے کہ5بھارتی نیوز میڈیا کمپنیاں  جن میں  این ڈی ٹی وی، نیوز نیشن، انڈیا ٹی وی، نیوز 24 اور نیٹ ورک 18 شامل ہیں، یا تو سب سے امیر بھارتی تاجر  مکیش امبانی کی مقروض ہیں یا  ریلائنس انڈسٹریز کے مالک، یا  امبانی کے ساتھی اور  ریلائنس کے نئے ٹیلی کام وینچر ریلائنس جیو کے بورڈکے رکن مہندر ناہٹا کی مقروض ہیں۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ امبانی، ناہٹا اور صنعت کار ابھے اوسوال نے   قرضوں اور سرمایہ کاری کے ذریعے پانچ میڈیا کمپنیوں کو فنڈز دیے ہیں جو دسیوں سے لے کر سیکڑوں کروڑ روپے تک ہیں۔اس  نتیجے کے طور پر، ان میڈیا نیٹ ورکس پر تین تاجروں کا 20 سے 70 فیصد تک  کنٹرول ہے ۔ یہ اس ملک میں اظہار رائے کی آزادی کے لیے تشویش کا باعث ہے۔ معاملات کی حالت اجارہ داری کے طریقوں کے بارے میں بھی سوالات اٹھاتی ہے جو ہندوستان کے مسابقتی قوانین سے متصادم ہو سکتی ہے۔

تجزیہ کاروں کا کہنا تھا کہ فواد چوہدری نے اس حقیقت کو اجاگر کیا کہ کئی بااثر کاروباری شخصیات نے قومی مسائل کو صحیح معنوں میں اجاگر کرنے کے بجائے اپنے ذاتی مفادات کے لیے میڈیا ہاؤسز کی ملکیت حاصل کی ہے۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ پاکستان میں میڈیا سنسرشپ کی بھی حوصلہ افزائی کی جا رہی ہے کہ میڈیا ہاؤسز کو اپنے ذاتی فائدے کے اوزار کے طور پر استعمال کرنے پر کاروباری شخصیات کو جوابدہ نہ بنایا جائے۔

متعلقہ تحاریر